عورت مارچ: ایک تجزیہ
ہم ہر شعبے میں اخلاقیات کو پس پشت ڈالنے کو ہی ایمپاورمنٹ کیوں سمجھتے ہیں؟
ہمارے خطے میں عورت سمیت ہر کمزور طبقے کا استحصال ہوتا آیا ہے۔ نہ جانے کیوں ہم سوچ کے کسی مخصوص زاویے کی آزادی کو فکری آزادی کیوں سمجھتے ہیں یا جسم کے کسی مخصوص حصے کے ذکر میں کیسے جنسیت (سیکسزم) کے آفاقی مسلے کا حل پوشیدہ ہے؟ میری تو سمجھ سے بالا تر ہے۔
کیا اس آزادی کو اپنی اقدار سے ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا؟ کیا ہم اس کی آڑ میں عورت کا مزید استحصال نہیں کر رہے؟
عورت کے ساتھ بہت ظلم ہوتا آیا ہے، آج بھی ہورہا ہے لیکن عورت مارچ میں اٹھائے گئے پوسٹرز سے ہونے والے مثبت اورمنفی اثرات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتا ہوں۔ آپ اس سے اتفاق یا اختلاف کرسکتے ہیں۔
سولائزیشن کے ارتقا کے ساتھ ساتھ پوری پُوری دُنیا نے عورتوں کے بارے میں اپنے قدامت پسند نظریات کو بدلا ہے اور تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ یہ شعور بھی ہر مہذب معاشرے کا لازمی جزو ہے۔ ہماری عورتوں کے ساتھ مزید ظلم یہ ہوگیا کہ برصغیر کا کلچرل اسٹرکچراس شعور کی ترویج اور تعلیم، دونوں میں پیچھے رہ گیا۔
یہاں یہ بات ضرور ذہن میں رکھئیے گا کہ ہم نے اپنے تجزیے میں ابھی تک مذہب کا تذکرہ نہیں کیا۔ اس خطے میں کم و بیش تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والی عورتیں ایک ہی طرح کے مظالم کا شکار ہیں۔ عورت کے ساتھ ہونے والی معاشرتی و جنسی تفریق ایک نفسیاتی مسئلہ ہے اسی لئے شرح تعلیم اور شخصی آزادی کے باوجود دُنیا کے مہذب ترین معاشرے بھی اس تفریق کو ختم نہیں کر پائے ہیں۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ احتجاج کیسے کیا جائے؟
کیا مڈل / اپر مڈل کلاس کے اس احتجاج سے ہماری لوئر کلاس کی عورتوں کے مسائل کم ہوجائیں گے؟ کیا یہ احتجاج معاشرے کی بیمار ذہنیت کے لئے دوا کا کام کرے گا یا اُلٹا بیماری میں اضافے کا مرتکب ہوگا؟
ایسے معاشرے میں جہاں آج بھی مذہب کروڑوں لوگوں کی دُکھتی رگ ہے، وہ اس کے لئے جان دینے کو بھی تیار ہیں اور جان لینے کو بھی۔ کیا ایسے معاشرے میں اپر مڈل کلاس کے یہ شدید رد عمل والے پوسٹر اس دُکھتی رگ کو مزید دُکھا رہے ہیں یا اس درد کو کم کررہے ہیں؟ تعلیم اور شعور کے اس درجہ پر، کیا ہماری قوم کی اکثریت پوسٹرز کی تجریدیت کو سمجھ کر اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کے لئے دماغی طور پر تیار ہے؟
کیا اتنے دانشوروں کی فوج کے ساتھ ہم ایسے پوسٹر تخلیق نہیں کرسکتے کہ جن سے بیمار ذہنیت کے علاج کی کوئی سبیل نکلے؟ کیا باشعور اقلیت کا یہ جارحانہ انداز، اکثریت کی جہالت ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا یا آپ ایک لا متناہی جنگ لڑنے کو ہی کامیابی کی دلیل سمجھیں گے؟ کیا تہذیب کے دائرے میں رہ کر اپنی تخلیقی صلاحیتیں استعمال نہیں ہو سکتیں؟
یورپ سے لے کر نارتھ امریکہ جیسے مہذب معاشرے میں بھی کینسر کی آگہی کے لئے ننگے ہوکر مارچ کرنا عام سی بات ہے۔ آگہی کے لئے اتنا آگے جا کر شروع کرنا کیوں ضروری ہے۔ کیا سارے آپشن اگژاسٹ کرکے ہم وہاں جانا چاہتے ہیں کہ آئندہ ہونے والے آگاہی مارچ میں ننگا ہونا ہی واحد آپشن رہ جائے؟
کیا یہ ایسا نہیں کہ آپ ایک پروڈکٹ کی مارکیٹنگ کے لئے نکلے ہیں اور آپ نے یہ سوچا ہی نہیں کہ ہماری ٹارگٹ آڈئینس کون ہے؟
اگر اس مارکیٹ میں یہ پروڈکٹ بیچنی ہے تو مربوط مارکیٹنگ پلان بنائیے۔ اپنی مارکیٹ کا انالیسس کیجئیے اور پھر اپنا اشتہار ایسا بنائیے کہ آپ کی چیز ایسی بکے کہ ہر گھر میں پہنچ جائے۔
منفی مارکیٹنگ اور بے ہُودہ بل بورڈز کا حاصل جمع کبھی مثبت نہیں آنے والا۔ آپ میری بات کہیں لکھ رکھیں، آپ کی پروڈکٹ آپ کی ٹارگٹ مارکیٹ میں نہیں پہنچے گی۔
ایک بات واضح کرتا چلوں، عورتوں کا استحصال ایک حقیقت ہے اور ہمارا معاشرہ بھرا پڑا ہے ظلم کی ان داستانوں سے، اس لئے میرے مطابق آپ کی پروڈکٹ بہت اعلی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ انتہائی مشکل پروڈکٹ ہے بیچنے کے لئے، اور آپ نے انتہائی غلط طریقہ سوچا ہے اسے بیچنے کا۔
آپ اسے اپنی مڈل/ اپر مڈل کلاس میں بیچ کر خوش ہو رہے ہیں جنہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں اور حقیقت میں جنہیں اس کی ضرورت ہے وہ آپ کے اشتہار سے ہی نالاں ہیں۔
کیا یہ مارکیٹنگ پلان کامیاب ہو گا؟



آپ درست کہہ رہے ہیں کہ عورت مارچ میں مسلہ ابلاغ کی مناسب زبان اور مقامی تہذیبی اور اقدار سے ہم اہنگی کا بھی ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ ایک ثانوی مسلہ ہے۔ اور اس کو بڑھاوا دینے والے ذہن وہ ہیں جو اس بات کو ماننے کو تیار ہی نہی ہیں کہ عورت کے حقوق کا ہمارے معاشرے میں کوئی مسلہ بھی ہے ۔ ان کے نزدیک یو این ڈی پی کی رپورٹیں جس میں پاکستان کو عورتوں کے برتاو کے حوالے سے سب سے نچلے ممالک میں سرفہرست درج کیا جاتا ہے ، دراصل ہمیں بدنام کرنے کی سازش ہے۔ پھر بہت سے پوسٹر استحصالی رویوں کومذہب کی آڑ میں درست کہنے والوں نے فوٹو شاپ بھی کئے ہوے ہیں ۔
بنیادی طور پر میں آپکی بات سے متفق ہو کہ کوئی بھی تحریک مقامی حالات، اور تہذہبی اقدار کو بلکل پس پشت ڈال کر اپنے لیے ہمدردی نہی لے سکتی۔ گو کہ آپ انہی میں سے کچھ اقدار سے جنگ کر رہے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی آپ نے راستہ اس میں سے ہی بنانا ہوتا ہے ۔