27 فروری: میری اداس نسل کے مسکرانے کو اِک بہانہ ہے!
27 فروری کو ملک میں ’یومِ عزم‘ منایا گیا ہے۔ پچھلے سال اسی دن ہم نے بھارتی طیارے مار گرائے اور ان میں سے ایک کے پائلٹ کو گرفتار کیا۔ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اس دن جشن منانے کا کوئی جواز ہے بھی کہ نہیں! میں کہ اس باب میں سنجیدہ روّیوں کے حق میں ہوں، ’یومِ عزم‘ کی صورت مگر چار عشروں کی قومی اداسی سے نکلنے کے لئے تنکے کا سہارا ڈھونڈتا ہوں۔
چار عشرے قبل جو زہریلے کانٹے ہم نے بوئے، ان کا پھل ایک نسل نے کاٹا۔ اسّی کے عشرے میں کہ ہم جیسوں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا توافغان جہاد کا دور دورہ تھا۔ دُور پاس سے لشکر دندنا تے چلے آرہے تھے۔ اپنے ہاں اسلام کا تازہ تازہ نفاذ ہوا تھا۔ دسویں جماعت میں میں نے منڈھی مونچھوں، لمبی داڑھی اور ٹخنوں سے اوپر کھنچی شلواروالے سر سرور سے اپنے ہاتھوں پر تڑاک تڑاک بید کھائے تھے۔ ظہر کی نماز کے سرکاری وقفے میں ہم مسجد کی بجائے سکول کے گراؤنڈ میں کرکٹ کھیلتے پائے گئے تھے۔
کالج پہنچے تو نیکو کاروں کی جماعت سے واسطہ پڑا کہ جس کو سرکاری سرپرستی دستیاب تھی۔ سائینس کالج کے آڈیٹوریم میں ایک عام معاشرتی سوال پر مباحثہ تھا۔ کالج کی سٹوڈنٹس یونین سے وابستہ کسی ایک کو روسٹرم ملا تو موضوع سے ہٹ کر فلسطین اور کشمیر میں جہاد کی فرضیت کو لے کر حاضرین کا لہو گرمانے لگے۔ صدر مجلس کے ہاتھوں میں سکت نہ تھی کہ باریش مقررکے لئے گھنٹی بجاتے۔ ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا۔ پنجاب یونیورسٹی سے ہمارے کالج کی سٹوڈنٹس یونین کے عہدے داروں کو کمک آتی تھی۔ ہم جیسوں نے ’بلیک ایگلز‘ جیسی تنظیموں میں عافیت پائی۔ بھلا ہوا کہ فوج نے جلد ہی اپنے پروں میں لے لیا۔
پاکستان آرمی میں کمیشن ملا تو ’اسلامائزیشن‘ کے اثرات فوج کی صفوں میں بھی اتر چکے تھے۔ فوجی افسروں کو مولانا مودودی کی تصنیفات سروسز بک کلب سے تقریباً مفت فراہم کی جا رہی تھیں۔ ہمارے ایک کمپنی کمانڈر صبح سویرے پی ٹی پیریڈ کے فوراً بعد نوجوان افسروں کو لے کر ٹی بار میں بیٹھ جاتے۔ ناشتے کو ترستے نوجوان افسروں کے لئے درسِ قرآن کے دس منٹ بہت بھاری پڑتے۔ شلوار قمیص سرکاری لباس بن چکا تھا۔ اداکارہ نویں تاجک کے والد کرنل تاجک کا سٹور کوئٹہ کی جناح روڈ پر مگراب بھی آباد اور سرِشام کھلتا تھا۔
کوئٹہ کلب میں ویک اینڈ پر ’تنبولا نائٹ‘ میں لفٹین شور مچاتے، ’کیپٹن صفدروانٹڈ، کیپٹن صفدر وانٹڈ‘ ۔ کلب کے سیکریٹری کہ جو خود ایک ریٹائیرڈ کرنل تھے، کیپٹن صفدر سے بوجوہ بیزار رہتے۔ شاندار پیشہ وارانہ ریکارڈ کے حامل، خوبرو کپتان صاحب تنبولا کھلاتے ہوئے 66 کے ہندسے کو ’سیکسٹی سیکس‘ بولتے۔ جینز اور جاگرز پہنتے۔ مزدہ سپورٹس کارچلاتے۔ ظہر کی نماز کی سرکاری ادائیگی کے سوال پر ایک روز اپنے کمانڈنگ افسر سے الجھ پڑے۔ کچھ ماہ گزرے تو فوج چھوڑ کر امریکہ منتقل ہوگئے۔
یادش بخیراسی دور میں کوئٹہ کلب کے لان میں ایک محفلِ موسیقی کا انعقاد ہوا۔ انور مقصود، محمد علی شہکی اورایک معروف غزل گو فنکار کہ نام جن کا مجھے اب یاد نہیں، پرفارم کرنے کو آئے۔ پھر ہوا کچھ یوں کہ محمد علی شہکی کے گانوں پر سٹیج کے سامنے اودھم مچانے والے لفٹین اگلی نشستوں پر تشریف فرما کور کمانڈر صاحب کو ناگوار گزرے۔ حکم ہوا کہ محمد علی شہکی کو ہٹا کر معروف فنکارسے غزلیں سنانے کو کہا جائے۔ لفٹینوں نے کچھ سیٹیاں بجائیں تو ایک اور حکم آیا کہ شور مچانے والوں کا فوری طور پر ’میڈیکل‘ کروایا جائے۔
ملٹری پولیس والے حرکت میں آئے تو احتجاجی لفٹین تتر بتر ہوگئے۔ خدا لگتی کہوں توہمیں نہیں معلوم اس کے بعد محمد علی شہکی اور انور مقصود صاحب کے ساتھ کیا بیتی، البتہ بعد ازاں یہ ضرور سننے میں آیا کہ رات گئے تک معروف غزل گو فنکار کور کمانڈر صاحب اور ان کے دیگرساتھیوں کے سامنے یہ مسئلہ بیان کرتے اور مسلسل سوال کرتے پائے گئے تھے کہ شاعر نے جو نئے کپڑے سلوا رکھے ہیں، ایک شخص کے شہر سے کوچ کر جانے کے بعد ان کو پہن کر اب وہ غریب کہاں جائے!
صاحبو! اداسی کے اس دور میں مرد حضرات سے غزلیں سننا اور ٹی وی پر اشفاق احمد صاحب کے ڈرامے دیکھنا ہی فنونِ لطیفہ ٹھہرا تھا۔ اچھل کود کو برا جانا جاتا تھا۔ نوجوانوں کا کوئی گروہ ایسی کسی جسارت کی کوشش کرتا تو یونیورسٹیوں سے نیکو کاروں کے جتھے آتے اور فنکاروں کی دھنائی پورے مذہبی اخلاص سے کرتے۔ انہی دنوں قذافی سٹیڈیم میں ایک میوزیکل شو کا اعلان کیا گیا کہ جس میں نامور بھارتی فلم سٹاروں کی آمد بھی متوقع تھی۔
پروگرام کی ایک ریہرسل کے دوران پنجاب یونیورسٹی سے طالب علم آئے اور آلاتِ موسیقی توڑ پھوڑ کر چلتے بنے۔ بھارتیوں نے کھڑے کھڑے معذرت کر لی۔ اپنے شعیب منصور نے ’میوزک 89‘ کے نام سے پی ٹی وی پر نوجوانوں کا مخلوط پروگرام کیا تو علماء کرام کے علاوہ ثقہ حضرات نے بھی اچھا خاصا برا منایا تھا۔ زیادہ اعتراض نوجوان تماشائیوں کے اچھلنے کودنے پر تھا۔
1988 ء میں جنرل ضیاء الحق کی شہادت کی خبر ملی تو ہم گرمائی مشقوں کے لئے کوئٹہ کے نواح میں کیمپ لگائے بیٹھے تھے۔ مرحوم صدر کے رقت آمیزجنازے کو ہم نے ٹی وی پر براہِ راست دیکھا۔ سب سے پہلے ہمارے بریگیڈ کمانڈر اور پھر ہم سب مل کرخوب روئے تھے۔ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں پڑتا کہ میں کیوں رویا تھا! خدا جنرل ضیاء الحق کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ محض ایک فرد نے چند سالوں کے اندر پاکستان کا چہرہ اور فوج سمیت پورے معاشرے کی بود وباش کو بدل کر رکھ دیا تھا۔
جنرل ضیاء کے بعد ہم پر بیتنے والے برسوں کی داستاں، ابھی کل کی بات ہے۔ صدی کے پلٹتے پلٹتے تاریکی کے ہرکارے ہماری گلیوں میں پوری طرح اتر چکے تھے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ان عسکری جتھوں کو سرکاری سرپرستی اور ایجنسیوں کی چھتری دستیاب تھی۔ لیکن ان جتھوں کی فکری آبیاری جن فیکٹریوں میں ہوتی تھی ان کا نام لیتے ہوئے ہم اب بھی ججھکتے ہیں۔ گزرتے برسوں پاکستان عالمی تنہائی کی راہ پر اترتا چلاگیا، مگر ہم کہ ایک ایسے بھینسے پر سوار تھے کہ جس پر سے اترنا اب اس قدر آسان نہیں رہا تھا۔ ہمارے کھیلوں کے میدان ویران ہو گئے۔ گلیوں اور بازاروں میں دہشت گردی کا عفریت پھن پھیلائے پورے قد سے پھنکارتا رہا۔ ایک نسل بارود، دھماکوں اور تاریکی کے دور میں پل کر جوان ہوئی۔ میری عمر کے پاکستانی اُسی اُداس نسل کا حصہ ہیں!
پاکستان نے اپنی فاش غلطیوں کی پوری قیمت چکائی ہے۔ جنرل مشرف کے زمانے تک ہم کشمیر پر اپنا اخلاقی مقدمہ ہار چکے تھے۔ دنیا اب کشمیر کی آزادی نہیں بلکہ دہشت گردی پر بات کر رہی تھی۔ بھارت ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا۔ امریکی ہم پر دوغلے پن کا الزام دھرتے تو وہیں افغانستان اور ایران تک ہمیں آنکھیں دکھا تے پھرتے۔ حکومت اور ادارے باہم برسرپیکار رہتے۔ اس دوران پاکستان کی معیشت اندر سے کھوکھلی ہو کر رہ گئی۔ اپنے ہاں سے مایوس، جس کا بس چلتا، وہ اپنے بچوں کو پال پوس کر مغربی معاشروں میں دوسرے درجے کی زندگی جینے کو بھیجنے میں ہی عافیت دیکھتا۔
چار عشروں کی اداسی کے بعد مگر میں مستقبل میں ابھرتے امکانات کو دیکھ رہا ہوں۔ پاکستان کی تنہائی ختم ہورہی ہے۔ ’ٹیررازم‘ اب ’ٹور ازم‘ میں بدل رہا ہے۔ امریکی صدر بھارت میں لاکھوں انتہا پسندوں کے سامنے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے پر مجبور ہے۔ منتخب حکومت اور ادارے ہم آواز ہیں۔ کرکٹ اپنے گھر کو لوٹ آئی ہے۔ تاریکی کے سائے سمٹ رہے ہیں۔ دہشت گرد پڑے اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔
مسافت اگرچہ ابھی کھٹن اور بہت باقی ہے۔ راستہ مگر درست چن لیا جائے تو منزل بالآخر مل ہی جاتی ہے۔
قومی نشان، جھنڈے اوریادگاری اّیام کی حیثیت محض تماثیل کی سی ہوتی ہے۔ 27 فروری کے دن کی اہمیت بھی بس اسی قدر ہے کہ یہ مایوسی کے تاریک گھڑے سے ابھرتی ایک ایسی قوم کے مسکرانے کو محض ایک بہانہ ہے کہ جس کی ایک پوری نسل نے زندگی اداسی میں بسر کی ہو۔


