لیلیٰ کے خطوط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں آٹھ مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے طور پر منانے کے حوالے سے پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کوشاں تنظیموں کی جانب سے ”عورت مارچ“ کے انعقاد نے معاشرے میں مختلف آراء کو جنم دیا ہے۔ خاص کر گزشتہ برس عورت مارچ میں کچھ نعروں جیسے کہ ”میرا جسم میری مرضی“ کو مخالفین کی جانب سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سال بھی عالمی یومِ خواتین کے موقع پر عورت مارچ کے انعقاد کے اعلان کے بعد سے کچھ حلقوں کی جانب سے اس کی زور و شور سے مخالفت کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں عورتوں اور ان کے حقوق کی بحث اتنی ہی پرانی ہے جتنی اس ملک کی تاریخ ہے۔ پاکستان میں آئین عورتوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کی ضمانت تو فراہم کرتا ہے لیکن زمینی حقوق اس کے برعکس نشاندھی کرتے ہیں۔ پاکستان جو ایک پدر سری معاشرے کے خدو خال کا حامل ملک ہے وہاں عورتوں کے حقوق کے لیے زبانی جمع خرچ تو بہت ہوتا ہے لیکن عملی طور پر ان حقوقِ کے حوالے سے معاشرہ ابھی تک ذہنی اور فکری طور پر شاید تیار نہیں ہے اس لیے جب بھی عورتوں کے حقوق کی کسی تنظیم کی جانب سے آواز بلند ہوتی ہے تو اسے مغربی ایجنڈے کا حصہ قرار دے کر اس کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرداں تنظیموں کو اکثر اوقات ملک میں فحاشی و عریانی پھیلانے کا الزام دیا جاتا ہے اور قدامت پسند اور روایت پرست طبقوں کی جانب سے یہ بات اکثر سننے میں آتی ہے کہ عورتوں کے حقوق کی تنظیمیں مغربی ایجنڈے پر گامزن ہو کر ملک کو ایک مادر پدر آزاد معاشرے میں بدلنا چاہتی ہیں اور وہ عورتوں کے حقوق کی آوازوں کو معاشرتی اور مذہبی اقدار کے خلاف سمجھتے ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں اُردو ادب میں عورت کا کردار مختلف صورتوں میں پیش کیا گیا ہے۔ گھریلو عورت سے لے کر طوائف کا کردار کرتی عورت اردو ادب میں جا بہ جا ملتی ہے۔ آج کے حالات اور پاکستان بننے سے پہلے متحدہ ہندوستان میں عورتوں کے مسائل کو دیکھا جائے تو محسوس ہوگا کہ اس وقت کی عورت جس طرح مظلوم و مجبور تھی آج کی عورتوں کو بالکل ویسے ہی حالات کا سامنا ہے۔ آج اور ماضی ہے درمیان فرق بس اتنا ہے کہ اس وقت عورت کے سماجی صورتحال کا ذکر ترقی پسند ادیب کے قلم سے پھوٹتا تھا اور آج جدید ذرائع ابلاغ جن میں سوشل میڈیا سر فہرست ہے پر عورتوں کے حقوق کی تنظیمیں عورت کی سماجی حالت کی دہائیاں دیتی ملیں گی۔ اردو ادب میں قاضی عبد الغفار کی تصنیف ”لیلیٰ کے خطوط“ آج سے اسی نوے برس قبل لکھی گئی جس میں ایک طوائف کی جانب سے لکھے گئے خطوط اس وقت کی سماجی اور معاشرتی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں جس میں مردوں کی اس ذہنیت کو نشانہ بنایا گیا جس میں عورت فقط ان کے حقوق کی ادائیگی کے لیے پیدا کی گئی مخلوق ہے۔

نامور ترقی پسند ادیب سبط حسن کے مطابق ”لیلیٰ کے خطوط“ عورت کی جسم فروشی کی داستان نہیں ہے بلکہ ایک فرد جرم ہے جس کو لیلیٰ پوری نسوانی برادری کی جانب سے انسانیت اور انصاف کی عدالت میں پیش کرتی ہے۔ لیلیٰ لکھتی ہے کہ :

”ہماری دنیا میں اعلیٰ دماغ وہ کہلاتے ہیں جو غلام بنانے اور دوسروں کے حقوق جابرانہ قبضہ کرنے کا فن جانتے ہوں۔ سیاست اس کو کہتے ہیں کہ ایک قوم کے وسیع پیٹ میں دوسری اقوام ہضم کی جا سکیں۔ معاشرت اس کو کہتے ہیں کہ ایک دولت مند اور چالاک طبقہ باقی تمام طبقوں پر حکومت کر سکے اور ان کا خون چوس چوس کر اپنی طاقت میں اضافہ کرتا رہے۔ ہمارے معاشرے میں بنی نوع انسان دو حصوں میں تقسیم ہے۔ برہمن اور اچھوت، مسلمان، ہندو، عیسائی، پارسی، ایرانی، عرب سب اسی تقسیم کے ماتحت ہیں۔ برہمن اور اچھوت! حاکم اور محکوم، سرمایہ دار اور غریب، مولانا اور مرید۔ ان مختلف ناموں کے پردے میں حقیقت ایک ہی ہے جو چھپی ہے! طاقت ور اور کمزور۔

اگر آج تم کمزور اور میں طاقت ور ہو جاؤں تو تمہارا وجود ناقابل معافی جرم اور میری جسم فروشی ایک پاکیزہ خصلت قرار پائے گی۔ میں جو کچھ کرتی ہوں وہ ایک پاکیزہ کام کہلائیں اور جو کچھ تم کرو وہ گناہ کہلائے۔ تمہاری طرف حقارت و نفرت کے وہی اشارے کیے جائیں جو اب میری طرف کیے جاتے ہیں۔ تمہارا کوئی سلام بھی قبول نہ کرے اور جلوسوں میں میری گاڑیاں کھینچی جائیں۔ مجھ میں اور تم میں اعمال کا فرق قابل توجہ نہیں بلکہ طاقت ور اور کمزور کا امتیاز ہے جس نے عورت کی گردن مرد کے پاؤں کے نیچے رکھ دی ہے۔

کیا جب خدا نے دنیا کو پیدا کیا تھا تو اس نے ہماری زندگی کا یہی نظم قائم کیا تھا جو آج ہے؟ تم چونکہ میرے مقابلے میں طاقتور ہو اس لیے یہی کہو گے کہ موجودگی نظام عین فطرت الٰہی ہے۔ میں چونکہ کمزور ہوں تو مجھے تمہارا فیصلہ ماننا پڑے گا۔ مگر یاد رکھو کہ یہ میرا ایمان نہیں ہے۔ میں طاقت ور کے مقابلے میں کمزور تو ہوں مگر باغی ہوں۔ ”۔

لیلیٰ ایک اور خط میں لکھتی ہیں :

” واعظ صاحب جب چوکی پر تشریف رکھتے ہیں تو خطابت اور بیان کا سارا زور اس مسئلے پر صرف ہوتا ہے کہ بیوی کو خاوند کی اطاعت کس طرح کرنی چاہیے۔ لیکن شوہروں کا اہنی بیویوں کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چاہیے اور مردوں پر عورتوں کے کیا حقوق عائد ہوتے ہیں اس کا ذکر نہیں کرتا بلکہ ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی۔ ہمارے لیے دنیا میں صرف ایک مٹھی گہیوں اور آدھ گز کپڑا ہے جو مرد ہم کو عطا کرتا ہے۔ مرد نے پردے کو ہماری عصمت کا محافظ بنایا ہے گویا عورت اس قدر بد اصل ہے کہ اگر پردے کے اندر بند نہ رہے تو اس کی عصمت محفوظ نہیں رہ سکتی۔

مگر میں کہتی ہوں کہ عورت سے زیادہ مرد کو پردے میں بٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ مرد کے گناہوں پر پردہ پڑا رہے۔ مرد کی تمام ذہنی تربیت یہی ہے کہ ہر کام خوف اور دھمکی سے کیا جائے۔ اس کے مذہب کا سب سے بڑا عنصر خوف اور لالچ ہے۔ اچھا کام اس لیے نہیں کرتا کہ وہ اچھا ہے بلکہ اس لیے کہ کہ نہ کرنے میں سزا کا اندیشہ ہے اور اور کرنے میں انعام کی امید۔ جس اخلاق انسانی کی بنیاد سزا کا خوف ہو وہ کاغذ کی قندیل ہے جس کا کاغذ خوبصورت ہے مگر چراغ روشن نہیں ”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *