عورت مارچ کے بارے میں میرے خیالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کئی دہائیوں سے اس معاشرے میں استحصال کا شکار خواتین اپنے کھوئے ہوئے حقوق اور اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے کے لئے ایک عزم کے ساتھ آگے آرہی ہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں کئی دہائیوں سے خواتین کا استحصال معمول ہو۔ ، انہیں محض ایک جنس سمجھا جاتا ہو۔ اس معاشرے کی عورت کو بہت سے محاذوں پر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے۔ ایک پدرشاہی ہے جس میں مرد بنیادی طاقت رکھتے ہیں اور زندگی کے متعدد پہلوؤں میں غالب ہیں مثلاً معاش اور فیصلہ سازی میں۔

عورت نے جب آزادی کا علم بلند کیا تو پدر شاہی کو شدید خوف لاحق ہو گیا کہ اگر عورت آزاد ہو گئی تو ہم استحصال کس کا کریں گے ہماری تو حکمرانی (خود ساختہ) اور رعب ہی ختم ہو جائے گا۔ کئی دہائیوں سے (مرد) جو خواتین کو محض اپنے استعمال کی چیز سمجھتے رہے ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ وہ عورت کو انسان سمجھنے اور اس کے مقام کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں کیونکہ ان کی حکمرانی اور جھوٹی شان خطرے میں ہے۔

دوسرا محاذ مذہبی طبقہ (جعلی علما جو مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ) ہے جس کی آڑ میں پہلا گروہ بھی پناہ لیتا ہے۔

کچھ کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب میں خواتین کی مخصوص حدود ہیں جن کو عبور کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ جو حدود اور جواز وہ پیش کرتے ہیں وہ انتہائی بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہیں۔ اور ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جیسے مخصوص ساخت کا لباس پہننا اور چار دیواری کے اندر بند ہونا۔ یہ دراصل عورت پر پابندی لگانے اور اس کے حقوق سلب کرنے کی ایک چال ہے جس کے لئے مذہبی احکامات کی غلط تشریح کی جاتی ہے۔

ایک طبقہ ہے جو اس بحث کو محض یہ کہہ کر ختم کرتا ہے کہ چودہ سو سال پہلے خواتین کو حقوق دیے گئے تھے۔ چودہ سو سال پہلے کے مقابلے میں آج کی عورت کو مختلف حالات کا سامنا ہے جس میں اسے اپنے سیاسی، معاشرتی اور معاشی حقوق کی ضرورت ہے۔

اگر ایک لمحے کے لیے بھی اس جواز کو درست سمجھا جائے، تو یہ اس طرح ہے جیسے اس ریاست کا آئین شہریوں کو تمام انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے لیکن ہر روز انسانی حقوق کی پامالیاں ہوتی ہیں، لہذا شہری یہ کہ کر خاموش نہیں ہو سکتے کہ ریاست نے تمام حقوق دیے ہیں آئین میں۔

ہر سال غیرت کے نام پر ہزاروں قتل، گھریلو تشدد، جنسی استحصال اور ہراسانی، جبری شادیاں، زبردستی مذہب کی تبدیلی، ملازمتوں اور معاوضے میں امتیازی سلوک، تعلیم اور جائیداد کے حق سے محروم کرنا۔ یہ سب عام ہے اور تقریباً ہر دوسری عورت اس کا سامنا کر رہی ہے۔ تو کوئی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ صدیوں پہلے خواتین کو حقوق دیے گئے تھے۔

ایک طرف، دنیا عالمگیریت کی راہ پر گامزن ہے، اور دوسری طرف آج بھی، عورت ہونے کے نام پر، اس کا جنسی استحصال، تعلیم سے محروم، کم عمر شادی، غیرت کے نام پر قتل، غذائی قلت اور یہاں تک کہ ان کی خرید و فروخت بھی ہوتی ہے۔ عورت آزادی مارچ کو لے کر سیخ پا حضرات یہ جواز پیش کر رہے ہیں کہ عورت کو پردہ میں رہنا چاہیے اور جسم کی نمائش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے مومنین کے بے قابو اور عین سفلی جذبات بھڑک اٹھتے ہیں انتہائی بے بنیاد بات ہے کیونکہ چند دن پہلے ایک شخص گرفتار کیا گیا جو مردہ عورتوں کی لاشوں سے اپنی ہوس کی تسکین کرتا تھا۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی سال 2019 بھی ایک شخص کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی جو ایسے ہی گھناونے فعل کا مرتکب ہوا تھا۔ یہاں پر تین سال کی معصوم بچیوں کو جنسی زیادتی کر کے قتل کر دیا جاتا ہے۔ نہ ہی بچوں کو چھوڑا جاتا ہے۔ دینی مدرسوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں بچوں کا جنسی استحصال ہوتا ہے جو کیسز رپورٹ ہوتے ہیں وہ اصل تعداد کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔ چند سال پہلے فیصل آباد میں ایک ماسٹرز کی اسٹوڈنٹ جو مکمل باحجاب اپنی بس کا انتظار کر رہی تھی کو چند درندوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

چند دن پہلے ایک ستر سالہ امام مسجد گرفتار ہوئے جنہوں نے ایک دس سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا جو ان کے پاس قرآن پڑھنے جاتی تھی اور مانسہرہ کا مولوی بھی کسی کو نہیں بھولا ہو گا جس نے ایک بچے کو تین دن تک دوستوں سے مل کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس بچے کی آنکھوں سے خون نکل آیا تھا۔ کچھ دن پہلے ایک ٹرک پر مزدوری کرنے والے بچے کو ٹرک ڈرائیور نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔

ایک دینی مدرسے سے واپس جانے والی لڑکی جو مکمل باحجاب تھی کو وین ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے ریپ کیا۔ گومل یونیورسٹی کا اسکینڈل بھی سب کے سامنے ہے۔ عاصمہ، مریم، کائنات، زینب اور فرشتہ یہ سب بچیاں دس سال یا اس سے کم عمر تھیں جنہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ کاشانہ سکینڈل کسے یاد نہیں ہو گا۔ اگر آپ کے جذبات اتنے بے قابو ہیں تو پھر آپ کو اجتماعی آختہ کرانا چاہیے کیونکہ اب تو دودھ پیتے بچے اور مردہ عورتیں بھی آپ سے محفوظ نہیں ہے۔

وہ لوگ جو میرا جسم میری مرضی کو لے کر بہت سیخ پا ہیں اور کہتے ہیں آپ کا جسم اللہ کی مرضی ہے اور خود کو اس زمین پر اللہ کا نائب سمجھتے ہیں وہ لوگ خوفزدہ ہیں کہ اگر عورت کے جسم پر عورت کی مرضی ہوئی تو وہ جو غیرت کے نام قتل، ریپ، گھریلو تششد، تیزاب گردی، ہراسمینٹ کرتے ہیں انہیں کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ جہاں تک ریاست کے اس سارے عمل میں کردار کی بات ہے تو کہتے ہیں اندھے سامنے رونا آنکھوں کا ضیاع ہے ریاست کی پالیسی فسطائیت ہے ریاست بھی پدرشاہی کی پشت پناہی کر رہی ہے مذہبی شدت پسند سرعام عورت آزادی مارچ کے لیے سرگرم لوگوں کو ہراساں اور ان کے آرٹ ورک کو خراب کر رہے ہیں جیسا کل لال مسجد کے غنڈوں نے انتظامیہ کی ملی بھگت سے کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *