تمہارے جسم پر کوئی تھوکتا بھی نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر مرد و زن، ہر مذہب ہر فرقے کے انسان کی زبان پر اپنی بیٹی، بیوی اور بہن کو دیکھ کر ایک دعا بے ساختہ آ جاتی ہے ”اے مولا کریم انھیں سیرتِ فاطمہ الزہراءجیسی، حضرت عائشہ جیسی پاکیزگی اور زینتِ فردوس حضرت زینب جیسی بہادری استقامت اور صبر عطا فرما“

مگر ہم مردوں کا من بہت شاد ہوتا ہے جب ہم روڈ پر کسی دوسرے کی بہن بیٹی یا بیوی کو ناچتے مستاتے یا مٹکتے دیکھیں، ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ ہم گھر کے باہر ایسا ماحول پیدا کریں جس میں کوئی بھی عورت اپنا جسم اپنی مرضی سے جب چاہیے جہان چاہیے استعمال کرے، یا ہمیں موقع دے کہ ہم اُس کا جسم اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرسکیں۔ وہ کچھ پہنے نہ پہنے اس کا اُسے مکمل اختیار دینا چاہتے ہیں مگر اپنی گھرکی خواتین کو سرور کائنات کی با حیا باپردہ اور دلیر ازواج مطہرات اور بیٹیوں کی سیرت پر چلتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

ہم ڈراموں فلموں، کمرشلز ناولوں اور افسانوں میں عورت کو ننگا کر کے، اُس کی آزادی یا جسمانی تعلقات کو فلما کر یا لکھ کر اپنی پراڈکٹ، کتاب فلم یا ڈرامے کو سیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اپنی عورتوں کے ایسا کرنے پر سیخ پا ہو جاتے ہیں۔

کیا ہیر کے قصیدے پڑھنے اور کیدو پر تبریٰ کرنے والے لوگ اپنی بیٹی کو بھی اجازت دیں گے کہ وہ کسی رانجھے سے چھپ چھپ کر ملے، کیا ہیر وارث شاہ پڑھ کر اُس کی پریشانی پر آنسو بہانے والے اپنی بیٹی کے لیے وہ آسانیاں پیدا کرنا پسند کریں گے جو وہ ہیر یا کسی دوسری ہیروین کے لیے سوچتے ہیں؟ یا وہ حقیقی زندگی میں کیدو کا کردار ادا کرنا پسند کرتے ہیں؟

ہر انسان اُس دور کی تعریف کرتا پایا جائے گا کہ جب لوگ دوسروں کی بیٹیوں کی عزت کے لیے اپنی جان دے دیا کرتے ہیں۔ ہم سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ننگے سر پھرتی یہودی بیٹی کے سر پر اپنی چادر ڈالنے کا واقعہ سناتے پائے جائیں گے مگر حقیقی زندگی میں دوسروں کی بہن بیٹیوں کے سر سے چادر نوچنے کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ ہم سب منافق ہیں، ہم اسلام کی مقدس بیٹیوں پر اپنی بیٹوں کے نام رکھتے ہیں مگر این جی اوز، یورپین معاشرے کی پیروئی کر کے خود کو آزاد خیال دکھانے کے لئے ہر قدم اٹھانے کو تیار رہتے ہیں۔

کیا وہ اپنی بیٹوں کو نبی کریم، اہل بیت اور صحابہ کرام کے بتائے طریقوں پر چلانا پسند کریں گے یا ”میرا جسم میری مرضی“ جیسے نعرے یا اس کی اپنی سوچ اور مرضی سے کی تشریح پر۔

دراصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اِس نعرے کی تشریح اپنی گندی سوچ کو مدنظر رکھ کر کی ہے اور کچھ اُس نعرے کو لے کر چلنے والی خواتین کے انداز نے بھی اِسے مشکوک بنا دیا ہے۔ ہم نے عورت کو یا اِس نعرے کو اس کی روح کے مطابق سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ بس اپنے خیالات میں عورت کا واحد مقصد سوچ کر اس کی مخالفت میں اتر آئے۔

کیا آپ سمجھتے کہ آپ کو کسی عورت کو جسمانی ایذا پہنچانے کا کوئی حق ہے؟ چادروں میں لپٹے جسموں کی پیمائش کرنے کا کوئی حق ہے۔ سارے گھر کا بوجھ ایک عورت کے جسم پر لادنے کا کوئی حق ہے، گاڑی چلاتی بائیک چلاتی بیٹی بہن بیوی کو دانستہ طور پر ڈرانے، گرانے یا ٹریفک میں تنک کرنے، طنزیہ مسکرانے اور قہقہے لگانے اور اُس کے جسمانی ساخت بارے نازیبا تبصروں کا کوئی حق ہے۔ کیا کسی کلین شو یا داڈھی والے پروفیسر، ٹیجر معلم یا افسر جو کسی مجبور بچی کو ہراساں کرنے کا حق ہے؟

یا محافظ کی وردی زیب تن کیے نجی محافل میں عورتوں پر گندے لطیفے سنانے کا کوئی حق ہے؟ اگر آپ اِسے اپنا حق سمجھتے ہیں تو مکمل آزاد خیال بنیں، منافقت چھوڑیں اور دوسروں کو بھی اِس بات کی کھلی اجازت دیں کہ وہ بھی آپ کی بہن بیٹی کے ساتھ ویسا ہی کرے جیسا آپ عورت کا خاکہ اپنے دماغ میں بنا کرکرنے کا سوچتے ہیں۔

عورت ہمارے معاشرے کا اہم ترین جز ہے اِس کی ترقی آزادی اور تعلیم کے بنا نہ ہم اچھی اور سلجھی نسل تیار کر سکتے ہیں اور نہ ہی ملک و قوم کو ترقی دے سکتے ہیں۔ ہاں میں تعلیم روزگار کھیل و سماج آزادی کے مکمل حق میں ہوں۔ آپ اُس کی زبردستی شادی کروا کے کسی ناپسندیدہ انسان کو اُس کا جسم نوچنے کی اجازت نہیں دے سکتے، کسی شعبہ زندگی میں اس کے جسم کو بنیاد بنا کر اُس کا راستہ نہیں روک سکتے اور نہ ہی اُسے مجھ جیسے منافقوں سے بچانے کو گھر بٹھا سکتے ہیں۔

بس بات اتنی سی ہے کہ کائنات میں پیدا شدہ ہر جاندار پر لازم نہیں کہ وہ دوسروں کی طرح ہر کام کرے۔ شیشم کی لکڑی سے فرنیچر بن سکتا ہے گلاب سے گھر مہک سکتا ہے کیونکہ کائنات کے خالق نے اُسے بنایا ہی ایسا ہے۔ اِس میں کوئی کمزوری یا مضبوطی کا عنصر زیر بحث نہیں ہونا چاہیے۔ جو کام گلاب کا ایک ناتواں پودا کر سکتا ہے وہ شیشم جیسا توانا درخت نہیں کر سکتا اس لیے میں تو یہی چاہتا ہوں کہ اپنی بہن بیٹی کو اپنی شفقت محبت اور اعتماد کے ساتھ ہر وہ کام کرنے کی مکمل اجازت دوں جس میں اُسے کم سے کم جسمانی تکلیف ہو، سردی گرمی اور گندی نظروں سے اُس کا جسم بچانا چاہتا ہوں کیونکہ میں اُس کا جسم صرف اس کا نہیں بلکہ اپنا جسم سمجھتا ہوں وہ میرے دل کا ٹکڑا ہے میرا حصہ ہے، میری جی و جان ہے یہ اُس پر پابندی نہیں یہ میری اُس سے محبت ہے۔

میں بیٹے کو کلہاڑی دے کر درخت پر چڑھاتا ہوں میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی کو کانٹا بھی چبھے۔ میں ریوڑ دے کر بیٹے کو پہاڑوں میں بھیجتا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی کے کوئی کنکر بھی چبھے، میں رات کو بیمار ہونے کے باوجود خود میڈیکل اسٹور تک جاتا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے آنگن کا پھول کسی کی گندی نظر سے میلا ہو کیونکہ میں آس کا جسم صرف اُس کا نہیں اپنا جسم بھی سمجھتا ہوں۔

میں اُسے ہرگز کمزور نہیں سمجھتا مگر کیا کروں میں اُس کی تکلیف برداشت نہیں کر سکتا اُس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا۔ اُسے ایسی کسی تکلیف سے بچانے کو بحیثیت بھائی بیٹا یا باپ اپنی گردن کٹوا دیتا ہوں۔

بس یہی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ میری بیوی میری بیٹی، میری بہن میرے دل کا وہ نازک حصہ ہے جس پر میں کوئی ضرب برداشت نہیں کر پاتا۔ میں اُسے چند لوگوں کی، چند لمحوں کی تسکین کے لیے روڈ پرجسم کو لے کر لے کر نعرے مارنے نہیں بھیج سکتا کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ اُس کے اردگرد کھڑے لوگ بھی مجھ جیسے منافق ہیں اُن کے غلیظ ذہنوں میں جسم سے کیا مراد ہے اور وہ اِس وقت تخلیق کے کن مراحل میں جسم کو کیسے استعمال کا سوچ رہے ہیں؟

وہ چاہیے مولوی ہوں لبرل ہوں یا خلیل الرحمن قمر جیسے ڈرامے باز یا مجھ جیسے سو کالڈ مومن، ہماری کمان آ کر عورت کے جسم کے کسی ایسے ہی مصرف پر ٹوٹتی ہے۔

اب اس ساری تمہید کے بعد آتا ہوں کل نشر ہونے والے پروگرام کی طرف جس میں خلیل الرحمن قمر نے اچھی ابتدا کی، سلجھے انداز اور دھیمے لہجے میں بات شروع کی مگر سرمد ماروری کے ٹوکنے پر اُس کے اندر چھپے وحشی مرد سے برداشت نہ ہوا کہ کوئی عورت اُسے ٹوک دے یا اُس کی بات کاٹ دے۔ یہ رویہ پریشان کرتا ہے جو انسان ایک آزاد خیال معروف اور غیر عورت کے ساتھ ایسا انداز اپنا سکتا ہے وہ اپنے گھر کی عورتوں کو کتنی جسمانی اور ذہنی تکالیف دیتا ہو گا خدا کے بندے عورت تجھ سے یہی حق تو مانگ رہی ہے کہ تو اپنی بیوی بیٹی اور بہن کی تلخ یا غیر دانشمندانہ بات سن کر بھی شفقت، محبت اور پیار سے اَسے سمجھائے نا کہ چیخ کر، ڈانٹے اور انگلش میں مغلظات بکنے لگے منہ سے تیرے جھاگ بہنے لگے اور تُو ہوش و حواس کھو دے۔

زبان انسان کے خاندان کا پتا دیتی ہے اور غصہ انسان کی اصلیت ظاہر کر دیتا ہے کاش خلیل الرحمن قمر تم نے یہ چند جملے نہ بولے ہوتے۔

” تمہارا جسم ہے کیا۔ کبھی اپنا جسم دیکھو۔ تمہارے جسم پر تھوکتا بھی نہیں کوئی۔

خلیل الرحمن قمر کوئی اَس کے جسم پر تھوکے یا نہ تھوکے مگر آج ساری قوم تم پر تھوک رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *