غم، کرب، نوحے، ماتم، المیے لکھنے کو نہیں رہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاشرے میں اس قدر مسائل موجود ہیں کہ اگر آپ کی اوسط زندگی پچاس سال ہو اور آپ ہر روز ایک موضوع کو قلم کی قید میں لانا شروع کر دیں تو بھی معاشرے کے مسائل ختم نہیں ہوں گے لیکن آپ کی عمر ختم ہو جائے گی۔ تعلیم، صحت، روزگار، معاش، خاندانی تقسیم، گرتی ہوئی اخلاقی اقدار، بزرگوں کی قدر، اولاد کی نشونما، طبقاتی تقسیم، کارپوریٹ کلچر کے مسائل، سرکاری دفاتر کی گھمن گھیریاں، زمینوں پہ قبضے، جائیداد کے مسائل اور اس طرح کے ہزاروں موضوعات ایسے ہیں کہ جن پہ لکھنا شروع کر دیا جائے تو آپ کو وقت کی تقسیم مشکل ہو جائے گی کہ کس وقت کس پہ لکھا جائے۔

اس کے علاوہ قومی و بین الاقوامی سطح پہ مسائل اور تنازعات کی اتنی بھرمار ہے کہ آپ ابھی ایک موضوع پہ لکھنے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں کہ دوسرا سانحہ، حادثہ، واقعہ، یا موضوع سامنے آجاتا ہے اور آپ محسوس کرتے ہیں کہ کل ہی آپ نے جس موضوع پہ لکھنا شروع کیا تھا وہ تو موجودہ حالات میں پرانا ہو چکا ہے۔ آپ کسی معاشرتی برائی پہ لکھنا شروع کرتے ہیں تو ابھی تحریر مکمل نہیں ہوتی کہ نیا کوئی ناسور سامنے آجاتا ہے جس پہ لکھنا پہلے موضوع سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔

اس پر آشوب دور میں انسان اس قدر کرب کا شکار ہے کہ آپ انسانوں کے دکھ لکھنے کا ارادہ کر لیں تو آپ کے پاس روشنائی کم ہو جائے گی، صفحات کی قلت ہو جائے گی لیکن لکھنے کو مواد کم نہیں ہو گا۔ یہ اس لیے بھی ہے کہ معاشرے نے ظاہری طور پر جو ترقی کا لبادرہ اوڑھ لیا ہے باطنی طور پر وہاں ایسے مسائل نے بھی جنم لیا ہے جو اسی ترقی کرتے معاشرے کو کھائی کی طرف لے جانے کا باعث بھی بنتے ہیں۔

موضوعات کی اتنی بہتات ہونے کے باوجود حیرت کا شدید جھٹکا لگتا ہے کہ جب ہمارے ہاں کے سینئر لکھاری بھی ویلینٹائن ڈے، کسی حسینہ کی زلفوں کے لہرانے، وزیر اعظم کے حسن و انداز کے قصیدے، تقریر کرنے کے بے باکانہ انداز، لباس کے انتخاب، چلنے کے انداز، کسی ایونٹ میں ٹھمکوں کا ذکر، باہمی جھگڑوں میں بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کے مصداق پریشانی، اور دیگر ایسے ہزاورں غیر اہم موضوع کو اپنی تحریروں کی زینت بناتے ہیں۔

ایک لکھاری اپنی پوری زندگی میں ایسے غیر اہم لیکن مستقل موضوع میں چلیے چار سے پانچ دفعہ لکھے تو بات جچتی ہے کسی حد تک۔ لیکن سالہا سال تحریروں کی بھرمار اس بات کی شاہد ہے کہ ہمارے لکھاری ایک دائرے سے نکلنے کو تیار نہیں ہیں۔ ویلنٹائن ڈے اور اسی طرح دیگر کئی مستقل موضوعات جن پہ ایک دو دفعہ سے زیادہ لکھنا ہی وقت کا ضیاع شمار ہو کیا ان پہ روشنائی ضائع کرنا لکھاری کو زیب دیتا ہے؟ کیا ملکی حالات اس قدر شاندار ہو چکے ہیں کہ ایک ایسے موضوع پہ علمیت جھاڑی جائے جس کے بارے میں ہو سکتا ہے اکثریت کو معلوم ہی نا ہو کہ کب ابتداء ہوئی اور کیسے اس کو معاشرے میں رائج کیا گیا؟

لکھیے ایسا بھی نہیں کہ ایسے موضوعات سے مکمل پہلوتہی کی جائے۔ لیکن کم از کم غیر ارادی طور پر ایسے موضوعات کو ایسے انداز سے سامنے لایا جائے کہ ہم اس غیر ضروری موضوع کی ترویج کا باعث بن جائیں۔ لوگوں کے قلوب و اذہان میں ذہنی کاش کی تھیوری یعنی (Mind Cultivation Theory) کے تحت بار بار تکرار کے ساتھ کسی ایک موضوع کو مستقلاً ذات کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس موضوع پہ جتنا زیادہ لکھا جا رہا ہے اتنا زیادہ ہی لوگ اس کی طرف راغب بھی ہو رہے ہیں۔

اگر یہ تہوار، یہ دن، یہ ایونٹ اتنا ہی برا ہے کہ ہم صفحات کالے کر رہے ہیں تو حیرت یہ ہے کہ ہم صفحات اس پہ کالے کر ہی کیوں رہے ہیں۔ ہم کیوں اس کا ذکر نہیں چھوڑتے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اس موضوع اور اس طرح کے دیگر بہت سے غیر ضروری موضوعات کو زبردستی گھسیٹ کے قلم کی نوک پہ اس لیے لانا شروع ہو گئے ہیں کہ ہمیں ہمارا نام کھمبیوں کی طرح شائع ہونے والی اخبارات میں نظر آنا شروع ہو جائے۔ ہماری تصویر ادارتی صفحے کی زینت بن جائے۔

اور حیرت اخبارات کی پالیسی پہ بھی ہے کہ کس طرح کسی ایک موضوع پہ دس دس کالم ایک ہی دن شائع کر دیے جاتے ہیں اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ علاقائی سطح کی اشاعت رکھنے والے اخبارات عالمی معاملات پہ کالمز کو جگہ دے رہے ہوتے ہیں اور قومی سطح کے اخبارات علاقائی مسائل کو۔ ہم میں سے ہر ایک اپنے کام کرنے اور قارئین کی پسند نا پاپسند سے آگے دوڑ رہا ہے۔

سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ ایک اخبار کو کالم بھیج دیا لیکن اس کا موضوع پرانے کالم کا موجود رہ گیا اور اخبار نے اسے پرانے عنوان کے ساتھ نیا کالم شائع کر دیا۔ الٹا جب اُن سے اپنی غلطی کی معذرت کی تو غصہ بھی اُن کا حق ٹھہرا کہ آپ نے غلطی کیوں کی۔ ادارتی معیار، ایڈیٹر، سب ایڈیٹر، ادارتی سربراہ، کمپوزر، کاتب یعنی کمپوزر اور دیگر کئی ایسے عہدے جو کسی اخبار کا خاصہ ہوتے ہیں، وہ اس غلطی کو پکڑنے کے وقت کیا کر رہے تھے ایک لکھاری پوچھ بھی نہیں سکتا۔ اخبارات کا پیٹ بھرنے کو تحاریر چاہیے ہوتی ہیں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ کس موضوع پہ ہیں۔

یوں کہیے کہ آج کل تحاریر بھی تھوک کے حساب سے دی اور لی جاتی ہیں۔ معاوضے کا چکر تو پرانے زمانے کی بات ہے اب تو بس نام شائع کر دینا ہی اخبار لکھاری پہ احسان کر دینا سمجھتا ہے۔ اس بھیڑ چال میں معیار تو نہ جانے کہاں کھو ہی گیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اب معاشرتی طور پر بھی ہم بے حسی کی ایسی کھائی میں جا رہے ہیں جس سے باہر نکلنا ہمارے لیے مشکل ہو جائے گا۔

ہمارے اردر گرد اگر عوام کا غم ہلکا ہو گیا ہے تو پھر چاہے ویلنٹائن ڈے پہ لکھیں یا مام ڈیڈ ڈے پہ کوئی حرج نہیں۔ معاشرتی اکائیوں کا کرب اگر سکون کی چادر اوڑھ چکا ہے پھر کسی بھی غیر ضروری موضوع کو دامنِ قلم میں لائیے تو بھی ستے وی خیراں۔ معاشرتی ناسوروں کے ہاتھوں اجڑتی کوکھوں سے نئے نوحے جنم نہیں لے رہے تو پھر ہم جو چاہیں لکھیں کوئی تنقید نہیں۔ معاشرہ اگر ماؤں کے بیٹے نہیں چھین رہا اور مائیں ماتم کناں نہیں تو پھر غیر اہم موضوع بھی ہو تو لکھ ڈالیے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ قوم کسی نئے المیے کو سنبھال نہیں رہی ہوتی پھر ہمیں کیا گلہ کہ کسی بھی دن پہ لکھیے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے اور معاشرہ اس کے بالکل اُلٹ جا رہا ہے تو پھر کیا صرف ویلینٹائن ڈے ہی اہم موضوع ہے جس پہ لکھا جانا چاہیے؟ کیا ہم ملک کی ترقی میں اہم کردار مثبت حوالے سے ادا کر پا رہے ہیں کہ ہماری تحریریں امریکہ و برطانیہ کے معاملات سمجھانے کی کوشش کریں؟ کیا ہم نے اپنے گریباں میں جھانک کے دیکھ لیا کہ ہم قلم کو تلوار بنائے پوری دنیا کو بہتر کرنے کا بیڑہ اٹھائے بیٹھے ہیں؟

سنبھلیے، اس سے پہلے کہ سنبھلنے کا موقع میسر نہ آئے۔ ہر طرح کے موضوع پہ لکھیے لیکن یہ اس حد تک رہے کہ تحریر کی تکرار نہ ہو۔ ایک دفعہ اگر آپ اس موضوع پہ لکھ کر معاشرے میں تبدیلی نہیں لا پا رہے تو اس پہ ہزار دفعہ لکھ کے بھی اس غیر ضروری موضوع کی تشہیر کا باعث تو بن جائیں گے لیکن اس کے حوالے سے معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لا سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *