میں عورت مارچ کی حمایت کیوں کرتا ہوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے برس جو غوغا عورت مارچ کے بعد مچا تھا اس برس پہلے ہی آ موجود ہوا ہے، کوئی ٹی وی پر تنقید کر رہا ہے تو کوئی اخبارات میں، کوئی سوشل میڈیا پر اپنے ہراساں کیے جانے کی بات کر رہا ہے تو کوئی عورت مارچ رکوانے کے لیے عدالت کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے،

سوال یہ ہے کہ مجھے بطور مرد ایک مضبوط عورت سے مسئلہ کیا ہے؟ کیوں میں ایک ذہنی، معاشرتی اور معاشی طور پر اپنے بل بوتے پر کھڑی عورت کو دیکھنا نہیں چاہتا؟

پچھلے برس کچھ پلے کارڈز ایسے تھے جن کو زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جن میں ایک تھا، ”لو بیٹھ گئی صحیح سے“ میں جس معاشرے میں پلا بڑھا ہوں میں جانتا ہوں کہ بچیوں کو ابتدا سے بیٹھنے کے انداز کی بڑی سخت تربیت سے گزارا جاتا ہے، اور اس کا غصہ اس پلے کارڈ میں نظر بھی آیا، مگر کیا یہ پلے کارڈ ہی عورت مارچ کی بنیاد ہے یا یہ محض ایک ایشو تھا۔ میری دانست میں یہ محض ایک ایشو ہے، عورت مارچ بہت بڑا ہے اور اسے تعصب کی عینک لگا کر سمجھنے کی کوشش نہیں کی جا سکتی۔

میں عورت مارچ کی حمایت کرتا ہوں کیوں کہ میری دادی کے ابا نے یہ مارچ کیا جب وہ 1921 میں میری دادی کو لاہور پڑھنے کے لیے چھوڑ کر آئے، میں اس مارچ کی حمایت کرتا ہوں کیونکہ میرے پردادا اپنی اکلوتی بیٹی کو 1923 میں پڑھنے کے لیے لاہور چھوڑ کر آئے اور وہ گاؤں کی لڑکیاں لاہور کی پانچ پڑھ سکیِں۔ میں عورت مارچ کی حمایت اس لیے کرتا ہوں کیونکہ میری نانی چالیس برس کی عمر میں بیوہ ہو گئیں اور انہوں نے اپنا کام خود چلایا، جنگ عظیم میں بھائیوں کو کھو دیا اور بیٹوں کو ہنر سیکھنے بھیجا مگر بیٹی کو سکول، بیٹی کو اتنا مضبوط بنایا کہ محض شادی اس کی زندگی کا مقصد نہیں تھا اور وہ اکیلی آدھی دنیا پھر چکی تھی جب اس نے میری خاطر میرے ابا سے بیاہ کیا۔ میں عورت مارچ کی حمایت اس لیے کرتا ہوں کہ میرے ابا نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کو پرواز دی، پڑھنے کی اور کچھ کرنے کی۔ مجھے سیکھ دی اپنی اہلیہ کو برابر کا انسان سمجھنے کی ان کی بطور عورت عزت کرنے کی۔

مجھے کسی کو بہن کے طور پر، بیٹی کے طور پر یا ماں کے طور پر عزت کرنا سکھایا ہی نہیں گیا، مجھے ان کو بطور عورت عزت دینا سکھایا گیا ہے، ماں یا بہن نہیں ہو گی تو عزت نہیں کرو گے کیا؟

انہیں بیٹی کہہ کر عزت نہیں دے رہے ہوتے ہم، دراصل اپنی انا ان پر لادتے ہیں، جس دن وہ ہماری انا کو پسند نہ آئیں اسی دن خود قتل کر دیتے ہیں، یہ ہے ہمارا بھیانک سچ۔ انہیں صرف چہرہ نہ ڈھانپنے پر فاحشہ سمجھ لیا جاتا ہے، انہیں محض جینز پہننے پر بدکردار کا سرٹیفکیٹ تھما دیا جاتا ہے، ان کے اونچا قہقہہ لگانے پر قدغن لگائی جاتی ہے۔

چالیس چالیس خاندانوں کے سامنے ان کی رشتہ پریڈ کرائی جاتی ہے، اگر وہ کہیں ہم کسی کے بارے میں ایسا خیال رکھتے ہیں تو فوراً انہیں بدکار کہہ کر، کاری کہہ کر مار دیا جاتا ہے یا ساری عمر کے لیے دور کر دیا جاتا ہے، ایک رائے یا خیال دینے کی بھی اجازت نہیں ہے، اس زندگی کے بارے جو گزارنی بھی انہوں نے ہے۔ کیوں نہ کریں پھر وہ عورت مارچ؟

شادی کر کے اپنی مرضی کے خاندان میں بھجیتے ہوئے اس پر توقعات کا گھٹڑ لاد دیتے ہیں، جا کر خدمت کرنا، شکایت نہ آئے، جنازہ ہی نکلے، اور جو بیاہ کر لے جا رہا ہے وہ بھی ماں باپ کی خدمت کروانے لے جا رہا ہے، اس عورت کی ذاتی زندگی کے لیے ہے عورت مارچ، اس کے وجود کے ہونے کو تسلیم کروانے کے لیے ہے عورت مارچ، اس کو انسان سمجھنے کے لیے ہے عورت مارچ۔

شادی سے پہلے پرایا دھن پرایا دھن کرتے رہتے ہیں، انہیں گھر سے لگاؤ میں ڈر رہتا ہے، شادی کے بعد اگلے کہتے ہیں یہ ہے جو بیگانے گھر کی۔ تو اپنا کیا ہے؟ کیوں نہ کریں عورت مارچ؟

پڑھنے کی اجازت مل بھی جائے تو تنظیموں کے غنڈے دھونس جماتے ہیں کہ یہاں نہ بیٹھو وہاں نہ بیٹھو، اس سے بات کیوں کی وغیرہ۔ سڑک پر چلیں تو آوازے، اوبر قریم میں بیٹھیں تو حرکتیں، کیوں نہ کریں پھر عورت مارچ؟

میں ایک مرد ہوں اور میں عورت مارچ کی حمایت کرتا ہوں کیونکہ مجھے فخر ہے کے میں نے عورت کو بطور عورت عزت دینا سیکھا ہے اور میں ان کے اس حق کو بے حیائی نہیں اُس درد کا راگ سمجھتا ہوں جس کا مداوا ضروری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *