تو کیا، تیری اوقات ہی کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا نام آگنس (رومی) ہے۔ میں ابھی بارہ سال کی ہوں۔ روم کے معزز خاندان کی۔ اعلیٰ خاندانوں کے بہت سے نوجوان اور افسر مجھ سے شادی کے خواہش مند ہیں۔ میں خدا سے لو لگا چکی ہوں اس لئے یہ سب میرے دشمن بن گئے ہیں۔ حکم ہوا ہے، ”اسے بازاروں میں ننگے گھسیٹتے ہوے لے جا کر چکلے میں پھینک دیا جائے۔ “ میرا خدا میری مدد کو آیا اور میرے بدن کی عفت کو برقرار رکھنے کے لئے آسمانی حجاب بھیجا اور میرا تمام جسم بالوں سے چھپ گیا۔ شیطان نے پھر بھی شکست نہ مانی۔ میری عصمت دری کی کوشش کرنے والے اندھے ہو گئے۔ مجھے مار دیا گیا۔ میرے قبر پر دعا کرنے والی میری رضائی بہن کو سنگسار کر دیا گیا۔ مجھے خدا نے اتنی عظمت دی ہے کہ میرا نام ہر عبادت کے موقع پر مقدس ماں مریم کے ساتھ قیامت تک لیا جاتا رہے گا۔

میں نبی جیکب کی بیٹی ’دینا‘ ہوں۔ میرا باپ کنعان کا سب سے معزز شخص ہے۔ میرا خاندان، میرا قبیلہ دنیا میں سب سے عظیم ہے۔ دریاے اردن کے کنارے وسیع زمین ہم نے خریدی ہے۔ یہ سارا شہر سکم (نابلس) ہمارا ہی آباد کردہ ہے۔ مجھ سے شادی کے خواہشمند مقامی قبیلے کے سردار ’حمر‘ کے بیٹے نے مجھے اغوا کر لیا۔ عصمت دری کی گئی۔ میرے بھائیوں نے حملہ کر دیا ہے۔ حمر نے جیکب کو تجویز دی ہے، ”دونوں قبیلوں کے معاشی اور معاشرتی الحاق سے ہم دونوں ترقی کریں گے۔ اس لئے اس کی شادی میرے بیٹے سے کر دی جائے۔ “ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ عزت دار کو ذلیل کر دو تاکہ وہ مجبور ہو کر اپنی بیٹی کسی اور سے نہ بیاہ سکے۔ وہ مجھے رسوا کر کے میرے خاندان سے مالی مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے۔

میرا نام بتشیبع ہے۔ میرا گھر بادشاہ کے اونچے محل کے نزدیک تھا۔ میں اپنے صحن میں نہا رہی تھی۔ منڈیر والے نے دیکھ لیا۔ میرا خاوند اس کا سپاہی تھا۔ حکم ہوا ”جو بادشاہ کو پسند آ جائے، مناسب نہیں کہ رعایا اسے اپنے پاس رکھے۔ “ نناوے دنبیوں کا مالک، ایک غریب ملازم کی اکلوتی دنبی پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ پھر کیا ہوا؟ سب جانتے ہیں۔

ہمیں صرف مردوں نے نہیں دیوتاؤں نے بھی لوٹا ہے۔

میرا نام ہیلن ہے میں ٹراے کی رہنے والی ہوں، میری ماں کو دیوتا نے دھوکا دہی سے ورغلا لیا تھا۔

۔ میری ماں کا نام ’لیڈا‘ ہے۔ صنم اکبر زیوس اس پر عاشق تھا۔ وہ شادی شدہ تھی۔ زیوس نے اسے ورغلانے کی ہر ممکن کوشش کی ناکام رہا۔ اور پھر ہنس کا روپ دھار کر آگیا۔ اپنی خواہش پوری کی۔ میں اس ملاپ کا نتیجہ ہوں۔

صرف حوا کی بیٹیاں ہی جنس مخالف کی زیادتی کا شکار نہیں ہوئیں۔ اس کا نشانہ میں بھی بنی۔ میں دیوی ہوں۔ لوگوں پر جب مشکل پڑتی ہے تو مجھ سے اپنی حاجات پوری کرنے کی دعا مانگتے ہیں۔ میری عبادت کرتے ہیں۔ میرے مندر بنا لیتے ہیں، میرے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ میں جو امر ہوں، لافانی ہوں، انتہائی طاقتور ہوں، میں بھی خود کو اس زیادتی سے محفوظ نہیں رکھ سکی۔ ان کو جب بھی موقع ملتا ہے میری عزت و عصمت تار تار کر دیتے ہیں۔ ان کے دیوتا بھی میرے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں۔

میں ایتھنز کی خاتون سرپرست، خدائی صفات کی حامل، چمکدار آنکھوں کی مالک، خوبصورت ’اتھینا دیوی‘ ہوں۔ مجھے اپنی پاکیزگی کا مان تھا۔ میری بدقسمتی ہے کہ میرے ساتھی دیوتا مجھے اکثر ہراساں کرتے ہوے نظر آتے ہیں۔ میرے سوتیلے بھائی بھی ایسی حرکتوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ان سانپوں نے مجھے ایک سانپ جنم دینے پر مجبور کردیا۔

سنو! میرا نام ہیرا دیوی ہے، ۔ مجھے میرے بھائی، یونانی دیوتا زیوس کا شادی کا پیغام ملا ہے۔ مجھے یہ قبول نہیں۔ اس کو پتا ہے کہ مجھے پرندوں سے بہت محبت ہے۔ بارش میں میرے گھر کی بالکونی میں بھیگی ہوئی کوئل بن کر آگیا۔ میں دھوکے میں آ گئی اور اسے اپنی گول گول او نچائیوں کی گرمی میں دبا لیا۔ اب کیا ہو سکتا تھا، اس نے میری عصمت خراب کر دی۔ مجھے اس کا پیغام قبول کرنا پڑا۔

دہ دیوتا نہیں انسان ہی لگتا ہے ان جیسا ہی دھوکے باز۔ خوبصورت عورت دیکھ کر ( امر ہوتے ہوئے ) قربان ہو جاتا ہے۔ اور اس کے پیرو کار اس کے وکالت کرتے ہیں تاکہ ان کا راستہ بھی ہموار رہے۔ دیکھو سقراط اُ س کے دفاع میں کیا کہہ رہا ہے ”میرا یہ دیوتا عورتوں کا حسن دیکھ کر دیوانہ تو ہو جاتا ہے لیکن تشدد کا مرتکب نہیں ہوتابلکہ حیلے بہانے سے، چالاکی مکاری سے ان کو ورغلا لیتا ہے۔ “

میں بابل و نینوا کے باسی دنیا کی ابتدائی مہذب لوگوں کی ’دیوی عنانہ‘ ہوں۔ میں خدائی انصاف کی علمبردار ہوں۔ میں ایک پاپولر کے درخت کے نیچے سورہی تھی کہ اندھے مالی نے موقع غنیمت جان کر میری عصمت دری کی۔

میں دیوی ’دروپدی‘ ہوں، عظیم ہندوستان کے اعلیٰ ترین خاندان کی بیٹی، معزز پانڈوؤں کی بیوی، لیکن میرے دشمن بھری محفل میں میرا ’چیر ہرن‘ کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے بے لباس کر دیا ہے۔

میں ’پدماوتی‘ ہوں سنہل دیپ کے راجا کی حسین بیٹی۔ ؑشق و محبت کے خوبرو راجہ رتن سین کی بیوی جس نے مجھے پانے کے لئے راج پاٹ کو تیاگ دیا اور جوگی بن کر میرے دوارے آ بیٹھا تھا۔ بالآخر میرے باپ کو راضی کرنے میں کامیاب ہوا اور مجھے چتوڑ لے آیا ہے۔ میں یہاں بہت خوش ہوں۔ ہمارے دربار کے ایک ناراض برہمن نے دہلی کے راجہ علاؤالدین خلجی کو میرے حسن کا بتا کر ہماری راجدھانی پر حملہ کروا دیا ہے۔ شکست کے بعد عزت بچانے کی خا طر میں نے محل کی دوسری سات سو خواتین کے ساتھ جوہر کی رسم رچائی ہے۔ ۔ میں نے سن رکھا ہے کہ چنگیزخان نے کہا تھا ”جنگ میں سب سے مزیدار کام دشمن کی عورتوں کو سینے سے لگانا ہے۔ “

اب بھی چتوڑ گڑھ کا قلعہ میرے جلے ہوئے جسم کی سرانڈ سے مہک رہا ہے۔

میں نور جہاں ہوں۔ دہلی کے ظل الٰہی کی بہو۔ میرا خاوند تھا، بیٹیاں تھیں۔ شہزادے کو پسند آ گئی۔

آؤ پہلوئے شاہ میں موجود میرے اجڑے مزار پر، دیکھو!

کیسے اک فرد کے ہونٹوں کی ذرا سی جنبش

سرد کر سکتی تھی بے لوث وفاؤں کے چراغ

لوٹ سکتی تھی دمکتے ہوئے ہاتھوں کا سہاگ

توڑ سکتی تھی مئے عشق سے لبریز ایاغ

میں سسی ہوں، جان مجھ میں نظر نہیں آتی وہ میرے خاوند، کیچ کے خان، کے ساتھ چلی گئی ہے۔ عزرائیل بھی پنوں کی شکل میں موت کا پیامبر بن کر آ گیا ہے، لیکن گدڑیا اس حالت میں بھی میرے جسم سے کھیلنا چاہتا ہے۔

میں ایک عام عورت ہوں۔ کسی مقدس کتاب، کسی تاریخ، کسی نظم، افسانے، کہانی میں میرا کوئی ذکر نہیں۔ میرے سامنے اس دنیا کے حقیقی اور مجازی خدا، سب کھڑے ہیں۔ سب کہہ رہے ہیں تیری اوقات ہی کیا ہے؟ تجھ میں ہے ہی کیا؟ ازل لے کر اب تک پیدا ہونے بہت سی گھریلو، محلات کی چار دیواری میں محفوظ طاقتور عورتیں ہمارے سامنے کچھ نہیں تھیں۔ ہم نے انہیں روند ڈالا تم کیا ہو؟ ہم تجھے جب چاہے بے عزت کر سکتے ہیں۔ بھری محفل میں تیری شلوار اتار سکتے ہیں۔ تو کیا، تیری اوقات ہی کیا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *