عاصم بٹ کا ناول بھید: وجود کی تلاش کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھید معروف ناول نگار محمد عاصم بٹ کا تازہ ترین ناول ہے۔ اس سے قبل وہ دائرہ جیسا رجحان ساز ناول لکھ چکے ہیں۔ ان کا ایک ناول ناتمام UBL ایوارڈ بھی وصول چکا ہے۔ دو عدد افسانوی مجموعے، مشہور اردو فکشن نگاروں کے انتخاب، بے شمار ادبی مضامین، کافکا، بورخیس اور جاپانی کہانیوں کے تراجم وغیرہ اس کے علاؤہ ہیں یعنی وہ کلہم ادیب ہیں۔ یہ جتنا بڑا اعزاز ہے اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہے سو عاصم بٹ کی تحریروں سے بلند توقعات وابستہ ہو جانا عین فطری عمل ہے۔

بھید کو میں نے انہی توقعات کی عینک سے پڑھنا شروع کیا اور ایک ہی نشست میں پڑھ بھی ڈالا، وجہ ہرگز میری فراغت نہ تھی۔ وہ اشتیاق تھا جس نے مسودہ کے زیرِ عنوان پہلے آٹھ صفحات پڑھتے ہی مجھے بے کل کر دیا تھا۔ ناول پڑھتے ہوئے ایک لذیذ بے چینی مسلسل میرے ہم رکاب تھی۔ بھید جاننے کی بے چینی۔ اشیاء کی ماہیت اور واقعات کی ناقابلِ تردید حقیقت جان لینے کی ازلی بے چینی۔ فیصلہ ہو چکا تھا۔ مجھے یہ ناول ہر صورت اسی نشست میں ختم کرنا تھا۔

بھید کی کہانی وجود کی تلاش کا کبھی نہ ختم ہونے والا سفر ہے۔ مصنف کا لکھا ہوا مسودہ کسی کو ملتا ہے جسے ناول میں ہیرو کا نام دیا گیا ہے جو ازاں بعد ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہیرو دراصل اس مسودے کا ہی ایک کردار ہے۔ ناول کے آخر میں ہم پر ایک اور حیران کن انکشاف ہوتا ہے کہ ہیرو کیطرح مصنف بھی کسی دوسرے مصنف کے لکھے ہوئے مسودے کا کردار ہے اور شاید وہ دوسرا مصنف خود بھی۔ یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے اور یہ سلسلہ کہاں ختم ہوگا۔ کہیں ختم ہوگا بھی یا نہیں؟ یہ بھید ہے۔ اس بھید کو انسان نے مذہب، فلسفے، تصوف۔ کیسے کیسے کھوجنے کی کوشش نہیں کی!

بھید کی کہانی اصل میں جاگتی آنکھوں سے دیکھا ہوا سپنا ہے۔ حیرت ناک، رنگارنگ سپنا، واقعے کو ذہن سے وابستہ کر دینے والا سپنا، نثری تصویروں کا خوبصورت، چمکتا دمکتا البم۔

ناول کی کہانی ذہنی جھٹپٹے کی بل کھاتی سرنگ میں سفر کرتی ہے جہاں مناظر، شہر، محلے یہاں تک کہ کچھ کردار بھی روشن اور واضح دکھائی نہیں دیتے لیکن ان کی موجودگی محسوس ہوتی ہے۔

مناظر، واقعات اور کرداروں پر ایک دھند ہے، کھوجنے پر مائل کرنے والی دھند، بھید جاننے کی بے چینی بڑھانے والی دھند، منظر کو رک کر غور سے دیکھنے پر اصرار کرتی دھند۔ ماحول کو پراسرار بناتی دھند۔ اس دھند میں لپٹے منظر، واقعات اور کردار ناقابلِ فراموش اور بے کل کر دینے والے ہیں۔

بھید کے کردار اپنی گفتگو اور طور طریقوں میں صحیح، حقیقی اور قابلِ یقین ہیں۔ ناول کے کردار: ماسٹر ولایت، مٹھو ایلین، مشتاق چھرا اور اقبال مودا وغیرہ ہمارے جانے پہچانے، دیکھے بھالے ہیں۔ محلوں کے تھڑوں، چائے کے کھوکھوں، اندرون شہر کے نیم تاریک کمروں، بازاروں اور گلیوں میں ان میں سے کوئی نہ کوئی، کہیں نہ کہیں روز ہمیں ملتا ہے۔ عاصم بٹ بند کمرے میں بیٹھ کر محض اپنے ذہن سے کردار برآمد نہیں کرتا۔ اس کے کردار سماج سے پھوٹتے ہیں، دھرتی میں اگتے ہیں۔

عاصم بٹ نے زندگی کے مدرسے میں تعلیم پائی ہے اور اپنی آنکھوں اور کانوں کو کھلا رکھا ہے۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت سماج میں اپنے کرداروں کے ساتھ گزارتا ہے۔ وہ ان کی عادتوں، زبان اور مزاج کی کیفیتوں کا عملی طور پر شناسا ہے۔ وہ اپنے کرداروں کی ذہانت پر بھی یقین رکھتا ہے اور ان کی زبان پر بھی۔ وہ مکالموں میں اردو ادب کی مرغوب دانشورانہ مداخلت سے شعوری احتراز کرتے ہوئے خود بولنے کے بجائے کردار کو بولنے دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے ناولوں کی فضا حقیقی ہے اور زندگی سے بھرپور ہے۔ وہ سچا لکھنے والا ہے اور fake نہیں ہے۔ اس کی نثر اوریجنل ہے، سورج کی مانند روشن اور ٹھنڈی ہوا کی طرح فرحت بخش۔ بھید میں بھی وہی جان ہے، زندگی کی تب و تاب ہے، تڑپ ہے جو عاصم بٹ کے ناولوں کا خاصہ ہے۔

ناول میں کچھ جگہوں پر خام طرزِ بیان کے ٹکڑے آ جاتے ہیں جہاں قاری محسوس کرتا ہے کہ مصنف یہاں بے صبرا ہو گیا ہے اور شاید عجلت میں زبان کا اپنا ہی قائم کردہ معیار برقرار نہیں رکھ سکا۔ لیکن مجموعی طور پر دیکھیں تو مصنف کو اپنی زبان پر پوری قدرت حاصل ہے اور یہ چند ٹکڑے ناول کی مجموعی لسانی تشکیل، رواں، فطری طرزِ بیان اور عمدہ نثر پر زیادہ اثرانداز نہیں ہوتے۔

میرے خیال میں نمیرہ کا کردار مزید توجہ کا طالب تھا۔ اس کردار کو بہتر ٹریٹمنٹ دی جا سکتی تھی۔ نمیرا ناول کے مرکزی کرداروں میں سے ایک ہے لیکن اس کی ٹریٹمنٹ ایسی ہے کہ اگر یہ کردار نہ بھی ہوتا تو شاید ناول کی موجودہ حالت کو کوئی فرق نہ پڑتا۔ نمیرا عاصم بٹ کی عدم توجہی کا شکار ہو گئی ہے۔

ناول کی resolution بہت ہی عمدہ ہے۔ یہاں مصنف امتیازی نمبروں سے پاس ہوا ہے۔ مختلف کرداروں کی اپنی اپنی کہانیوں سے بُنی یا شاید الجھی کہانی ناول کے آخر میں بالکل ناول نگار کے قابو سے باہر نکلتی محسوس ہوتی ہے اور قاری باقاعدہ سوچنا شروع کر دیتا ہے کہ آخر مصنف اسے کیسے sum up کرے گا۔ ناول نگار فنکارانہ مہارت سے حیران کن تکنیک سے اسے ممکن بناتا ہے۔

یار دوستوں کی طرف سے عاصم بٹ کو دائرہ کے دائرے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں مل رہی۔ یہ عمل جتنا بھی مخلصانہ ہو بہرحال ناول نگار کی تخلیقی صلاحیتوں کی جدت اور پختگی کے ساتھ نا انصافی ہے۔

دائرہ کو دائرہ کے دائرے میں دیکھیں اور بھید کے بھید اسی کے وضع کردہ ماحول میں جانیں۔ میں بھید کو ہرگز تاریخ ساز اور شاہکار ناول نہیں کہوں گا لیکن یہ یقیناً ایک عمدہ ناول ہے۔ اس میں عاصم بٹ کی گزشتہ تحریروں سے زیادہ پختگی، گہرائی اور رچاؤ ہے۔ بے شک ایک ناول نگار کی حیثیت سے وہ آگے بڑھا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply