ارطغرل پاکستان میں اہالیان پاکستان! مبروک، مبروک، مبروک

فخر ملت اسلامیہ، امیر غازی ارطغرل بن سلمان شاہ قایوئی ترکمانی بہ اذن وزیر اعظم ملک خداداد پاکستان، بہ قالب اردو، اپنے گھوڑے جوگانی اور جنگجو ساتھیوں سمیت پی ٹی وی پر تشریف لا چکے ہیں۔ مرحبا، مرحبا، مرحبا۔

جناب غازی ارطغرل کی آمد نے عوام پاکستان میں، جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے احیاء سے قریب قریب مایوس ہو چکے تھے، امید کی نئی جوت جگا دی ہے۔ نوجوانان ملت بیضا، جس مجاہد عصر کا انتظار کر رہے تھے وہ آخر، خواہ ٹیلی ویژن سکرین ہی پر سہی، آن پہنچا ہے۔ فرزندان امت مسلمہ، جناب عزت مآب وزیر اعظم صاحب کے اس نعمت غیر مترقبہ کی ترسیل پر تہہ دل سے مشکور ہیں۔

عوام پاکستان کی ان مسرتوں کے وفور سے البتہ کچھ مسائل بھی جنم لے رہے ہیں جن میں سب سے اہم گھوڑوں کی

Read more

سیموئیل بیکٹ کے ڈرامے، ویٹنگ فار گوڈو کا پنجابی روپ: شاہد شبیر کا ترجماتی کرشمہ۔

سیموئل بیکٹ کے ڈرامے، ویٹنگ فار گوڈو کا پنجابی روپ: شاہد شبیر کا ترجماتی کرشمہ۔

دو بے گھر بوڑھے۔ ۔ ۔ ایک درخت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خالی سڑک۔ ۔ ۔ انتظار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ کسی خاص وقت میں نہ مخصوص مقام پر۔ ۔ ۔ کہیں نہیں اور ہر کہیں۔ ۔ ۔ دو دن۔ ۔ ۔ بحث۔ ۔ ۔ بیزاری۔ ۔ ۔ مضحکہ خیزی۔ ۔ ۔ اپنی ہی کہی باتوں کی بار بار دہرائی۔ ۔ ۔ خود کشی پر غور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انتظار۔ ۔ ۔ جو کبھی نہیں آئے گا، اس کا انتظار۔ ۔ ۔ گوڈو کا انتظار۔

یہ ہے سیموئل بیکٹ کا بے مثل ”ڈرامہ ویٹنگ فار گوڈو“ ، ایک لازوال شاہکار۔ بیسویں صدی کے ڈرامے کے سر کا تاج۔

Read more

چار درویش اور کچھوا: بدقسمت اردو ناول کے تابوت میں ایک اور کیل

سید کاشف رضا کا ناول ”چار درویش اور کچھوا“ پڑھتے کے بعد میری حالت بعینہٖ ویسی ہی تھی جیسی کچھ سال قبل ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ ایک جلسے میں ہوئی تھی۔ واقعہ یوں ہے کہ الیکشن سے ایک روز قبل صدارتی امیدوار کا جلسہ تھا، امیدوار موصوف انتہائی درمیانے…

Read more

وزیراعظم صاحب، اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہو گی

تاریخ کا ناقابلِ تردید سبق ہے کہ کوئی فرد یا قوم غلطی کرنے سے نہیں، غلطی پر اَڑنے سے برباد ہوتی ہے۔ اسی طرح مشہورِ عالَم یونانی ڈرامہ نویس سوفوکلیز کا ایک قول ہے کہ غلط شخص کے مشورے پر عمل ایسے شخص سے مشاورت سے بھی زیادہ نفرین انگیز اور ناقابلِ معافی عمل ہے۔…

Read more

مولوی جیت گئے، حکومت مان گئی

لیجیے صاحب! آخرکار وہی ہوا، جس کا واضح امکان تھا۔ مملکتِ خداداد میں دین و ملت کے پاسبان پھر کامیاب و کامران ہوئے اور حکومت نے بالآخر وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے کرتی چلی آ رہی ہے۔ حکومتی مداومتِ عمل کی بدولت ہم جیسوں کا اندازہ بھی درست نکلا جن کا کبھی تربوز سرخ…

Read more

بھولا صاحب مفتی منیب کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں

”سر جی! ویسے اخیر ای نئیں ہو گئی، کوئی شرم ہوتی اے، کوئی حیا ہوتی اے، ہماری حکومت تو اُکاّ ای بس۔ چھڈو جی، کیا بات کرنی اے۔ “ ” او بھولے کیا ہو گیا، خیریت ہے، بڑا ناسوں سے دھواں نکال رہے ہو۔ “ ” جب بندے کے اندر بالن بل رہا ہو تو…

Read more

ادب میں آمد اور آورد کی بحث

آمد اور آورد خالصتاً شاعری کی اصطلاحات ہیں۔ کچھ حضرات فکشن کو بھی اس کے تناظر میں دیکھنے لگے ہیں۔ لہذا اس منظر نامے میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے قبل بہتر ہوگا کہ آمد اور آورد کے تصور پر کچھ بات ہو جائے۔ آمد کے…

Read more

ادب میں آمد اور آورد کی بحث

آمد اور آورد خالصتاً شاعری کی اصطلاحات ہیں۔ کچھ حضرات فکشن کو بھی اس کے تناظر میں دیکھنے لگے ہیں۔ لہذا اس منظر نامے میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے قبل بہتر ہوگا کہ آمد اور آورد کے تصور پر کچھ بات ہو جائے۔ آمد کے…

Read more

فاروق خالد کا ناول ”سیاہ آئینے“

کسی ایسے ناول کے بارے میں لکھنا جس کا ادبی مقام متعین ہو چکا ہو، آسان نہیں ہوتا۔ ایسے فن پارے کے مختلف زاویوں اور جہتوں پر سیر حاصل بات عموماً ہو چکی ہوتی ہے، لہذا ایسی تحریر پر قلم اٹھانے کا سزاوار کوئی فقط اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب وہ اس کا…

Read more

میں کیوں لکھتا ہوں: مشہور ادیب بتاتے ہیں

میں کیوں لکھتا ہوں، یہ کسی بھی ادیب کا بنیادی استفہامیہ ہے۔ اس سوال کا یکتا جواب ممکن نہیں ہے۔ ہر ادیب اس کا جواب اپنے تخلیقی رجحان، فکری ضابطے اور فنی تجربات کی روشنی میں دیتا ہے۔ جیسے ”محبت اپنا اپنا تجربہ ہے“ بعینہ ہر ادیب لکھنے کا ایک مختلف، منفرد اور علاحدہ جواز…

Read more