کیا عورت واقع میں انسان سمجھی جاتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت تین طرح کی پائی جاتی ہے۔ ایک اس خوب صورت مذہبی و اخلاقی لبادے میں کہ ”عورت کو مذہب نے سب سے زیادہ حقوق دیے۔ “ عورت ماں بھی ہے اور بہن بھی۔ اس کے پاؤں تلے جنت بھی ہے اور پیکر مروت بھی ہے۔ اس عورت کا وراثت میں حق ہے۔ اس کے شوہر پر حقوق ہیں۔ بھائی اور والد سے کچھ مطالبے ہیں۔

دوسری عورت تخیل میں موجود ہوتی ہے اور اسی تخیلی عورت کی تصویر سے کائنات میں رنگ ہے۔ جو عورت انسانی تخیل میں پائی گئی ہے، وہ کچھ اس طرح کی ہے :وہ بیوی ہے تو گھر کی وزیراعظم ہے۔ وہ ماں ہے تو گھر بار کی رونق ہے۔ وہ بیٹی ہے تو مجسمہء پیار ہے۔ وہ بہن ہے تو بھائی کے لیے سرمایہء جان ہے۔ اگر وہ طوائف بھی ہے تو لائق ہمدردی ہے اور پیشے میں عیب نہیں۔

ان دو اقسام کے علاؤہ ایک تیسری قسم کی عورت بھی پائی جاتی ہے۔ یہ عورت میرے گھر میں ہے۔ یہ میرے پڑوس میں ہے۔ یہ میرے معاشرے میں ہے۔ یہ حقیقی عورت ذات ہے۔ جو ہر دیدہ عبرت نگاہ کے دیکھنے کی شے ہے۔

ہم دو بھائی ہیں اور پانچ بہنیں ہیں۔ والد صاحب الحمدللہ حیات ہیں۔ تیرہ سال پہلے حج کی فضیلت حاصل کی۔ زندگی کا ایک حصہ تبلیغ دین اور علماء کی محفلوں میں بیتا۔

بڑا بھائی بھی والد کے نقش قدم پر چلتے ایک قدم آگے ہیں۔ حاجی وہ بھی ہیں اور سال چار ماہ اور چلے اکثر ہوتے ہیں۔ آج کل بھی پنجاب کے کسی دور افتادہ علاقے میں کسی بھٹکے کو صراط مستقیم کی طرف کھینچ رہا ہے۔ بھائی تعلیم یافتہ ہے۔ اپنی پسند کی شادی کی اور اپنے مزاج کا روزگار چنا۔

میں گھر میں سب سے چھوٹا ہوں۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوں۔ اور اپنی مرضی سے اپنی زندگی جی رہا ہوں۔

میری پانچ بہنیں ان پڑھ ہی رہیں۔ ان میں سے کسی ایک کی شادی بھی ان سے پوچھ کر نہیں ہوئی، کجا کہ مرضی کی ہوتی۔ ان کو وراثت میں کچھ نہیں ملا۔ والد اپنی ڈھلتی عمر کا چراغ گل ہوتے دیکھ رہا ہے مگر اپنی عمر میں یہ دیکھنا نہیں چاہے گا کہ بیٹیوں کو جائداد میں ان کا حق ملے، ان پر جو تعلیم و روزگار کے در بند کیے گئے، معافی مانگے۔

یہ اپنے گھر کی حقیقی عورت کی مکمل تصویر نہیں، تصویر کی اک چھوٹی سی اکائی ہے۔ یا پوری تصویر کی ایک جھلک ہے۔

چند مہینے پہلے کی بات ہے کہ ہمارے پڑوس میں ایک صاحب نے بیوی کا سر پھوڑ دیا۔ اس تشدد کی وجہ بڑی دلچسپ تھی اور کربناک بھی۔ ”یہ بھینس کی طرح سوتی رہی اور ہم سے صبح کی نماز فوت ہوگئی۔ اس نے جگایا نہیں“ ان صاحب نے مجھے اپنی زبانی بتایا۔

اپنے رشتہ داروں میں ایک ایسے شخص کو بھی جانتا ہوں کہ اس کے ہاں 17 بچے پیدا کیے گئے۔ تین شادیاں ہوئیں۔ وجہ یہ تھی کہ سب بیٹیاں پیدا ہو رہی تھیں، بیٹا پیدا کرنے کے لیے سترہ انسان نما جانوروں کا جنم ہوا۔ اور تین سوکنیں عمر بھر ایک دوسری کو کھاتی رہیں۔ اگر بیٹی کو انسان سمجھا جاتا تو کیا یہ سب کیا جاتا؟

وہ تاریک منظر بھی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے جب جہیز کم لانے پر مردان میں ایک شخص نے بیوی کو تیسرے دن چلتا کر دیا۔

اپنے رشتے میں ہی غیرت کے نام پر قتل ہونے والی کمراٹ تھل میں بیاہی گئی اس ماں کو کیسے بھول سکتا ہوں جس کا بچہ پیدا ہوئے ابھی تین دن ہوئے تھے اور دیور نے سینے سے چمٹے بچے کو زبردستی لے کر ماں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اسی تھل کوہستان میں اس افضل کوہستانی کو بھی یاد کرتے ہیں تو کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔ بات اتنی سی تھی کہ ایک ویڈیو منظر نامے پر نمودار ہوئی جہان چار لڑکیاں گا رہی ہیں اور دو مرد ناچ رہے ہیں۔ جرگہ کا فیصلہ ہوا۔ چار لڑکیوں کو قتل کردیا گیا۔ افضل کوہستانی برسوں پرانی روایت کو توڑنے اور عورت کے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ افضل کوہستانی کے تین بھائی مارے گئے۔ اسے بھی 6 مارچ 2019 کو ایبٹ آباد میں سرعام شہید کر دیا گیا۔ افضل کوہستانی عورت کو تو انسان ثابت نہ کرسکا۔ کہ وہ اب بھی اسی طرح پٹ رہی ہے۔ البتہ اپنے آپ کو درندوں کے اس معاشرے میں انسان ثابت کر گیا۔

عورت کو مذہب نے حقوق دیے۔ اس میں کلام نہیں۔ کیا اہل مذہب نے دیے؟ حقوق کیا دینے تھے، جو ساتھ گوشت پوست لے کر آئی تھی، وہ تک چھین لیا۔ تخیل کی دنیا میں یہ اقبال کے الفاظ میں کائنات کی تصویر میں رنگ بھرتی ہے۔ اور اسی کے شعلے سے شرار افلاطوں ٹوٹا۔ کیفی عظمی کی بھاشا میں اس کے قدموں میں فردوس تمدن کی بہار ہے۔ اور نظروں پہ تہزیب و ترقی کا مدار ہے۔ مگر۔ مذہبی اور تخیلاتی دنیا سے الگ تھلگ ایک اور دنیا بھی آباد ہے۔

یہ حقیقت کی دنیا ہے۔ جہاں ایک طرف حافظ حمداللہ ہے تو دوسری طرف خلیل قمر ہے۔ جہاں ایک طرف پشتو گلوکارہ غزالہ جاوید کو خون میں نہلاتا شوہر جہانگیر خان ہے تو دوسری طرف بندوق تانے کھڑا قندیل بلوچ کا بھائی ہے۔ جہاں ایک طرف چار لڑکیوں کی لاشیں۔ تو دوسری طرف ان کے حق کے لیے لڑنے والے تاریک راہوں میں مارے جانے والے افضل کوہستانی کا خوں آلود لاشا ہے۔

یاں ایک طرف وراثت میں حق نہ پانے والی محروم بیٹی ہے تو دوسری طرف جہیز نہ لانے پر دھتکاری جانے والی بہو ہے۔ یاں ایک طرف آل پاور فل بیٹا ہے اور دوسری طرف نحیف خستہ زار بیٹی کا دیوار جو سر ہے۔ یاں ایک طرف بدکاری کرنے والے مرد کا چوڑا اور تمتماتا فخریہ سینا ہے تو دوسری طرف زبردستی زیادتی کا نشانہ بننے والی سدا کی پھٹکار اور نفرت سہنے والی کھڑی عورت ہے۔

عورت مارچ کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں کہ حقیقی دنیا میں پائی جانے والی اس عورت کو سمجھا جائے اور اس تلخ حقیقت کو تسلیم بھی کیا جائے۔ حقیقت تسلیم کرنے کے بعد عورت کو انسان باور کیا جائے۔ بس۔ کوئی چاند تارے توڑ لانے کی بات تو نہیں کر رہا۔ اے مرد خدا آئے کہ عورت کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔

ہمارا پیغام، ہر عورت کے نام

رسم کا بت بند قدامت سے نکل

ضعف عشرت سے نکل وہم نزاکت سے نکل

نفس کے کھینچے ہوئے حلقۂ عظمت سے نکل

قید بن جائے محبت تو محبت سے نکل

راہ کا خار ہی کیا گل بھی کچلنا ہے تجھے

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

توڑ یہ عزم شکن دغدغۂ پند بھی توڑ

تیری خاطر ہے جو زنجیر وہ سوگند بھی توڑ

طوق یہ بھی ہے زمرد کا گلوبند بھی توڑ

توڑ پیمانۂ مردان خرد مند بھی توڑ

بن کے طوفان چھلکنا ہے ابلنا ہے تجھے

اٹھ مری جان مرے ساتھ ہی چلنا ہے تجھے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد نبی چترالی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply