لغت زبان کا منبع نہیں، مستعمل کی بازگشت ہے

”بھائی صاحب! لغت لفظ کے معنی اور اس کے درست استعمال کی تفہیم کا واحد مستند ذریعہ نہیں ہے۔ “ ”کیوں اور کیسے بلکہ کیونکر؟ “ ”عزت مآب! مجھ ہیچ مداں کی تو اس سے آگے جانے کی مجال نہیں۔ لیکن علماء ِ لسانیات اسے فقط ثانوی درجہ دینے پر راضی ہیں۔ “ ”اگر لغت…

Read more

ماں بولی کا قرض

کیسا روح پرور اور فرحت آگیں موقع ہے کہ پنجاب کے ایک شہر میں ایک پنجابی دوسرے پنجابی کے پنجابی بولنے پر برسرِعام اس کا محاکمہ کر رہا ہے۔ ناصرف محاکمہ بلکہ فرمانِ با المشافہہ جاری کر رہا ہے کہ: خبردار جو اب مجھ سے اس غیر متمدن زبان میں بات کی۔ بھئی سبحان اللہ!…

Read more

احسان تیرا ہوگا مجھ پر

”احسان تیرا ہوگا مجھ پر۔ دل چاہتا ہے وہ کہنے دو۔ “ ”اؤ بھولے خیر ہے! بڑی سُریں لگا رہے ہو“۔ ”مان میرا احسان۔ ارے نادان کہ میں نے تجھ سے کیا ہے پیار۔ او میں نے۔ “ ”ہش کے وئی ہش کے“ ”احسان میرے دل پہ۔ تمہارا ہے دوستو۔ یہ دل تمہارے پیار کا…

Read more

خلیل الرحمٰن قمر کے فیمینزم اور عورت کے بارے میں خیالات

آج کل سوشل میڈیا پر ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر صاحب کا ایک ویڈیو کلپ مردانِ آہن اور دخترانِ مشرق بڑے ذوق و شوق سے شئیر کر رہے ہیں، جس میں موصوف خطیبانہ جوش اور کاملاً مشرقی مردانہ لہجے میں نسائی پسندی یعنی فیمنزم کی زجرو توبیخ میں مصروف عمل ہیں۔ اس کلپ کی توصیف…

Read more

میری جان! ہم دودھ میں ملاوٹ نہیں کرتے

”میری جان! ہم دودھ میں ملاوٹ نہیں کرتے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسے غریبوں کی قوتِ خرید میں لا رہے ہیں۔ اب تمہی بتاؤ کہ خالص دودھ کم از کم ایک سو تیس روپے لیٹر میں ملتا ہے اور ہم بیچ رہے ہیں اَسّی روپے میں۔ سرکار! اپنا سوچنے کا انداز بدلو، نیک نیّتی…

Read more

وزیرِ تھپڑ

وزیرِ باشمشیر کے دستِ دندان شکن نے انتہائی قلیل مدت میں دوسرا قلعہِ رخسار فتح کرلیا۔ یہ عظیم الشان کامیابی بھی گزشتہ فتحِ سعید کی طرح ایک شادی خانہ آبادی کی پرمسرت تقریب میں بزور حاصل کی گئی۔ اس دوران محافظانِ وزیر با شمشیر بھی حریفِ ناتواں پر اس بے نظیر فتح و ظفر کا…

Read more

کھلاڑیوں کے کھلاڑی

بھولا آج پھر رو رہا ہے۔ ”اؤ بھولے کیوں رو رہا ہے؟ تجھے میں نے کتنی مرتبہ کہا ہے کہ اس طرح باگا اَڈ کے نہ رویا کر۔ تُو تو سادہ اچھا نہیں لگتا اوپر سے۔ آہو۔ “ ”سر جی آپ کرلیں مخول۔ کریں، جرور کریں بلکہ ایک آدھ ریپٹا بھی لگائیں۔ لگائیں، کر لیں…

Read more

جتھوں کا دیس

وطنِ عزیز جتھوں کی آماجگاہ بن چکا ہے جہاں ہر شخص قانون کے بجائے اپنے گروہ میں تحفظ تلاش کر رہا ہے کیونکہ قانون انہیں تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہے۔ ہر شخص اپنی گروہی وابستگیوں کی بدولت اپنے جتھے کی غلطی ماننے اور اس کی مذمت کرنے کے بجائے اس کا بے جا…

Read more