ریڈیو پاکستان کراچی مرکز کے سینئر پروڈیوسر سید مہدی ظہیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان ٹیلیوژن کراچی مرکزکے شعبہ پروگرام میں خاکسار کو 80 کی دہائی میں معاون پروڈیوسر کی حیثیت سے ملک کی نامور شخصیات کوقریب سے دیکھنے اور ان کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا۔ دل چاہتا ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے کا تجر بہ اور ان کی فنکارانہ زندگی کی کچھ باتیں کی جائیں جو شاید پڑھنے والوں کو دلچسپ لگیں۔ یاداشت کے پردے میں جو پہلی شبیہہ ابھرتی ہے وہ مہدی ظہیر ہیں۔

قناعت کی عملی تصویر:

مہدی ظہیر 1927 میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید افتخار مہدی تھا اور شاعری میں ’ضو کلیمیؔ‘ تخلص کرتے تھے۔ اُن کا زیادہ تر کلام ہمیشہ ہی غیر مطبوعہ رہا۔ شاید وہ اس کو شائع کرانے یا مشہور ہونے میں سنجیدہ نہیں تھے حالاں کہ خاکسار نے اُن کے سرکاری کوارٹر میں ہارمونیم کے میرے استاد عدنان الحق حقی کے اہلِ قلم، شاعر اور محقق والد، شان الحق حقی ؔ اور کئی ایک نامور شخصیات کواِن کے ہاں آتے جاتے دیکھا۔

جیسے ستارہ امتیاز، تمغہ امتیاز، صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی حاصل کرنے والے ملک کے معروف خطاط، مصور اور نقاش صادقین احمد نقوی المعروف صادقین کو مہدی ظہیر صاحب کے اس کوارٹر میں بیٹھے دیکھا۔ صادقین دیوار گیر مصوری میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ اسٹیٹ بینک کراچی، منگلا ڈیم، پنجاب یونیورسٹی، لاہور میوزیم، فریر ہال کراچی اورکئی ایک سرکاری دفاتر میں ان کے فن پارے دیکھنے کے لائق ہیں۔ 1962 میں جب کراچی پاکستان کا دارالحکومت تھا اُس وقت کے بادشاہ گر اور پالیسی ساز افراد خود صادقین صاحب کے آگے پیچھے گھومتے تھے۔ کیا مہدی ظہیر یہ نہیں جانتے تھے؟ بالکل جانتے تھے۔ لیکن کبھی بھی انہوں نے اپنے لئے کسی سے کچھ نہیں کہا۔ یہ ہوتی ہے عملی قناعت۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں نے مہدی ظہیر صاحب کی شاعری خود اُن ہی سے سنی ہے جو بے شک میرے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں۔ ویسے تو شاعری کی تمام اصناف پر انہوں نے طبع آزمائی کی جس کی وہ خاصی قدرت بھی رکھتے تھے لیکن زیادہ تر نعت، منقبت، سلام اور غزل پر کام کیا۔ ہاں ایک اور بات یاد آئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ انہوں نے فارسی اورعربی میں بھی شاعری کی۔ وہ اردو، فارسی کے ساتھ عربی زبان بولنے پر بھرپور عبور رکھتے تھے جِس کی بہترین مثال اُن کی آواز میں قصیدہ بردہ شریف اور اُس کی بنائی ہوئی دھن ہے۔ اس کی طرز، الفاظ کی ادائیگی اور تلفظ آج بھی سننے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ وہ کبھی کبھی مجھے بھی ایک آدھ شعر سنا دیتے لیکن اس کو کیا کیجئے کہ عربی اور فارسی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پاکستان آنے سے قبل اُنہوں نے روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ مشہورِ زمانہ بھات کنڈے میوزک یونیورسٹی لکھنؤسے موسیقی کی بھی تعلیم حاصل کی۔ آگے چلنے سے پہلے اِس تعلیمی ادارے پر کچھ نہ کہنا زیادتی ہو گی۔

بھات کنڈے ایک ادارہ :

بھات کنڈے میوزک کالج/انسٹیٹیوٹ 1926 میں پنڈت وِشنو نارائن بھات کنڈے نے قائم کیا۔ رائے اوما ناتھ بالی اور اُس وقت یو پی کے وزیرِ تعلیم ڈاکٹر رائے راجَیشور بالی کی کوششیں بھی شامل تھیں۔ اس کو بھارت کے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے 2000 میں با قاعدہ یونیورسٹی کا درجہ دیا۔ 1970 اور 1980 میں یونیورسٹی کے سالانہ پروگراموں میں پنڈت روی شنکر (ستار نواز) ، اُستاد امجد علی خان (سرود نواز ) ، اُستاد ذاکر حسین (طبلہ نواز ) ، خاتون وائلن نواز این رَجم، وی جے جوش (وائلن نواز) ، ستارہ دیوی

( کلاسیکی کتھک ) جیسے نامور فنکار شریک ہوتے رہے۔ وقت کے ساتھ نیا نصاب بھی متعارف ہوا جیسے ٹھمری۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ بیگم اختر یہاں اعزازی پروفیسر تھیں۔ اس یونیورسٹی میں ’وُوکل‘ گیان، کلاسیکی اور نیم کلاسیکی، سازوں میں ستار، سرود، وائلن، گِٹار، سارنگی، بانسری، ہارمونیم، طبلہ، پکھاوَج، رقص کی تعلیم اور اس کے ساتھ موسیقی میں تحقیق بھی ہوتی ہے۔ یہاں بیچلر آف

پرفارمنگ آرٹس ( بی پی اے ) ، ماسٹر آف پرفارمنگ آرٹس ( ایم ہی اے ) اور موسیقی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی دی جاتی ہے۔ اس سب کے علاوہ پاک و ہند کی ایک قدیم موسیقی کی صنف ’دھرپت‘ ، ٹھمری اور نیم کلاسیکی گائیکی کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے۔ واضح ہو کہ دھرپت میں ہمارے ملک کی مایہ ناز فنکارہ ملکہ ء موسیقی روشن آرا بیگم کا نام موجودہ زمانے میں معتبر ترین ہے۔

بات طویل ہونے لگی لیکن یہ بتانا بھی ضروری ہو گا کہ اِس موسیقی کی درس گاہ سے فارغ التحصیل ہونے والوں میں پلے بیک سنگر طلعت محمود، گلوکار انوپ جھلوٹا جیسے کئی دوسرے لوگ شامل ہیں۔

مہدی ظہیر کی موسیقی کی دل چسپ کہانی:

مہدی ظہیر کی بھات کنڈے میں موسیقی کی تعلیم، فارسی اور عربی زبا ن دانی اور ایرانی و عربی موسیقی کا ذوق و شوق ان کے بہت کام آیا اور آگے چل کر مہدی ظہیر کی طرزوں کو ایک اپنا منفرد اور جداگانہ انداز بخشا۔ کہاں دین دار مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولنے والے سید افتخار مہدی اور کہاں عربی اور ایرانی موسیقی میں مہارت؟ اِس تضاد کی بھی نہایت ہی دلچسپ کہانی ہے۔ انہوں نے مجھے بتایا:

” میرے والد صاحب کی خواہش تھی کہ میں دینی علوم ملکِ عراق سے حاصل کروں لہٰذا مجھے عراق بھیج دیا گیا۔ شروع میں تو میں باقاعدگی سے اس درس گاہ میں جاتا رہا لیکن پھر کچھ یوں ہوا کہ آتے جاتے، صبح و شام ( عراقی ) عربی موسیقی کانوں میں پڑنے لگی۔ قہوہ خانوں میں، بازاروں اور گزر گاہوں میں اِن موسیقاروں کا میں بغور مشاہدہ کرتا۔ وہاں کے لوگ اِ ن سازوں اور سازندوں کے عاد ی تھے البتہ میرے لئے یہ نئی بات تھی۔ پھر ایک ساتھ دو چیزیں ہو گئیں : ایک یہ کہ میں نے اِن میوزیشنوں کے پاس بیٹھ کر موسیقی سیکھنا شروع کر دی۔ یہ سیکھنا سکھانا عربی زبان میں ہی ہوتا۔ دوسری چیز خود ہی ہو گئی۔ وہ یہ کہ نصابی اور کتابی عربی کے ساتھ روز مرہ عراقیوں والی“ عوامی عربی ”اور لہجے پر میری گرفت خاصی ہو گئی۔ پھر یہی موسیقی اور زبان دانی کا شوق ایرانی ساز اور سازندوں تک لے گیا“۔

بظاہر یہ کوئی خاص بات نہیں لیکن عراقی اور ایرانی موسیقاروں کے پاس بیٹھنا اور اُن ہی کے لہجے میں، نغمگی اور گفتگو کرنا شاید قدرت کو منظور تھا جب ہی تو راستے خود بخود کھُلتے چلے گئے اور عربی اور فارسی میں اندازِ گفتگو، لحن اور الفاظ کی ادائیگی میں مہدی ظہیر،

مہدی ظہیر بنتے چلے گئے۔

کسے معلوم تھا کہ مہدی ظہیر نے مستقبل میں فارسی اور عربی کے درست لہجے میں ریڈیو پاکستان کراچی سے سینئر پروڈیوسر کی حیثیت سے اہم خدمات انجام دینا تھیں۔ رہی زبانِ اُردو، تو مہدی صاحب تو خود دبستانِ لکھنؤ سے تعلق رکھتے تھے۔ اُ ردو میں انہوں نے اپنی اور دیگر گلوکاروں کی آوازوں میں جو گیت، غزل اور نظمیں ریکارڈ کیں وہ بھی الفاظ کی ادائیگی، تلفظ، اضافت، کہاں سانس لینا ہے کہاں نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کا بے مثال خیال رکھا اور یہ سب بہت واضح محسوس ہوتا ہے۔

موصوف طرزپر بول لکھنے یا بولوں پر ان کی کیفیت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک عجیب سحر انگیز دھن بنانے میں اپنی مثال آپ تھے۔

جس کسی نے تھوڑا سا بھی مہدی ظہیر کی طرزوں کو سنا ہے وہ ان کی ایک مخصوص چال، ردھم، سازوں کا استعمال اور گلوکار یا گلوکارہ سے کام لینے کے انداز پر ان کی بے ساختہ چھاپ دیکھ سکتا ہے۔

ریڈیو پاکستان سے جب اقبا لؒ ؒ ؒ ؒ کا ؒ فارسی کلام نشر ہوتا ہے تو آج بھی ان کی طرز او ر آواز سننے کو ملتی ہے۔ اُنہوں نے ریڈیو پاکستان کراچی کی اپنی ملازمت کے دوران ان گنت حمد و نعت کی طرزیں ترتیب دیں۔ بعض خود اپنی او رکچھ دوسرے فنکاروں کی آواز میں ریکارڈ کروائیں۔

مہدی صاحب کی انکساری:

کراچی کے فیڈرل کیپیٹل ایریا، المعروف ایف سی ایریا میں ایک عام سے سرکاری کوارٹر میں مجھے مہدی ظہیر کی خدمت میں بارہا حاضری کا شرف حاصل رہا۔ غرور نام کی شے اُن سے چھو کر بھی نہیں گزری تھی۔ ہر ایک سے جھُک کر ملتے تھے۔ کم از کم اس کم تر کو تو سخت شرمندگی ہوتی تھی کہ اتنی عظیم شخصیت مجھ سے اس قدر انکساری سے ملے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہمیشہ ادبی بیٹھکوں اور مشاعروں اور بھیڑ بھاڑ سے دور ہی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بطور شاعر شہرت نہ پا سکے۔ اُن کی وفات سے تقریباًسال بھر پہلے میری اُن کے ہاں اس موضوع پر بات بھی ہوئی لیکن ہمیشہ کی طرح ا پنے مشہورِ زمانہ ’تبسم‘ سے بات کو ٹال کر کراچی جم خانہ کی سو سالہ تقریب کے لئے اپنے لکھے ہوئے ترانے کی ریکارڈنگ سنائی جس کی دھن بھی انہوں نے بنائی تھی:

چھتیس ہزار اور پانچ سو رنگین شاموں کا فسانہ

کراچی جمخانہ کراچی جمخانہ

محنت کش افراد کے لئے گیت:

بھٹو دور کے اوائل میں میں مزدور اور محنت کش افراد کے لئے ابلاغ میں بہت مضامین لکھے گئے اور ریڈیو پاکستان سے صبح و شام محنت کشوں کے لئے نغمے نشر ہوئے۔ بعض گیت تو میرے سامنے لکھے اور مہدی ظہیر، لال محمد اقبال، کریم شہاب الدین، نہال عبداللہ اور کئی ایک دوسرے موسیقاروں نے کمپوز بھی کیے۔ مہدی ظہیر صاحب کے کام کرنے اور میوزیشنوں اور ریڈیو پاکستان کے صدابندی کے اسٹاف سے کام لینا بھی دیکھا۔ نہایت توجہ کے ساتھ کام کرتے اور دوسروں سے بھی اس کی توقع رکھتے۔ سازندوں کی غلطیوں پر انہیں کبھی غصہ میں آتے نہیں دیکھا۔ اِسی محنت کشوں کے گیتوں سلسلے میں ’ای ایم آئی پاکستان‘ نے 1972 میں

’ روشنی کا سفر‘ نام کا ایک لانگ پلے ریکارڈ خصوصی طور پر جاری کیا جس میں ایک طرف 6 اور دوسرے رُخ پر بھی 6 گیت تھے۔ ان میں سے 5 نغمات کی موسیقی مہدی ظہیر کی تھی۔ مثلاً سلیم گیلانی کے لکھے گیت: ’‘ ہیا ہیا ریل کا پہیہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”،

” ابھی کل کی یہ بات ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “۔ تمام گیت ریڈیو پاکستان کراچی میں ریکارڈ کیے گئے تھے۔ یہ سُپر ہِٹ گیت تھے جو ریڈیو پاکستان سے نشر ہوئے اور بہت مقبول ہوئے۔

نظیر ؔاکبر آبادی اور مہدی ظہیر:

نظیر ؔاکبر آبادی کا مشہور ’آدمی نامہ‘ مہدی ظہیر کی آواز میں ریڈیو پاکستان سے ریکارڈ ہوا تھا جو انٹرنیٹ پر سنا جا سکتا ہے گو کہ اس کی آ واز کا و ہ معیار نہیں جو یڈیو پاکستان کے پاس ہے :

https://www۔ youtube۔ com/watch؟ v=KpZCBL۔ Om۔ A

اسی طرح نظیر ؔاکبر آبادی کا ’بنجارہ نامہ‘ بھی انٹرنیٹ پر سنا جا سکتا ہے اِس کی بھی آواز بھی بس گزارہ ہے۔ اس غیر معیاری آواز میں بھی جلترنگ بہت واضح سنائی دیتا ہے جو کہ اب ہمارے ملک سے غائب ہو چکا ہے :۔ http://www۔ youtube۔ com/watch؟ v=LThraKYDDNg

اس گیت میں آٹھ دس وائلن بھی استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ ریڈیو پاکستان کی اصل ریکارڈنگ ہے۔ اس میں الفاظ کے زیروبم اور نظم کے مجموعی مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی دھن پرسننے والے کو مہدی ظہیر کی چھاپ صاف دکھائی دیتی ہے۔

فیضؔ، اقبال بانو اور مہدی ظہیر:

اب کُچھ اقبال بانو کی آواز میں فیض احمد فیض ؔکی مشہورِ زمانہ نظم ”دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ کا ذکر ہو جائے۔ اقبال بانو پر خاکسار کی تحریر میں فیض احمد فیضؔ کی نظم ’دشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لرزاں ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘ میں گو کہ اس بات کا ذکر ہو چکا کہ کس طرح یہ ریکارڈنگ ہوئی۔ لیکن مہدی ظہیر کے ذکر میں یہ دھرانا ضروری ہے۔ اِس نظم کی صدابندی سے متعلق مہدی ظہیر صاحب نے خود مجھے اس کا دلچسپ پس منظر بتایا : نظم کے بولوں اور طرز کی مناسبت سے ایک ساز ’وائبروفون‘ بکثرت استعمال کیا جانا تھا مگر کسی وجہہ سے اس کی موٹر خراب ہو گئی جس سے اُس کی ’گونج‘ جاتی رہی۔

موٹر ٹھیک ہونے کے انتظار میں بیٹھے رہنے کے بجائے اُنہوں نے جہاں اورجیسے کی بنیادپر اپنے انداز سے اس کو استعمال کر کے تاریخ رقم کر لی۔ مگر ایسے ہی موقعہ پر انسان کے فنکارانہ جوہر پہچانے جاتے ہیں۔ واجبی موسیقی او ر کانوں کو اچھی لگنے والی موسیقی میں فرق کرنے والے افرادکو اگر وائبروفون، گونج کے ساتھ اور بغیر گونج کی حالت میں الگ الگ سنایا جائے تو زمین آسمان کا فرق محسوس ہو گا۔ اب اس کو ایسے استعمال کرنا کہ ساز کا بھر پور تاثر، تنہائی کی اداسی کا ماحول قائم کر دے، یہ مہدی ظہیر صاحب کا ہی خاصا تھا۔

انٹرنیٹ پر اِس نظم کی ریڈیو پاکستان والی اصل ریکارڈنگ میسر نہیں ہے۔ شاید کسی اہلِ ذوق کے پاس ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ویسے میرے ساتھ بہت سے دوسرے سننے والوں نے بارہا یہ اصل ریکارڈنگ ریڈیو سے سُنی ہو گی۔ میں نے مہدی ظہیر صاحب کی صاحبزادی سے رابطے

کی کافی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہو سکی۔ ورنہ اُن سے پوچھ کر اصل والی نظم انٹر نیٹ پر کہیں کسی سائٹ پر ہے تو اُس کا لنک بھی لکھ دیتا۔ اِس کے علاوہ کئی ایک دل چسپ سوالات تھے جِن کے جوابات اُن کے قریبی افراد ہی دے سکتے تھے۔ یوں اِس تحریر میں کچھ جان ہی پڑ جاتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہر حال۔ ۔ ۔ ۔ ۔

” دشتِ تنہائی“ سے متعلق ایک مقبولِ عام خیال ہے کہ ا قبال بانو کی ادائیگی اور آواز نے اس نظم کو دوام بخشا۔ یہ صحیح ہے مگر یہ بھی

حقیقت ہے کہ مذکورہ بالا دوام مہدی ظہیر کا مرہونِ منت ہے۔ جی ہاں! اس نظم کی طرز ان ہی کی بنائی ہوئی ہے۔

ہم مصطفوی ہیں :

1974 میں دوسری اسلامی سربراہ کانفرنس ( پہلی اسلامی سربراہ کانفرنس 25 ستمبر 1969 کو رباط، مراکش میں ہوئی تھی جس میں 24 مسلمان ممالک کے سربراہان شریک ہوئے تھے ) کے موقع پرایک خصوصی ترانہ جمیل الدین عالیؔ سے لکھوایا گیا۔ اِس کی دھن ملک کے نامور موسیقار سہیل رعنا نے بنائی :

ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے و لی ہیں

ہم مصطفوی مصطفوی مصطفوی ہیں

مذکورہ ترانے میں نمایاں آواز مہدی ظہیر کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ مہدی ظہیر نے اس کو ایک زبردست ولولے اور جوش و جذبہ کے ساتھ پیش کیا۔ ترانے کو بنے ہوئے 44 برس ہونے کو آئے لیکن یہ اب بھی پہلے کی طرح ترو تازہ ہے۔

احمد رشدی اور مہدی ظہیر:

پاکستانی فلمی صنعت میں احمد رُشدی ( 1938۔ 1983 ) کا ایک بہت بڑا نام ہے۔ 50 کی دہائی میں فلمی دنیا میں ان کی آمد

ریڈیو پاکستان کے راستے ہوئی۔ اس کاذریعہ بچوں کے لئے یہ گیت:

بندر روڈ سے کیماڑی

میری چلی رے گھوڑا گاڑی

بابو ہو جانا فٹ پاتھ پر

یہ گیت آج بھی دلچسپی سے سنا جاتا ہے۔ احمد رشدی کی اس کامیابی کا سہرہ بھی مہدی ظہیر کے سر ہے جو اس گیت کے خالق ہیں۔ یعنی شاعر اور موسیقار ہیں۔

مشہور شاعر عزتؔ لکھنوی ( 1932 سے 1981 ) کی وفات پر مہدی ظہیر نے یوں اپنے دل کی بات کہی:

نوحہ خواں ہے آج خود نوحہ کہ عزت ؔ اُٹھ گیا

اور قصیدہ دیتا ہے پرسہ کہ عزت ؔ اُٹھ گیا

5 اپریل 1988 کو اپنی ذات میں ایک ادارہ، نامور موسیقار، شاعر، اپنے لحن کی نوعیت کے یکتا گلوکار اور ریڈیو پاکستان کراچی مرکز کے سینئر پروڈیوسر مہدی ظہیر انتقال کر گئے۔

کیسے عظیم، سچے، اور پر خلوص لوگ تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *