ادھورے نعرے کا فساد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں دو ہزار انیس کے عالمی یوم نسواں پر ایک نئی تحریک نے جنم لیا تھا اور وہ تھا عورت مارچ۔ جس کا بنیادی مقصد یا موضوع تو شاید کچھ اور ہونا چاہیے تھا اور شاید تھا بھی مگر بعض این جی اوز کے مفادات نے اس کی حقیقی فکر کو ناصرف مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا بلکہ اس مارچ میں شریک شرکاء کی جانب سے چند متنازع اور بے تکے سے پوسٹرز کی وجہ سے اس مارچ کو خاص کے ساتھ ساتھ عوامی حلقوں میں بھی متنازع بنا دیا اور اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ان پوسٹرز کو مشرقی اور اسلامی فکر کے مخالف سمجھا گیا اور ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر بیٹھے صارفی دانشوروں نے اپنے اپنے نکتہ نظر سے اسے دیکھا اور بھرپور بدتمیزی کا مظاہرہ کیا اور عام انسان نے بھی حقیقت جانے بغیر ہر طرح کی رائے دینا مناسب سمجھا جس نے شدید نوعیت کے نقصان کی راہ ہموار کی جس کا ادراک بھی کسی کو نہیں ہوا۔

پوسٹرز میں استعمال ہونے والے الفاظ کی نوعیت متنازع ہونے کی وجہ سے مطالبات کی گہرائی میں جانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی اور شعور اور آگہی کے لیے شروع ہونے والی ایک اہم تحریک لڑائی جھگڑے کی نذر ہو گئی اور ادھورے نعرے نے فساد برپا کر دیا۔ نعرہ تھا ”میرا جسم میری مرضی“، اسے مذہبی نکتہ نظر سے غیر اسلامی قرار دیا گیا کہ انسان کے جسم پر اپنا اختیار ہی نہیں، وہ اپنی مرضی سے نہ پیدا ہوا اور نہ ہی مرے گا نیز اس کا جسم پروردگار کی امانت ہے اور امانت میں خیانت نہیں کرنی چاہیے۔ بلاشبہ ہم اللہ کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے۔

تاہم ہمارے ہاں ایک عام مشاہدہ ہے کہ ان تمام معاملات پر اسلامی فکر کا سہارا لیا جاتا ہے جہاں ہم مخالف فریق کو دبانا چاہتے ہیں اور ہمارے پاس علمی اور اخلاقی دلائل نہیں ہوتے۔

جبکہ سوال یہ ہے کہ اس وقت یہ فکر کہاں سو جاتی ہے جب شادی سے انکار یا محبت کو قبول نہ کرنے پر عورت تیزاب گردی کا شکار ہو جاتی ہے۔ جب بنام انصاف پنچایت کے فیصلے پر دس دس پندرہ پندرہ افراد ایک عورت کے ساتھ جنسی درندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جب گیارہ بارہ سال کی بچی کی شادی کر دی جاتی ہے اور وہ اگلے دس سال بچے پیدا کرتے ہوئے گزار دیتی ہے جس کے بعد نہ اس میں جان ہوتی ہے اور نہ ہی پیدا ہونے والا بچہ صحت مند ہوتا ہے۔ محض جائیداد کا بٹوارہ روکنے کے لیے بہن بیٹی قرآن سے بیاہ دی جاتی ہے۔

یہ سوچ تب کہاں نیند کی گولی کھا کر سو جاتی ہے جب قبروں سے جواں سال زنانہ میتوں کو قبر سے نکال کر بدفعلی کی جاتی ہے۔ اس وقت یہ اسلامی فکر کا حامل معاشرہ کہاں سو رہا ہوتا ہے جب غربت ایک عورت کو جسم فروشی کی طرف لے جاتی ہے اور معاشرہ خاموشی تماشائی بنا بنت حوا کی بربادی کا تماشا دیکھتا ہے۔ جب ساٹھ ستر سالہ بابے چند سال کی عمر کے بچے بچیوں کو ٹافی کا لالچ دے کر اپنی ہوس پوری کر رہے ہوتے ہیں۔ جب بعض مرد اپنی شہوت انگیز عریاں بھوک کے لیے مذہبی کارڈ یعنی نکاح کا سہارا لیتے ہیں اور جب سچ سامنے آتا ہے یا وہ خود ہی شعوری طور پر سچ سامنے لاتے ہیں کہ عورت اپنے تئیں پیچھے ہٹ جائے اور طلاق لے لے پھر وہی عورت بدکردار کہلائے۔ ایک دو فیصد مولوی بھی کرپٹ ہیں اور اساتذہ بھی۔

تاہم اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ ایسے بدکردار لوگ محدود ہیں تو اس بات کا یقین رکھیں کہ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگانے والے اور انہیں پسند کرنے والوں کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ مگر ان محدود لوگوں کی متنازع سوچ اور نعرے کو سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے قارئین نے لامحدود کر دیا۔ یوں ایک منفی رویے کو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں لاشعوری طور پر سوشل میڈیا پر بیٹھا ہوا ہر دوسرا صارف اس کا کردار بن گیا۔

دوسری جانب اسلامی فکر کی بات کرتے ہیں کہ عورت پر اختیار کس کا ہو تو صاحب اسلام نے عورت کو ایک وجود اور ایک انسان کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اسے سارے حقوق دیے ہیں اور اسے اس کی ذات کے تمام اختیارات بھی سونپ دیے ہیں۔ جس میں زندگی کا تحفظ، نشوونما پانے کا تحفظ، تعلیم حاصل کرنے اور وراثت میں حصہ داری کا تحفظ، کاروبار کرنے کا تحفظ۔ حتی کہ ولی کی رضا مندی سے سہی پسند کا نکاح کرنے کا تحفظ۔

تاہم پاکستان کی سماجی فکر و نکتہ نظر اور ہے جو اسلام سے بھی مماثلت نہیں رکھتا۔ دیکھیں اسلام میں دو سے ڈھائی سال تک ماں کو بچے کو دودھ پلانے کا حکم ہے اور اس دوران باپ پر واجب ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اچھی خوراک مہیا کرے اور اس کا خیال رکھے۔ اس طرح دو بچوں کے درمیان تین ساڑھے تین سال کا وقفہ آ جاتا ہے اور ماں بچے کی صحت متاثر نہیں ہوتی۔ تاہم جب شادی کے دو تین سالوں میں دو بچے پیدا ہو جائیں تو صاف ظاہر ہے کہ ماں نے بچے کو اپنا دودھ نہیں پلایا اور نہ ہی شرعی حد بندی کی ہے۔

دوسری جانب میرا جسم میری مرضی کا سلوگن بلاشبہ ایک ادھوری سوچ و فکر کی شرارت تھی جس کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت لانچ کر کے غیر حقیقی نظریات سے پر کیا گیا۔ اس حوالے سے جاننا بہت ضروری تھا اور یہ میرا حق تھا کہ میں سچ کی جانب ایک قدم آگے بڑھاؤں۔ کالم لکھنے یا اپنی رائے دینے سے قبل اس کی تاریخ میں جا کے دیکھو تو سہی کہ آخر ایسا ہے کیا کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اس کے حامی اور مخالفین دونوں ہی شاید پس منظر سے واقف نہیں ہیں۔ مزید برآں کیا اس نعرے کی ہمارے ہاں گنجائش ہے یا نہیں۔ ویسے یہ ایک الگ بحث ہے۔

تو جناب ”میرا جسم میری مرضی“ دراصل اسقاط حمل کے حقوق کے لیے ایک تحریک ہے۔ اس پر انگلینڈ میں 2019 میں ”رابن سٹیونسن“ کی ایک کتاب بھی سامنے آچکی ہے کہ اسقاط حمل پر پابندی ہٹائی جائے۔ ظاہر ہے کہ ان کے معاشرے میں اس کے بہت سے حامی تھے۔ پھر کچھ علاقوں میں اس کا دائرہ کار جنسی آزادی پر پابندی، نشہ پر پابندی اور حکومت سے کی طرف سے لگائی جانے والی ایسی ہر پابندی کے خلاف پھیل گیا۔

خود ماروی سرمد نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ”اب ہمارا جسم، ہماری مرضی سے چلے گا، جتنے چاہیں گی اتنے بچے پیدا کریں گی، اب مرد کی مرضی اور زبردستی کے دن جا چکے“۔

لیکن ادھورے سلوگن نے ستیاناس مار دیا اور یہ نعرہ فسادی فکر کے حامل آزادی پسندوں کے ہاتھوں میں چلا گیا اور شاید ان کی دلچسپی اس کے پس منظر سے نہیں بلکہ صرف ”میرا جسم میری مرضی“ جیسے الفاظ کی کشش سے تھا۔ انہیں یقین تھا کہ اس نعرے کے الفاظ سے ماحول تنے گا اور یہ تناؤ ہر حال میں ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔ سماجی سوچ و فکر جتنی گرم ہو گی ان کی جیب کی حالت بھی اتنی ہی توانا ہو گی۔ سو اس کے پہلے بنیادی مقصد یعنی عورت کو اسقاط حمل کے حقوق کے لیے لڑائی کی نوعیت پاکستان میں بدل گئی یا ایک منصوبے کے تحت ایسا کیا گیا۔ قیاس یہی ہے کہ یہ سب ایک منظم منصوبے کے تحت ہی کیا گیا۔ کیونکہ اس نعرے کو سیکس سے نتھی کر دیا گیا۔

ڈرامہ سریل ”میرے پاس تم ہو“ کے متنازعہ مکالموں کا داغ دھونے اور اس کے بعد ہر پلیٹ فارم سے مکالمے سے ہی پیچھے ہٹنے والے خلیل الرحمٰن قمر نے موقع سے بھرپور فایدہ اٹھایا مگر یہاں بھی وہ اپنی مخصوص سوچ و فکر سے باہر نہیں نکل سکا۔ برداشت کی کمی اور مکالمے سے فرار اور دلیل سے محرومی ہمیشہ گالی اور فساد کو فروغ دیتی ہے اور نیو ٹی وی کے شو میں یہی ہوا مگر بعد میں ایک اور ٹی وی شو میں عورت پر غرانے والا مرد عامر لیاقت حسین کے سامنے بھیگی بلی بن گیا کیوں کہ اسے پتہ ہے عامر لیاقت اس کے مقابلے میں نہ صرف زیادہ شدت پسند رویہ اختیار کر سکتا ہے بلکہ بعد میں اس کی عملی ٹھکائی بھی کر سکتا ہے۔ عامر لیاقت حسین کے سامنے خلیل الرحمٰن قمر کی خاموشی اس کی شخصیت کے دوغلے پن کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔

تاہم اگر ہم زبان کے اعتبار سے بھی بات کریں تو ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ اسی وقت لگایا جاسکتا ہے جب کوئی عورت اپنے جسم کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا حق چاہتی ہو اس میں چاہے مرضی کی شادی ہو، اسقاط ِ حمل ہو، نشہ کرنے کی اجازت ہو یا کچھ اور ایسا معاملہ لیکن جہاں بات آتی ہے عورتوں کی بنیادی حقوق کی تو وہاں پر ”میرا جسم میری مرضی“ نہیں بلکہ ”میرے حقوق دو“ کا نعرہ لگانا ہی بہتر تھا۔ جس کے لیے پہلے ہی بہت سی تنظمیں کام کر ہی ہیں۔

ہر تحریک کا ایک سلوگن یا نظریہ ہوتا ہے۔ مگر اس تحریک سے وابستہ افراد نے کم از کم پاکستان میں اس کا گلہ گھونٹ دیا۔

اگرچہ گذشتہ سال کافی خوبصورت پوسٹرز بھی سامنے آئے تھے جن پر حقیقی نعرے درج تھے جیسے ”مجھے اپنی بیٹی کو پڑھانا ہے، پڑھے گی تو آگے بڑھے گی“ وغیرہ نظر انداز کر دیے گئے اور ہم نے کچرا اپنے ہاتھوں اپنے سروں پر رکھ لیا۔ اس لئے مجھے تو حیرت ان تمام افراد پر ہے جو اسے عورتوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف ایک تحریک قرار دے رہے ہیں۔ کہاں پاکستان میں عورتوں کے حقیقی مسائل اور کہاں ”میرا جسم میری مرضی“ کا یورپین مسئلہ، یعنی کہاں کا پیوند کہاں لگایا جارہا ہے۔ اور ہاں جہاں 365 دنوں میں 3382 بچیوں کا ریپ ہوا ہو صاحب وہاں کیسا جسم اور کیسی مرضی؟ تاہم میرے خیال میں اس وقت ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ان تمام عناصر کا سختی سے احتساب کرے جو معاشرے کو ایک انتہائی سمت کی جانب دھکیلنے میں کوشاں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *