سیاست اور بچے

پاکستان میں رہتے ہوئے ایک بات تو یقینی ہے کہ کوئی بھی محاورہ، بات، ضرب المثل کسی بھی وقت رد ہو سکتی ہے۔ دہائیوں تک لوگ یہی کہتے اور عمل کرتے آئے ہیں کہ بچوں کا سیاست سے کیا علاقہ۔ باپ، ماں، بھائی، بہن، چچا یا خاندان کے دیگر لوگ اگر کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرتے بھی ہیں تو ان کے بچے گلی محلے میں ہوں، گاؤں میں یا سکول میں، اس کے اثرات سے ہمیشہ محفوظ رہے۔ سیاستدان

Read more

غیر ذمہ دارانہ پیرنٹنگ اور ”ہمارے بچے ہیں“ کا رویہ

کسی بھی جوڑے کے لیے اولاد سے بڑی کوئی نعمت نہیں ہوتی۔ اولاد عطا ہو جائے تو لوگ خوشی اور مسرت کا اظہار مختلف طریقوں سے کرتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے خدا کی طرف سے نعمت ابھی تک عطا نہ ہوئی ہو تو لوگ بیسیوں جتن کرتے ہیں، دوا سے دعا تک اور ہسپتالوں سے ڈیروں تک جیسے مشورے ملتے ہیں ویسے ہی عمل کرتے جاتے ہیں۔ بس رب اولاد دے دے۔ ہمارے معاشرے میں شادی کا مقصد

Read more

مذہبی اقلیتوں کی مذہبی تعلیم

پاکستان کے ”موجودہ حالات“ ہر دور میں مشکل دور سے ہی گزرتے رہے ہیں۔ آج کل بھی ہم معاشی طور پر شدید مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ معاشی مشکلات سے گزرتے ہوئے ایک معاملہ سوسائٹی کے ساتھ یہ بھی پیش آتا ہے کہ لوگ دیگر موضوعات پر اُس طرح سوچ بچار نہیں کر پاتے جس طرح کی جانی چاہیے۔ گزشتہ برس جب یہ اعلان ہوا کہ دسویں اور بارہویں جماعت میں مسلم طلباء کے لیے اسلامیات کے ساتھ ساتھ

Read more

مذہبی اقلیتیں اور برابر کے شہری حقوق

چند روز سے اک خبر سوشل میڈیا پر زیر گردش رہی کہ یورپی یونین نے مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان سے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کی ہے جس کے خلاف صرف تین ووٹ آئے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے جواب میں ایک بیان سوشل میڈیا پر جاری کیا کہ پاکستانی مذہبی اقلیتوں کو دستور کے تحت برابر کے حقوق حاصل ہیں، یوں قرارداد کی نفی کی اور ٹریڈ کے خصوصی درجے کے ممکنہ خاتمے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

اہم بات یہ رہی کہ پاکستانی مذہبی اقلیتوں کے گنے چنے افراد ہی ٹویٹر پر ہیں مگر تمام نے یک زبان ہو کر دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان پر سخت سوالات اٹھائے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ دفتر خارجہ کو اقلیتی ارکان اسمبلی تک میں سے کوئی یہ جواب دینے کے لیے میسر نہیں آیا کہ ہاں جی، ہم بڑے سکھی ہیں آپ جائیں اپنا کام کریں۔

Read more

اجتماعیت کی بجائے انفرادیت پر مبنی پاکستانی معاشرہ

بہت برسوں سے پاکستان کو مسائل کا سامنا ہے، ہمیشہ پاکستان تاریخ کے نازک ترین دور سے ہی گزرتا رہتا ہے۔ اور ہم ہمیشہ اچھے دنوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان میں جب بھی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے یا کوئی عوامی نوعیت کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو اس پر ہر جگہ گفتگو شروع ہو جاتی ہے، پہلے گاؤں کی چوپالوں اور شہر میں چائے کے ڈھابوں پر یہ گفتگو ہوا کرتی تھی اب سوشل میڈیا ہی ہماری چوپال ہے اور ڈھابہ بھی، فرق بس اتنا ہے کہ چائے اپنے اپنے پلے سے پیتے ہیں اور انٹرنیٹ پیکج بھی اپنا ہی کرواتے ہیں۔ دن ہو رات ہو، سرگی ہو یا شام جب اس سوشل میڈیا چوپال کا رخ کرو دو چار دوست مل ہی جاتے ہیں بات چیت کے لیے اور جو نہیں موجود ہوتے وہ اپنے حساب سے آ کر گزری گفتگو میں ٹانکا لگا لیتے ہیں۔

Read more

ریپ اور جنسی ہراسانی

گزشتہ رات ایک انتہائی افسوس ناک خبر سننے کو ملی کہ لاہور سے گجرانوالہ کے رستے پر نو تعمیر شدہ موٹر وے پر ایک خاتون کی عزت کو پامال کیا گیا۔ تفصیلات سب نے پڑھ لی ہیں اور دہرانا میرے لیے تو ممکن نہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ریپ کا واقعہ ہوا اور سوشل میڈیا پر آواز بلند ہوئی ہے۔ مگر جس طرح میڈیا اور سوشل میڈیا پر آواز بلند ہو رہی ہے اسی طرح ان واقعات کی رپورٹس میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

Read more

تعلیمی اسناد کی ویریفیکشن، ریاست کا اپنے نظام پر عدم اعتماد

برسوں پہلے پاکستان میں یہ سننے میں آیا کہ بہت سے لوگوں کو جعلی تعلیمی اسناد جاری ہو گئی ہیں اور یہ اچھا نہیں۔ سنجیدہ مسئلہ تھا اور حل یہ نکالا گیا کہ تمام اسناد کو ویریفائی کروایا جائے تاکہ درست اسناد قائم رہیں اور جعلی کاغذات کی روک تھام ہو۔ یہ کیا گیا اور اس کے بعد طالب علموں اور جاب حاصل کرنے والوں کو ڈگریاں ویری فائی کروانے کا کہا جانے لگا۔ بڑے تعلیمی اداروں میں داخلے سے پہلے اور بیشتر نوکریوں کے حصول پر یہ ڈگریاں ویری فائی کرائی جاتی ہیں۔ اب تو سننے میں آ رہا ہے کہ آئندہ ڈگری الگ ویری فائی ہو گی اور مارکس شیٹ الگ۔

Read more

پاکستانی اور کورونا

کورونا کے خلاف ہم سب ہیں، یہ ایک ایسا دشمن ہے جو نہ انسانوں کا رنگ دیکھ رہا ہے نہ نسل اور نہ ہی جنس یا مذہب، اس موذی مرض سے سب کو ایک جیسا خطرہ لاحق ہے۔ دنیا نے جنوری میں اس کو عالمی خطرے کے طور پر آبزرو کرنا شروع کیا اور وسط مارچ تک یہ دنیا کے قریباً تمام ممالک کو کم یا زیادہ متاثر کر چکا تھا۔ مختلف ملکوں نے اس سے نمٹنے کی مختلف حکمت عملی اپنائی، ہمارے لیے زیادہ خبریں پاکستان کے ساتھ ساتھ چین، امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب اور ہندوستان سے اہم رہیں۔

Read more

پاکستان کی جنگ صرف کورونا سے نہیں ہے

چند ماہ پہلے چین سے خبریں آنی شروع ہوئیں کے ووہان میں کوئی پراسرار وبا پھیل رہی ہے، لوگ اس پر تبصرے کرتے رہے، خبریں بڑھتی چلی گئیں اور چائنہ میں موجود پاکستانی طلبہ کے حوالے سے حکومت اقدامات پر سیاسی اور سماجی فورمز پر بحث بھی جاری رہی، پاکستانیوں کی اکثریت کا خیال تھا کہ اگر چائنہ سے آنے والے لوگوں کے حوالے سے ہم نے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور چوکس رہے تو یہ جو بھی وبا ہے یہ پاکستان تک نہیں آئے گی۔ تب تک یہ عالمی وبا قرار نہیں دی گئی تھی۔

چائنہ نے اپنی پوری طاقت سے اس کو روکنے اور اپنے ملک کے دوسرے حصوں میں پھیلنے سے بچانے کے لیے اقدامات کیے مگر دنیا کے دوسرے حصے میں اٹلی کے اندر کورونا وائرس کی گونج سنائی دینے لگی، پھر ایران اور سعودی عرب کا نام آیا اور ایک وقت آیا کہ پاکستان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا جس میں کورونا وائرس کے کنفرم کیس رپورٹ ہوئے۔

Read more

میں عورت مارچ کی حمایت کیوں کرتا ہوں؟

پچھلے برس جو غوغا عورت مارچ کے بعد مچا تھا اس برس پہلے ہی آ موجود ہوا ہے، کوئی ٹی وی پر تنقید کر رہا ہے تو کوئی اخبارات میں، کوئی سوشل میڈیا پر اپنے ہراساں کیے جانے کی بات کر رہا ہے تو کوئی عورت مارچ رکوانے کے لیے عدالت کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ مجھے بطور مرد ایک مضبوط عورت سے مسئلہ کیا ہے؟ کیوں میں ایک ذہنی، معاشرتی اور معاشی طور پر اپنے

Read more

ماں نے کب کھایا، پتہ بھی ہے؟

کافی دنوں پہلے ایک بلاگ لکھا اور جب میں اس موضوع پر کسی سے گفتگو کر رہا تھا تو معلوم ہوا کہ خواتین کا جسمانی استحصال محض جنسی استحصال ہی نہیں ہے۔ ہم بطور معاشرہ ان کی صحت کا استحصال کر رہے ہیں اور وہ بھی یہ جانے بغیر کہ یہ استحصال ہے۔ ذرا اپنے ارد گرد، گھر میں، آس پڑوس میں، رشتہ داروں میں نظر تو دوڑائیے، پتہ تو کیجیے کہ خواتین صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔ کسی

Read more

کیا ہمارے معاشرے کے مرد واقعی عورت نے پیدا کئے ہیں؟

پچھلے کچھ دنوں سے یکے بعد دیگرے ایسی خبریں سنی ہیں کہ شک ہو رہا کہ کیا مرد عورت سے پیدا بھی ہوئے ہیں؟ کہیں بچیوں کو ونی کیا جا رہا، کہیں انہیں نوچ کر بھنبھوڑ کر کنوؤں میں پھینکا جا رہا ہے، کہیں انہیں رشتہ نہ ملنے پر الزام لگا کر سنگسار کیا جا رہا ہے۔ پھر بھی ہم مردوں کی خود پرستی کا عالم یہ ہے کہ دو دو چار چار سال کی بچیوں پر جبر کا ذمہ

Read more

انجیل بطور مسیحی نصاب

کچھ عرصہ پہلے یہ خبر سامنے آئی کہ مسیحی برادری کے نمائندوں نے عدالت میں ایک پٹیشن دائر کی ہے جس میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسیحی بچوں کو اسلامیات کی بجائے انجیل پڑھائی جائے۔ اس موضوع پر اپنی چند گزارشات سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔عرصہ دراز سے مسیحی اور دیگر غیرمسلم طلبہ کو اسلامیات کے متبادل کے طور پر ”اخلاقیات“ نامی ایک مضمون پڑھایا جا رہا ہے، جس کی بعض اوقات نہ تو کتابیں ملتی ہیں اور نہ اساتذہ، سو بہت سارے مسیحی طلباء اسلامیات ہی پڑھتے ہیں۔ اخلاقیات کی یہ کتب جو اسلامیات کے متبادل کے طور پر دی گئی ہیں یہ بھی مسلمان مصنفین کی لکھی ہوئی اور معاشرت اور الہیات پر اسلامی تناظر کو ہی پیش کرتی ہیں۔

Read more

جو ماں بن جاتی ہے وہ کبھی سوتیلی نہیں ہوتی

میں لگ بھگ چار سال کا تھا اور گلی میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ ایک بچے نے پتھر مار دیا۔ مجھے چوٹ لگی تو رونے لگا اور روتے روتے اسے کہا ”میں ابھی اپنی امی کو بلا کر لاتا ہوں“ اس نے زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا اور بولا، ”کیہڑی امی؟ آنٹی تو تیری امی ہے ہی نہیں، تیری امی تو مر چکی ہیں کب کی“ جو کیفیت تھی وہ آج بھی یاد ہے مگر الفاظ میں بیان کرنا آج بھی مشکل۔ اپنا گھر دھندلا گیا، چند قدم چلنا مشکل ہو گیا۔ رو تو میں اب بھی رہا تھا مگر آواز نہیں تھی۔ بس آنسو تھے جو تھوڑے باہر گر رہے تھے اور زیادہ اندر۔

Read more

جنگ کا چہرہ

دونوں طرف طبل جنگ بج چکا ہے، دونوں طرف مار دیں گے، جلا دیں گے، فنا کر دیں گے جیسی آوازیں آرہی ہیں، سوشل میڈیا پر کچھ دھمکیاں لگا رہے ہیں اور کچھ ان کی دھمکیوں کا ٹھٹھا اڑا رہے ہیں۔یہ پاک بھارت جنگ ہے۔ روایتی حریف، ازلی دشمن، اور پتہ نہیں کیا کیا کہہ کر سالوں سے ذہن تیار کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں تو کرکٹ اور ہاکی کے میچ تک زندگی موت کا مسلئہ بنا لیتے ہیں یہ تو پھر واقعی جنگ کی باتیں ہیں۔ کاٹنے مارنے کی باتیں تو ہوں گی۔

Read more

بڑا دن۔ کرسمس پاکستان میں کیسے منائی جاتی ہے؟

ابھی دو ہفتے قبل ہی کرسمس گزرا ہے جو کہ ہم یسوع مسیح کہ ولادت کی یاد میں مناتے ہیں۔ تیز رفتار الیکٹرانک میڈیا کے اس دور میں پوری دنیا کی خبریں پَلوں میں آپ تک پہنچتی ہیں۔ یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا جیسے براعظموں میں دسمبر ایک جشن کی طرح ہوتا ہے۔ کئی روایات کرسمس سے جڑی ہیں، کئی کھانے اورکئی عبادات تو بعض اوقات دوست اجباب سمجھتے ہیں کہ پاکستانی کمیونٹی بھی کرسمس عین اسی طرح مناتی ہے جیسے اُن ممالک کے لوگ، جیسا کرسمس آپ باہر دیکھتے ہیں، کرسمس ٹری، کرسمس پڈنگ، جنگلز۔ لوگاس طرح بھی مناتے ہیں مگر کم تعداد میں، لیکن جو مناتے ہیں وہ بہت ہی نفاست اور رکھ رکھاؤ سے مناتے ہیں۔

زیادہ تر طبقہ کچھ روایات انگریزی والی لیتا اور کچھ اپنی، کرسمس ٹری کوئی مذہبی علامت نہیں، ایک روایت ہے جس کو زیادہ تر لوگ مناتے ہیں، سانتا کلاز یا کرسمس فادر ایک دیومالائی کردار ہے۔ سب جانتے ہیں کہ نہیں ہوتا، کچھ لوگ اسے سیلیبریٹ کرتے ہیں، کچھ نہیں کرتے۔ وہ صرف بچوں کی خوشی کے لیے ہوتا ہے، جِنگل بیل ایک عام کرسمس گیت ہے لیکن پاکستانی مسیحوں کی اکثریت اس کو نہ جانتی ہے اور نہ گاتی ہے، ہمارے گھروں میں کرسمس گیت زیادہ ترپنجابی اور اردو میں گائے جاتے ہیں اور چند ایک انگریزی میں بھی۔

Read more