افغان طالبان نے قیدیوں کی رہائی تک بین الافغان مذاکرات شروع کرنے سے انکار کر دیا
افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے امریکا اور طالبان معاہدے کے تحت قیدیوں کو رہا نہ کرنے کے اعلان کے بعد طالبان نے بین الافغان مذاکرات میں شرکت نہ کرنے فیصلہ کرلیا۔ اس کا اعلان افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کیا ہے۔
29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان تاریخی امن معاہدہ ہوا تھا جس سے 18 سالہ جنگ کے خاتمے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ امن معاہدے میں ایک شرط یہ رکھی گئی تھی کہ 10 مارچ 2020 تک طالبان کے 5 ہزار قیدی اور افغان سیکیورٹی فورسز کے ایک ہزار اہلکاروں کو رہا کیا جائے گا اور اس کے فوراً بعد افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان ملک کے مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے مذاکرات شروع ہوں گے۔
معاہدے کے چند گھنٹوں بعد ہی افغان صدر نے طالبان کے قیدی رہا کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد اب افغان طالبان نے بھی بین الافغان مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے غیر ملکی خبرایجنسی کو ٹیلیفونک گفتگو میں بتایا کہ طالبان قیدیوں کی رہائی تک انٹرا افغان مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر ہمارے 5000 قیدی جن میں سے 100 یا 200 کم یا زیادہ یہ معنی نہیں رکھتا، اگر ان کو رہا نہ کیا گیا تو مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے‘۔
خیال رہے کہ دوحہ معاہدے کے تحت معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا جائے گا۔ 10 مارچ 2020 تک طالبان کے 5 ہزار قیدی اور افغان سیکیورٹی فورسز کے ایک ہزار اہلکاروں کو رہا کیا جائے گا اور اس کے فوراً بعد افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات شروع ہوں گے۔


