عورت مارچ کا ملک دشمن ایجنڈا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ملک میں ہر نئی چیز، شخص اور تحریک کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معاشرے کی اکثریت اس نئے شخص، چیز اور شعبے کے حوالے سے بغیر علم و تجربے کے رائے زنی کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد جب وہی شخص، چیز اور تحریک معاشرے کے لئے فائدہ مند ثابت ہوجاتی ہے تو وہیں اعتراض کرنے والے اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کی رٹ لگا کر اپنے پچھلے موقف پر پشیماں نظر آتے ہیں۔ پچھلے دنوں سماء نیوز چینل پر ایک ٹکر نظر سے گزرا۔ جس میں اظہر صدیق نامی ایک شخص کا موقف دیا گیا تھا جس میں وہ ببانگ دہل اور بنا ثبوت و دلائل کے عورت مارچ کے پیچھے پی ٹی ایم کے ہونے کا دعویٰ کر رہے تھے تو وہیں متعلقہ مارچ کے انعقاد کو ملک دشمن ایجنڈے کا حصہ بھی کہہ رہے تھے۔

اسی طرح لاہور ہائیکورٹ میں عورت مارچ پر پابندی کی درخواست بھی دی گئی تھی۔ متعلقہ درخواست کو عدالت نے جمہوری روایات کے خلاف قرار دیا اور عورت مارچ کے انعقاد کو آزادی اظہارِ خیال کے آئینی تقاضے کے مطابق قرار دیا۔ یوں عدالتی اجازت سے آٹھ مارچ کو ملک دشمن ایجنڈا عورت مارچ کی صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔

عورت مارچ کا پس منظر یہ ہے کہ 1917 میں سوویت روس میں خواتین کو ووٹ کا حق ملنے کے وجہ سے وہاں 8 مارچ کو قومی تعطیل ہونے لگی۔ وہاں سوشلسٹ مہم کے تحت اسے باقاعدہ ہر سال منایا جانے لگا۔ اس دن کی اہمیت کے پیش نظر 1975 میں اقوامِ متحدہ نے بھی اس دن کو عورت کے عالمی دن کے طور پر منانا شروع کر دیا۔ کئی ممالک میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر عام تعطیل ہوتی ہے۔ کئی ملکوں میں عورتوں کو حقوق بنیادی اور یکساں حقوق حاصل نہ ہونے کے باعث خواتین کا عالمی دن احتجاج کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے جب کہ ہر طرح سے خوشحال ممالک میں اس دن نسوانیت کا جشن منایا جاتا ہے۔

پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ ملک کی باون فیصد آبادی خواتین کی ہے اور اکثریت میں ہونے کے باوجود پاکستانی عورتوں کی حالت اور حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ اکیسویں صدی کے بیسویں سال میں بھی خواتین کے عالمی دن کے موقع پر انہیں اظہار رائے اور اظہار خیال کی اجازت بہ مشکل دی جاتی ہے۔ جہاں مذہبی سیاسی جماعتیں کھلم کھلا عورت مارچ کے خلاف اپنی توانائی صرف کرتی نظر آتی ہیں تو وہیں قوم پرست، لبرل اور ترقی پسند قوتیں عورت مارچ کے حوالے سے خاموش رہ کر اخلاقی اور سیاسی فائدہ مذہبی گروہوں کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔

عمومی طور پر دیکھا جائے تو عورت مارچ میں سرمایہ دار طبقے یعنی اپر کلاس کی خواتین ہی شرکت کرتی ہیں۔ پچھلے سال کے عورت مارچ میں جہاں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے مثبت بحث و مباحثہ ہوا۔ عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے موجودہ قوانین پر عمل اور نئے قوانین بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ ہر لحاظ سے عورت مارچ مثالی تھا لیکن سیاست اور فکروتدبر سے عاری چند عورتوں نے عورت مارچ میں غیر سیاسی اور غیر تہذیب یافتہ رویہ اپنا کر مارچ کے تقدس اور مارچ کی روح کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچایا۔

اسی طرح پچھلے سال کے عورت مارچ میں بیشتر عورتوں نے عمومی زندگی میں مردوں کی جانب سے روا رکھے جانے والے امتیازی رویے پر تنقیدی نشتر چلائے تھے۔ جن میں مردوں کی جانب سے بار بار خواتین کو صحیح طریقے سے بیٹھنے کی تلقین پر اعتراض کیا گیا تھا۔ عورت کے ساتھ اس کی مرضی کے برخلاف جنسی خواہش پوری کرنے پر اعتراض کیا گیا تھا۔ اسی طرح مرد ذات کی جانب سے عورتوں کو روزانہ کی بنیاد پر کھانا گرم کرنے کے احکامات پر شدید ردعمل دکھایا گیا تھا۔

اس سال بھی عورت مارچ ہونے جا رہا ہے۔ عورت مارچ کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ زندگی کے ہر شعبے کے ساتھ ساتھ ہر فیصلہ ساز ادارے میں عورتوں کو مردوں کے برابر حصہ اور شراکت دی جائے۔ ریاستی سرپرستی میں پدر شاہی معاشرے میں مردوں کی جانب سے روا رکھے جانے والے رویوں پر نظرثانی کی جائے۔ عورتوں کو ذاتی ملکیت سمجھنے کی بجائے ان کے احساسات، جذبات اور خواہشات کا احترام کیا جائے۔ عورت کو گھر میں گائے کی طرح باندھنے کی بجائے اسے زندگی جینے کا بنیادی حق دیا جائے۔

چونکہ عورتیں ہماری مائیں بھی ہیں، بہنیں بھی ہیں، ساتھی بھی ہیں اور ہم جماعت بھی ہیں۔ عورت مارچ میں شرکت کرنے والی عورتوں کی جو جدوجہد ہے وہ ہم سب کی بھی جد و جہد ہے۔ اگر عورت آزاد نہیں تو ہم کیسے آزاد ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ عورتوں کے تحفظات کو سمجھیں اور عورتوں کے حقوق پر سمجھوتہ نہ کرتے ہوئے انہیں اپنی زندگی آزادانہ طور سے جینے دیں۔ آخر میں عورت کے استحصال پر لکھی گئی ساحر لدھیانوی کی کم و بیش ستر سال پہلے کی نظم پڑھتے چلیں۔

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا

تلتی ہے کہیں دیناروں میں بکتی ہے کہیں بازاروں میں

ننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میں

یہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹ جاتی ہے عزت داروں میں

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

مردوں کے لئے ہر ظلم روا عورت کے لیے رونا بھی خطا

مردوں کے لئے ہر عیش کا حق عورت کے لیے جینا بھی سزا

مردوں کے لئے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس ایک چتا

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *