اب زندہ دلان اہل ملتان ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”ریلو کٹوں“ سے شروع ہونے والا پی ایس ایل کا میلہ آج مکمل طور پر پاکستان میں منعقد ہورہا ہے، مسلم لیگ ن کی گزشتہ حکومت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے 2016 ءمیں انڈین پریمیئر لیگ کے مقابلے میں پاکستان سپر لیگ اس وقت شروع کی جب سکیورٹی کی صورتحال کے باعث پاکستان میں کرکٹ کھیلنا ناممکن تھا۔

سری لنکا کرکٹ ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان پر انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے تھے، پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی ابتدا بنیادی طور پر پی ایس ایل سے ہی ہوئی، نجم سیٹھی کی کوششوں سے دنیا کے مایہ کرکٹرز پی ایس ایل کا حصہ بنے جس سے پاکستان کا امیج بہتر ہوا اور اندھیرے میں روشنی کی ہلکی سی کرن نظر آئی اسی کی بدولت آج اجالا ہوا ہے اور پوری پی ایس ایل پاکستان میں ہورہی ہے، سکیورٹی کی وجہ سے سابقہ ہونیوالی پی ایس ایل کے زیادہ تر میچز دبئی میں ہوتے رہے، عوام پاکستان میں کرکٹ سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہے۔

پھر سیمی فائنل اور فائنل پاکستان میں رکھے گئے یعنی عوام کو ”چونگے“ کے طور پر دو تین میچز دکھا کر خوش کیا گیا، 2016 ءاور اس کے بعد ہونے والی پی اسی ایل میں غیرملکی کھلاڑیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اس کے ساتھ ساتھ موجودہ وزیراعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی سیاست اس وقت عروج پرتھی، اپوزیشن میں عوام کی اچھی خاصی تعدادان کی حامی بنتی گئی ان حالات میں پی ایس ایل کا کامیاب ہونا عمران خان کو برداشت نہیں تھا اور انہوں نے پی ایس ایل کو نقصان پہنچانے کے لئے میرے خیال میں دانستہ طور پر یہ بیان دیا کہ ”پی ایس ایل میں ریلوں کٹے کھلائے جارہے ہیں“، اس بات پر ہنگامہ برپا ہوگیا، بلکہ یہ کہا جائے کہ عمران خان نے بین الاقوامی کرکٹرز کی توہین کی۔

ان تمام باتوں کے باوجود اُس دورمیں پی ایس ایل کے پاکستان میں ہونے والے میچز میں عوام کا بہت رش رہا، لوگ گھنٹوں لائنوں میں لگ کر میچز دیکھنے کے لئے فیملییز کے ساتھ آتے تھے، پی ایس ایل سیزن 5 کا آغاز 20 فروری کو کراچی سے ہوا، اب تک لاہور میں پانچ میچز ہوچکے ہیں، لاہوریوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ میلوں، ٹھیلوں کے بہت شوقین ہیں اس لئے لاہوریوں کو زندہ دلان لاہور کا خطاب دیا گیا مگر موجودہ پی ایس ایل میں شائقین کی مایوس کن تعداد قذافی سٹیڈیم میچز دیکھنے کے لئے آئی، اب تک ہونے والے میچز میں قذافی سٹیڈیم مکمل طور پر نہیں بھر سکا، یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی نا اہلی ہے یا پھر سکیورٹی وجوہات۔

ملتان کے کرکٹ سٹیڈیم میں پی ایس ایل کے تین میچز کھیلے گئے، تینوں میچز میں ہاؤس فل رہا بلکہ سٹیڈیم اووفلو رہا، ملتان کرکٹ سٹیڈیم دنیا کے بہترین سٹیڈیم میں شمار ہوتا ہے جس میں 35 ہزار سے زائد شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ قذافی سٹیڈیم لاہورمیں شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش 27 ہزار ہے، ملتان کرکٹ سٹیڈیم شہبازشریف کی وزارت اعلیٰ کے 1997 ءکے دور میں تعمیر کیا گیا تھا جس میں عالمی معیار کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، ایک رپورٹ کے مطابق غیر ملکی کھلاڑی بھی ملتان کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر اور اس میں فراہم کی گئی سہولتوں سے بہت متاثر ہوئے اور تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکے، شہباز شریف نے اپنی وزارت اعلی میں جو اچھے منصوبے بنائے ان میں ملتان کرکٹ سٹیڈیم بھی شامل ہے جس کو نہ سراہنا زیادتی ہوگی۔

ملتان میں 12، 14 سال بعد کرکٹ بحال ہوئی اور نئے تعمیر شدہ ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں یہ پہلا ایونٹ تھا، میرے دوست سجاد جہانیہ بھی میچ دیکھنے گئے وہ بتا رہے تھے کہ سٹیڈیم اتنا پیک ہوتا تھا کہ تل دھرنے کو بھی جگہ نہیں ملتی تھی، انکلوژر میں اوپر جانے والی سیڑھیوں اور آگے خالی جگہ پر بھی لوگ تھے، آپ جہاں بیٹھ گئے وہاں سے ایک قدم بھی ہل نہیں سکتے تھے، ملتانیوں نے اچھا کھیل پیش کرنے والی ہر ٹیم اور ہر کھلاڑی کو بھرپور داد دی۔

سرائیکی وسیب کے باسی ملنسار اور محبت کرنے والے ہیں، ان کی میٹھی زبان بندے کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے، زاہد سلیم گوندل ملتان کے ڈپٹی کمشنر رہے وہ ملتان کے باسیوں کی محبت کے گرویدہ تھے، ان کا کہنا تھا کہ لاہوری اگر زندہ دلان ہیں تو ملتانی بھی ریشم دلان ہیں، پی ایس ایل کے میچز میں ملتانیوں نے یہ بات سچ کردکھائی کہ وہ محبت کرنے والے بھی ہیں اور میٹھے بھی، ان کی اتنی محبت نے مجھے بہت متاثر کیا اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ کیا اب لاہوری زندہ دلان نہیں رہے؟ جو ایک کروڑ کی آبادی ہونے کے باوجود پی ایس ایل کے میچز میں قذافی سٹیڈیم بھی نہ بھر سکے اور اب زندہ دلان لاہو ر کا خطاب ملتانیوں کو دے دینا چاہیے۔ زندہ دلان ملتان

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *