عورتوں سے خائف معاشرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر سال فروری اور مارچ کا مہینہ مذہبی قوتوں کے لیے بہت بھاری ثابت ہوتا ہے کیونکہ چودہ فروری کو ویلنٹائن ڈے اور آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کو پاکستان سمیت پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ کہنے کو ہم عرب ممالک اور ایران کو استثنٰی کا درجہ دے سکتے ہیں مگر یہ ہماری خام خیالی پر مشتمل ہوگا۔ گھٹن زدہ معاشروں میں سب کچھ ہوتا ہے مگر ریاست کا میڈیا ان کو ہائی لائیٹ نہیں کرتا اور پوری طرح سے کنٹرول بھی نہیں کر پاتا۔

جوں جوں آٹھ مارچ کا دن قریب آرہا ہے وطنِ عزیزمیں اس دن کے حوالہ سے طرح طرح کے تماشے عروج پر ہیں۔ ملک کی مختلف سڑکوں پر مذہبی جماعتوں کی طرف سے بینرز آویزاں کر دیے گئے ہیں جن پر یہ جملہ جلی حروف میں لکھا ہوا نظر آتا ہے کہ ”مرد عور ت کامحافظ ہے“ اس کے علاوہ ملک کے مختلف مذہبی حلقوں کی طرف سے خواتین کو ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے کہ وہ آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن منانے کے لیے سڑکوں پر مارچ مت کریں ورنہ سختی سے نمٹا جائے گا مذہبی حلقوں کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کے ”کافرانہ تہوار“ منا کر ہم یورپی کلچر کو فروغ دے رہے ہیں اور ہم یہ برداشت نہیں کریں گے۔

جان کی امان پاؤں توکچھ عرض کروں کہ اس طرح کے رویے کا اظہار کر کے ہم کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟ ہمارا اپنا بچا کیا ہے کہ جس پر ہم اتنا اترا رہے ہیں سوائے چند بھونڈے نعروں کے، جن کا اظہار ہم ویلنٹائن ڈے پر ”یوم حیاء“ اور خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ”مرد عورت کا محافظ ہے“ کے بینرز کی صورت میں فرماتے ہیں۔ آپ نے ہر تہوار پر مذہبی ٹیگ چسپاں کر دیا ہے اور ان تہواروں کو منانے والوں کے لیے جہنم کا پروانہ بھی جاری کر رکھا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اتنے زیادہ خود پسند کیوں ہیں؟ ہمارے مذہبی حلقوں کو خواتین سے اتنا خوف کیوں محسوس ہوتا ہے؟ خواتین کو بے حجاب دیکھ کر ان کا ایمان خطرے میں کیوں پڑ جاتا ہے؟ ان کو یہ کیوں لگتا ہے کہ عورتیں بے بس ہوتی ہیں اور ان کو ہمارے تحفظ کی ضرورت ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو آج کی عورت بہت مضبوط ہوچکی ہے۔ ملک کے مختلف تعلیمی بورڈز اور یونیورسٹیوں کے امتحانی نتائج اس بات کا ثبوت ہیں اور خواتین کی لٹریسی شرح دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔

خواتین اگر بطور وزیر اعظم خود کو منواسکتی ہیں تو وہ دن دور نہیں ہے کہ جس دن ہم خواتین کی اکثریت کو ”ایلیٹ پوسٹ“ پر َسرو کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ میری نظر میں مذہبی حلقوں کو عورت کی فکر کرنا چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ آج کی عورت بہت باشعور ہو چکی ہے وہ اپنے اچھے اور بُرے کا بھرپور ادراک رکھتی ہے اور وہ خود کا دفاع بھرپور طریقے سے کر سکتی ہے آپ کو ان کی ڈھال بننے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے۔ میری مذہبی حلقوں سے درخواست ہے کہ وہ عورت مارچ کو روکنے کی بجائے گومل یونیورسٹی کے گریڈ اکیس کے ڈِین فیکلٹی آف اسلامیات پروفیسر صلاح الدین کے خلاف آواز اٹھائیں کہ جس نے دوران تفتیش اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ گزشتہ دس سال سے طالبات کو بلیک میل کر رہا ہے اور کتنی لڑکیوں کو بلیک میل کر چکا ہے تعداد یاد نہیں ہے۔ اگر خواتین کے تحفط کی اتنی فکر ہے تو ان جیسے درندہ صفت لوگوں کے خلاف آواز بلند کریں اور ثواب دارین حاصل کریں۔

بقول ڈاکٹر سہیل ؔ

جن رشتوں پہ ناز تھا مجھ کو

ان رشتوں کی آگ میں برسوں

دھیرے دھیرے سُلگی ہوں میں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *