جاہل عوام اور پڑھی لکھی حکومتیں

لیجیے حضور، غربت، عسرت، بے روزگاری، بھوک، سیاسی ابتری، سماجی و طبقاتی تفریق، معاشی عدم مساوات، تعلیمی و طبی پس ماندگی اور معاشرتی بدحالی اعزازنے کے بعد عوام پاکستان کے سینے پر حکومت وقت نے جہالت کا تمغا بھی سجا دیا ہے۔ ویسے تو روزانہ کی بنیاد پر فرمانروائے حال، اپنی آمد و رفت پر لگائے گئے شاہی روٹوں، سرکاری دفاتر، ہسپتالوں، تھانوں، کچہریوں میں متعین مشاق، اعلی تربیت یافتہ اور عمدہ اخلاق و کردار کے مالک اہلکاروں کے ذریعے

Read more

ارطغرل پاکستان میں اہالیان پاکستان! مبروک، مبروک، مبروک

فخر ملت اسلامیہ، امیر غازی ارطغرل بن سلمان شاہ قایوئی ترکمانی بہ اذن وزیر اعظم ملک خداداد پاکستان، بہ قالب اردو، اپنے گھوڑے جوگانی اور جنگجو ساتھیوں سمیت پی ٹی وی پر تشریف لا چکے ہیں۔ مرحبا، مرحبا، مرحبا۔

جناب غازی ارطغرل کی آمد نے عوام پاکستان میں، جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے احیاء سے قریب قریب مایوس ہو چکے تھے، امید کی نئی جوت جگا دی ہے۔ نوجوانان ملت بیضا، جس مجاہد عصر کا انتظار کر رہے تھے وہ آخر، خواہ ٹیلی ویژن سکرین ہی پر سہی، آن پہنچا ہے۔ فرزندان امت مسلمہ، جناب عزت مآب وزیر اعظم صاحب کے اس نعمت غیر مترقبہ کی ترسیل پر تہہ دل سے مشکور ہیں۔

عوام پاکستان کی ان مسرتوں کے وفور سے البتہ کچھ مسائل بھی جنم لے رہے ہیں جن میں سب سے اہم گھوڑوں کی

Read more

سیموئیل بیکٹ کے ڈرامے، ویٹنگ فار گوڈو کا پنجابی روپ: شاہد شبیر کا ترجماتی کرشمہ۔

سیموئل بیکٹ کے ڈرامے، ویٹنگ فار گوڈو کا پنجابی روپ: شاہد شبیر کا ترجماتی کرشمہ۔

دو بے گھر بوڑھے۔ ۔ ۔ ایک درخت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خالی سڑک۔ ۔ ۔ انتظار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہ کسی خاص وقت میں نہ مخصوص مقام پر۔ ۔ ۔ کہیں نہیں اور ہر کہیں۔ ۔ ۔ دو دن۔ ۔ ۔ بحث۔ ۔ ۔ بیزاری۔ ۔ ۔ مضحکہ خیزی۔ ۔ ۔ اپنی ہی کہی باتوں کی بار بار دہرائی۔ ۔ ۔ خود کشی پر غور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انتظار۔ ۔ ۔ جو کبھی نہیں آئے گا، اس کا انتظار۔ ۔ ۔ گوڈو کا انتظار۔

یہ ہے سیموئل بیکٹ کا بے مثل ”ڈرامہ ویٹنگ فار گوڈو“ ، ایک لازوال شاہکار۔ بیسویں صدی کے ڈرامے کے سر کا تاج۔

Read more

چار درویش اور کچھوا: بدقسمت اردو ناول کے تابوت میں ایک اور کیل

سید کاشف رضا کا ناول ”چار درویش اور کچھوا“ پڑھتے کے بعد میری حالت بعینہٖ ویسی ہی تھی جیسی کچھ سال قبل ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ ایک جلسے میں ہوئی تھی۔ واقعہ یوں ہے کہ الیکشن سے ایک روز قبل صدارتی امیدوار کا جلسہ تھا، امیدوار موصوف انتہائی درمیانے درجے کا وکیل تھا اور ڈری ڈری محتاط طبیعت کا مالک، ایک بھلا مانس آدمی تھا۔ سٹیج سیکرٹری، جو امیدوار کا قریبی دوست بھی تھا،

Read more

وزیراعظم صاحب، اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہو گی

تاریخ کا ناقابلِ تردید سبق ہے کہ کوئی فرد یا قوم غلطی کرنے سے نہیں، غلطی پر اَڑنے سے برباد ہوتی ہے۔ اسی طرح مشہورِ عالَم یونانی ڈرامہ نویس سوفوکلیز کا ایک قول ہے کہ غلط شخص کے مشورے پر عمل ایسے شخص سے مشاورت سے بھی زیادہ نفرین انگیز اور ناقابلِ معافی عمل ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں ہمارے حکمرانوں کے فیصلے انہی اقوال کی زندہ تشریحات ہیں۔ اول اول خالصتاً طبی معاملے میں علماءِ دین سے مشاورت

Read more

مولوی جیت گئے، حکومت مان گئی

لیجیے صاحب! آخرکار وہی ہوا، جس کا واضح امکان تھا۔ مملکتِ خداداد میں دین و ملت کے پاسبان پھر کامیاب و کامران ہوئے اور حکومت نے بالآخر وہی کیا جو وہ ہمیشہ سے کرتی چلی آ رہی ہے۔ حکومتی مداومتِ عمل کی بدولت ہم جیسوں کا اندازہ بھی درست نکلا جن کا کبھی تربوز سرخ نہیں نکلتا۔ اس فتحِ مبین کا اعلان تو علماءِ بے مثل نے اپنی پریس کانفرنس میں ہی کر دیا تھا لیکن فتح نامے پر مہرِ

Read more

بھولا صاحب مفتی منیب کے حکم کا انتظار کر رہے ہیں

”سر جی! ویسے اخیر ای نئیں ہو گئی، کوئی شرم ہوتی اے، کوئی حیا ہوتی اے، ہماری حکومت تو اُکاّ ای بس۔ چھڈو جی، کیا بات کرنی اے۔ “ ” او بھولے کیا ہو گیا، خیریت ہے، بڑا ناسوں سے دھواں نکال رہے ہو۔ “ ” جب بندے کے اندر بالن بل رہا ہو تو ناسوں سے دھواں ای نکلنا اے ہور رَو نکلنی اے۔ “ ” بس وئی بس، اتنا غصہ! او بات کیا ہے؟ “ ” بات کیا

Read more

ادب میں آمد اور آورد کی بحث

آمد اور آورد خالصتاً شاعری کی اصطلاحات ہیں۔ کچھ حضرات فکشن کو بھی اس کے تناظر میں دیکھنے لگے ہیں۔ لہذا اس منظر نامے میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے قبل بہتر ہوگا کہ آمد اور آورد کے تصور پر کچھ بات ہو جائے۔ آمد کے مؤیدین تخلیقِ فن میں نظریہ القاء کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک تخلیقی عمل حالتِ استغراق میں حواس کے زائل ہونے کے لمحے میں پیدا

Read more

ادب میں آمد اور آورد کی بحث

آمد اور آورد خالصتاً شاعری کی اصطلاحات ہیں۔ کچھ حضرات فکشن کو بھی اس کے تناظر میں دیکھنے لگے ہیں۔ لہذا اس منظر نامے میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے قبل بہتر ہوگا کہ آمد اور آورد کے تصور پر کچھ بات ہو جائے۔ آمد کے مؤیدین تخلیقِ فن میں نظریہ القاء کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک تخلیقی عمل حالتِ استغراق میں حواس کے زائل ہونے کے لمحے میں پیدا

Read more

فاروق خالد کا ناول ”سیاہ آئینے“

کسی ایسے ناول کے بارے میں لکھنا جس کا ادبی مقام متعین ہو چکا ہو، آسان نہیں ہوتا۔ ایسے فن پارے کے مختلف زاویوں اور جہتوں پر سیر حاصل بات عموماً ہو چکی ہوتی ہے، لہذا ایسی تحریر پر قلم اٹھانے کا سزاوار کوئی فقط اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب وہ اس کا کوئی نیا پہلو دریافت کرے یا اس کے حسن و قبح کے حوالے سے کوئی نیا نکتہ اٹھائے۔ فاروق خالد کے آدم جی انعام یافتہ

Read more

میں کیوں لکھتا ہوں: مشہور ادیب بتاتے ہیں

میں کیوں لکھتا ہوں، یہ کسی بھی ادیب کا بنیادی استفہامیہ ہے۔ اس سوال کا یکتا جواب ممکن نہیں ہے۔ ہر ادیب اس کا جواب اپنے تخلیقی رجحان، فکری ضابطے اور فنی تجربات کی روشنی میں دیتا ہے۔ جیسے ”محبت اپنا اپنا تجربہ ہے“ بعینہ ہر ادیب لکھنے کا ایک مختلف، منفرد اور علاحدہ جواز رکھتا ہے یعنی جتنے ادیب ہیں کم و بیش اتنے ہی جواب ممکن ہیں۔ نوبل انعام یافتہ، لاطینی امریکن ناول نگار ماریو ورگاس لوسا (Mario

Read more

کرونا بمقابلہ مولانا

”اؤ بھولے! مجھے دیکھ کر ہنس کیوں رہے ہو؟ “ ” او کج نئیں سر جی، بس ایوئیں، کھی کھی کھی۔ ہاہاہاہا۔ “ ” اوں ہوں! پھر وہی حرکت۔ “ ”سر جی! آپ کے منہ پر یہ چِھکّو بڑا مذاقیہ لگ رہا ہے، ایسے لگ رہا ہے جیسے آپ نے منہ کی پوشش کرائی ہے۔ ہاہاہاہا۔ “ ” او جاہل آدمی! یہ چِھکّو نہیں ماسک ہے ماسک۔ بدتمیزا۔ آج کل کرونا کی بیماری عام ہے، بچنا ہے تو پہننا ہی

Read more

ماروی سرمد، ہم آپ کے شکر گزار ہیں

خلیل الرحمٰن قمر صاحب، خدارا، اب بس کیجئے۔ آپ کے حقوقِ نسواں، فیمنزم اور اس کے علمبرداروں سے متعلق متعصب، زہریلے اور نفرین انگیز خیالات سے پہلے ہی بہت دل زخمی ہیں جو اب آپ ان زخموں پر مسلسل نمک پاشی بھی کر رہے ہیں۔ صاحب! اپنی حدود میں رہیں اور اپنی زبان کو تہذیب آشنا نہیں کر سکتے تو مفادِ عامہ میں منہ بند رکھیں۔ آپ کے جملوں کی سڑاند اور تعفن سے ماحول مزید مہلک ہو رہا ہے۔

Read more

عاصم بٹ کا ناول بھید: وجود کی تلاش کا سفر

بھید معروف ناول نگار محمد عاصم بٹ کا تازہ ترین ناول ہے۔ اس سے قبل وہ دائرہ جیسا رجحان ساز ناول لکھ چکے ہیں۔ ان کا ایک ناول ناتمام UBL ایوارڈ بھی وصول چکا ہے۔ دو عدد افسانوی مجموعے، مشہور اردو فکشن نگاروں کے انتخاب، بے شمار ادبی مضامین، کافکا، بورخیس اور جاپانی کہانیوں کے تراجم وغیرہ اس کے علاؤہ ہیں یعنی وہ کلہم ادیب ہیں۔ یہ جتنا بڑا اعزاز ہے اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی ہے سو عاصم

Read more

لغت زبان کا منبع نہیں، مستعمل کی بازگشت ہے

”بھائی صاحب! لغت لفظ کے معنی اور اس کے درست استعمال کی تفہیم کا واحد مستند ذریعہ نہیں ہے۔ “ ”کیوں اور کیسے بلکہ کیونکر؟ “ ”عزت مآب! مجھ ہیچ مداں کی تو اس سے آگے جانے کی مجال نہیں۔ لیکن علماء ِ لسانیات اسے فقط ثانوی درجہ دینے پر راضی ہیں۔ “ ”اگر لغت ثانوی ذریعہ ہے تو کیا لفظ کا معنی آسمان سے ٹپکتا ہے؟ “ ”نہیں حضور! زمین سے پھوٹتا ہے، جہاں ازل سے اگ رہا ہے۔

Read more

ماں بولی کا قرض

کیسا روح پرور اور فرحت آگیں موقع ہے کہ پنجاب کے ایک شہر میں ایک پنجابی دوسرے پنجابی کے پنجابی بولنے پر برسرِعام اس کا محاکمہ کر رہا ہے۔ ناصرف محاکمہ بلکہ فرمانِ با المشافہہ جاری کر رہا ہے کہ: خبردار جو اب مجھ سے اس غیر متمدن زبان میں بات کی۔ بھئی سبحان اللہ! طبیعت شاد ہو گئی۔ ثریا سے زمین پر گرتے کا نظارہ خواہش تھی سو اذنِ قدرت سے پوری ہوئی، اس بابت اب کوئی حسرت باقی

Read more

احسان تیرا ہوگا مجھ پر

”احسان تیرا ہوگا مجھ پر۔ دل چاہتا ہے وہ کہنے دو۔ “ ”اؤ بھولے خیر ہے! بڑی سُریں لگا رہے ہو“۔ ”مان میرا احسان۔ ارے نادان کہ میں نے تجھ سے کیا ہے پیار۔ او میں نے۔ “ ”ہش کے وئی ہش کے“ ”احسان میرے دل پہ۔ تمہارا ہے دوستو۔ یہ دل تمہارے پیار کا مارا ہے دوستو! ۔ احسان۔ “ ” اللہ خیر پھر احسان والا گانا! “ ” یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران۔ اے قائدِ

Read more

خلیل الرحمٰن قمر کے فیمینزم اور عورت کے بارے میں خیالات

آج کل سوشل میڈیا پر ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر صاحب کا ایک ویڈیو کلپ مردانِ آہن اور دخترانِ مشرق بڑے ذوق و شوق سے شئیر کر رہے ہیں، جس میں موصوف خطیبانہ جوش اور کاملاً مشرقی مردانہ لہجے میں نسائی پسندی یعنی فیمنزم کی زجرو توبیخ میں مصروف عمل ہیں۔ اس کلپ کی توصیف پر مجاہدینِ ملت رٹی رٹائی اسناد اور تنقید پر بلیغ القابات تقسیم کر رہے ہیں۔ خلاصہ ان کے کلامِ لازوال کا یہ ہے کہ انہیں

Read more

میری جان! ہم دودھ میں ملاوٹ نہیں کرتے

”میری جان! ہم دودھ میں ملاوٹ نہیں کرتے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسے غریبوں کی قوتِ خرید میں لا رہے ہیں۔ اب تمہی بتاؤ کہ خالص دودھ کم از کم ایک سو تیس روپے لیٹر میں ملتا ہے اور ہم بیچ رہے ہیں اَسّی روپے میں۔ سرکار! اپنا سوچنے کا انداز بدلو، نیک نیّتی سے کیے گئے کاموں میں خدا کے لیے مین میخ نکالنا چھوڑ دو“ ”پھر بھی میرا مطلب ہے کہ آپ خالص چیز بیچیں نا، چلیں

Read more

وزیرِ تھپڑ

وزیرِ باشمشیر کے دستِ دندان شکن نے انتہائی قلیل مدت میں دوسرا قلعہِ رخسار فتح کرلیا۔ یہ عظیم الشان کامیابی بھی گزشتہ فتحِ سعید کی طرح ایک شادی خانہ آبادی کی پرمسرت تقریب میں بزور حاصل کی گئی۔ اس دوران محافظانِ وزیر با شمشیر بھی حریفِ ناتواں پر اس بے نظیر فتح و ظفر کا فتح نامہ تحریر کرتے رہے جسے وہاں موجود کچھ بدذوق اور مذاقِ سلیم سے محروم لوگوں نے ٹھڈوں اور گھونسوں سے معنون کیا۔ وزیرِ اناگیر

Read more

کھلاڑیوں کے کھلاڑی

بھولا آج پھر رو رہا ہے۔ ”اؤ بھولے کیوں رو رہا ہے؟ تجھے میں نے کتنی مرتبہ کہا ہے کہ اس طرح باگا اَڈ کے نہ رویا کر۔ تُو تو سادہ اچھا نہیں لگتا اوپر سے۔ آہو۔ “ ”سر جی آپ کرلیں مخول۔ کریں، جرور کریں بلکہ ایک آدھ ریپٹا بھی لگائیں۔ لگائیں، کر لیں سینہ ٹھنڈا پر یہ نہ پوچھئیے گا کہ بھولے رو کیوں رہا ہے۔ “ ” اوئے نہ میری جان، اتنا جذباتی نہ ہو، تو جانتا

Read more

جتھوں کا دیس

وطنِ عزیز جتھوں کی آماجگاہ بن چکا ہے جہاں ہر شخص قانون کے بجائے اپنے گروہ میں تحفظ تلاش کر رہا ہے کیونکہ قانون انہیں تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہے۔ ہر شخص اپنی گروہی وابستگیوں کی بدولت اپنے جتھے کی غلطی ماننے اور اس کی مذمت کرنے کے بجائے اس کا بے جا دفاع کر رہا ہے۔ ایک صحت مند سماج کی بنیاد رکھنی ہے تو غلط کو غلط کہنا ہوگا گروہی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حق

Read more