روشن خیالی: بے حیائی کی چوٹی پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب کوئی بدی کو نیکی اور برائی کو اچھائی ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگتا ہے اور جان بوجھ کر گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اسی سلسلے کی ایک کڑی ”فحاشی اور بے حیائی“ کا عذاب ہے جو ”روشن خیالی“ کے نام سے پروان چڑھایاجارہا ہے۔ قرآن کریم میں جابجا ”فحاشی“ کی مذمت اور اسے شیطان کا عمل قراردیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے قیامت کی جو علامات بتائی ہیں، ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ بہت سے گناہوں اور برائیوں کا ارتکاب مہذب اور شائستہ ناموں سے کریں گے، شراب نوشی کریں گے مگر نام بدل دیں گے، سود خوری کریں گے اور اس کو نام کچھ اور دے دیں گے۔

غور کیا جائے تو یہ برائی کی سب سے بدترین صورت ہوتی ہے، کیوں کہ اس میں بھلائی کے لبادے میں برائی کی جاتی ہے، تہذیب کے نام پر بد تہذیبی کو روا رکھا جاتا ہے، آزادی کے نام پر نفس کی غلامی کی راہ ہموار کی جاتی ہے، اسلام جس وقت دنیا میں آیا اس وقت بھی کم وبیش یہی حالت تھی، اہل عرب اپنے کو دین ابراہیمی کا پیروکار کہتے تھے، لیکن پوری طرح شرک میں ملوث تھے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النحل میں فرماتا ہے ”اللہ حکم کرتا ہے انصاف کرنے کا اوربھلائی کرنے کا اور قرابت والوں کو دینے کا اور منع کرتا ہے بے حیائی سے اور نامعقول کام سے اور سرکشی سے۔ “

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ تین چیزوں سے بچنے کا حکم دے رہے ہیں :

1۔ بے حیائی سے،

2۔ منکر یعنی ناجائز کام سے،

3۔ سرکشی سے۔

فحاشی ہر اس برے اور بے حیائی کے کام کو کہا جاتا ہے جس کی برائی انتہائی درجہ کو پہنچی ہوئی ہو اور عقل وفہم کے نزدیک بالکل واضح ہو۔

دوسری جگہ سورۃ البقرہ میں ارشاد باری ہے ترجمہ: ”شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بے حیائی کا حکم دیتا ہے“۔

سورۃ النور میں ارشاد باری فرماتاہے :

ترجمہ: ”جو شخص شیطان کے پیچھے چلے تو شیطان تو ہمیشہ بے حیائی اور ناجائز کاموں کی تلقین کرے گا“۔

گزشتہ کچھ عرصہ سے مسلم معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی کا سیلاب جس تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، یہ ایک افسوس ناک اور خطرناک صورت حال ہے، جس کا سد باب ضروری ہے، ورنہ فحاشی اور بے حیائی کا یہ سیلاب پوری قوم کو لے ڈوبے گا۔ کسی غیر اسلامی معاشرہ میں فحاشی اور بے حیائی کا ہونا کوئی نئی بات نہیں، مگر اسلامی معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی کا ابھرنا ایک لمحہ فکریہ ہے!

فحاشی اور بے حیائی نہ روکنے پر اوراس پر خاموش رہنے کی صورت میں جو خطرات آنے والے ہیں، ان خطرات کے آنے سے قبل ہی ہمیں اس کا سدباب کرنا ہوگا اور اس کے لئے انفرادی واجتماعی، اور عوامی سطح پر کوشش کرنا ہوگی ورنہ یہ سیل رواں بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، اللہ تعالیٰ اس وقت سے ہماری حفاظت فرمائے۔

فحاشی اور بے حیائی سے بچنے کے لیے چند ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن کا ذکردرج ذیل ہے :

1۔ ہر شخص اپنا ایک حلقہ اثر رکھتا ہے، اپنے گھر، اپنے محلہ، اپنے قبیلہ، اپنی مسجد، اپنی جماعت میں اس آگ کو بجھانے کے لئے آواز بلندکی جائے، خطباء منبر ومحراب، مقررین اسٹیج اور اہل علم اپنے قلم سے اس وبا سے بچانے کے لئے صدائیں لگائیں، ان نالوں کا زیادہ نہ سہی، اثر ضرور پڑے گا۔

2۔ بے دینی اور فحاشی کی روک تھام کے لئے ان اداروں پر دباؤ ڈالنا بھی بہت ضروری ہے جو اس کے پھیلانے اور عام کرنے میں سرگرم ہیں، قطع نظر اس کے کہ پس منظر میں کون سی قوتیں کار فرما ہیں، جن اداروں سے براہ راست شرپھوٹ رہا ہے، ان کی سرکشی کو لگام دیے بغیر یہ وبا رکے گی نہیں۔ ان اداروں پر دباؤ ڈالنے کی ایک صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ شہر کے معززین، ان اداروں کے ذمہ داروں سے مل کر انہیں اپنے جذبات سے آگاہ کریں اور ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ قانون ہاتھ میں لئے بغیر جمہوری طریقے سے ان اداروں کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا جائے۔ یہ کام وہ اسلامی جماعتیں بہت آسانی کے ساتھ کر سکتی ہیں جن کے پاس کارکنوں کا ایک منظم لشکر موجود رہتا ہے۔

3۔ ہر آدمی اپنے اور اپنے گھر کی حد تک ضرور کچھ نہ کچھ اثر رکھتا ہے اور اپنے زیر اثر حلقے میں برائی کے خلاف آواز اٹھانے کا ہر شخص مکلف بھی ہے، گھر کی بیٹی، بہن، بیٹے، بھائی اور افرادِ خانہ کو نئی تہذیب کی اس سڑاند سے محفوظ رکھنا، گھر کے ہر باشعور بڑے کی ذمہ داری بنتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *