خلیل الرحمان قمر عورت مارچ کے ہیرو ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت مارچ کو کامیاب بنانے اور اس کے مخالفین کو یک جنبش زبان بیک فٹ پر لانے کے ضمن میں خلیل الرحمان قمر کی خدمات ناقابل فراموش کہلائیں گی۔

ہر برس عورت مارچ زیادہ طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔نتیجہ یہ کہ اس سے خوفزدہ لوگ اس کی مخالفت میں شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔پچھلے برس انہوں نے چند نقاب پوش خواتین فوٹو شوٹ کے میدان میں اتاری تھیں جنہوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر کچھ ایسی عبارات لکھی تھیں “مجھے گھر کی ملکہ بننا پسند اور تجھے گلی کی کتیا بننا پسند ہے”۔غالباً اس سے مطلوبہ مقصد حاصل نہیں ہوا اس لیے انہوں نے عورت مارچ کا مقابلہ کرنے کے لیے اس برس مخالف خواتین کی ریلی گلی میں اتارنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے ایک ترانہ بھی ریلیز کر دیا ہے۔

اس برس جمعیت علمائے اسلام بھی عورت مارچ سے خوفزدہ دکھائی دے رہی ہے۔اس نے اس مارچ کو دین، مذہب اور ثقافت کے علاوہ 1973 کے آئین کے خلاف بھی قرار دیتے ہوئے اسے روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔عورت مارچ کی منتظمین کو دھمکیاں دینے کی اطلاعات بھی ہیں۔

خاص طور پر دو نعروں نے عورت مارچ کے مخالفین کو ہراساں کر رکھا ہے۔پہلا “اپنا کھانا خود گرم کرو” اور دوسرا “میرا جسم میری مرضی”۔حالانکہ سب مخالفین یہ جانتے ہیں کہ عورتوں کو یہ حقوق دینا دین، مذہب اور ثقافت کے علاوہ 1973 کے آئین کی سنگین خلاف ورزی ہو گی۔جسے یقین نہیں وہ جمعیت علمائے اسلام والوں سے پوچھ لے۔

 1973 کا آئین صنف کی تفریق کے بغیر سب شہریوں کو برابر کے حقوق دینے کا تو کہتا ہے مگر یہ کہیں نہیں کہتا کہ شوہر اپنا کھانا خود گرم کریں گے اور عورت کو اپنے جسم پر اختیار ہو گا۔ویسے بھی سب جانتے ہیں کہ یوں تو تمام انسان برابر ہیں لیکن مرد عورتوں سے زیادہ برابر ہوتے ہیں۔

یعنی ہر سمت سے عورت مارچ کے خلاف بھرپور مہم چلائی جا رہی تھی۔ایک یلغار ہو رہی تھی جس میں دائیں بازو کے اہم فلسفی اور رائٹر پیہم فتوحات کے جھنڈے گاڑ رہے تھے۔ان کی تبلیغ سے متاثر ہو کر بعض خواتین بھی یہ کہنے لگی تھیں کہ وہ عورت مارچ سے اتفاق نہیں کرتیں۔یعنی صورت حال عورت مارچ کے خلاف تھی اور اس کے حامی پسپائی کا شکار دکھائی دے رہے تھے۔

ایسے میں اچانک ان کی غیب سے مدد ہوئی۔ایک مسیحا خلیل الرحمان قمر نامی ٹی وی پر نمودار ہوا جس کے زور قلم کا زمانہ معترف ہے۔گزشتہ دنوں ان کے دو ٹکے والے ڈائلاگ بچے بچے کی زبان پر تھے۔ان کے ڈرامے چھوٹی سکرین سے بڑھ کر بڑی سکرین تک پہنچ گئے تھے۔

اس مسیحا نے الفاظ پر اپنی غیر معمولی گرفت کا اظہار ایک مرتبہ پھر کیا اور محض ایک منٹ میں پورا منظر ہی بدل ڈالا۔وہی لوگ جو عورت مارچ کی مخالفت کر رہے تھے اب ماروی سرمد سے اظہارِ الفت کرنے لگے۔کہنے لگے کہ وہ تو عورتوں کو حقوق دینے کے پرجوش حامی ہیں۔فضا ایسی بن چکی ہے کہ یہ لگ رہا ہے کہ وہ اگلے دو تین دن میں اپنا کھانا بھی خود گرم کرنے کا اعلان کر دیں گے بلکہ چندے تو ایسے ہمدرد ہوئے پھرتے ہیں کہ بعید نہیں وہ کھانا خود پکانے کا اعلان بھی کر دیں۔

جب خلیل الرحمان قمر نے اعلان کیا تھا کہ وہ سب سے بڑے فیمنسٹ ہیں تو کسی کو ان کی بات کا یقین نہیں آیا تھا۔اب عورت مارچ کے لیے ان کی غیر معمولی خدمات دیکھتے ہوئے منتظمین انہیں اعزازی عورت کا خطاب دینے پر غور کر رہے ہوں تو ہمیں حیرت نہیں ہو گی۔

اس سے قبل منو بھائی کو بھی عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے پر طاہرہ مظہر علی صاحبہ نے اعزازی عورت کا خطاب دیا تھا۔منو بھائی نے خطاب تو شکریے کے ساتھ قبول کر لیا مگر گھبرا کر کہا کہ “میں عورتوں کی طرح بچے نہیں جن سکتا۔” جس پر طاہرہ مظہر علی نے انہیں تسلی دی کہ “اعزازی ڈاکٹر سے علاج نہیں کرایا جاتا، یہ بس اعزاز کی بات ہوتی ہے۔‘‘

خلیل الرحمان قمر نے اپنے مکالموں اور گفتار سے عورتوں کے حقوق کے حق میں بیداری کی جو غیر معمولی لہر پیدا کی ہے اس کے اعتراف میں انہیں بھی اعزازی عورت کا خطاب دینے کی ہم تو پرزور سفارش کرتے ہیں۔لیکن خدشہ ہے کہ جیسا ان پر قوم اعتماد کر رہی ہے، کہیں انہیں اعزازی کی بجائے اصلی عورت سمجھ کر ان سے مشکل امید کا مطالبہ نہ کر دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1270 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *