”تیر ا جسم میری مرضی“ : اب تو خوش ہیں آپ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہ حیثیت ِ قوم ہمارے ہاں منفیت اس قدر راسخ ہو چکی ہے کہ اکثر ہر نئی بات کو برا بنا کر مسترد کر دیا جاتا ہے، بالخصوص جن کا تعلق عورت سے ہو۔ ”میرا جسم میری مرضی“ پر خواتین کو اب تک جتنی گالیاں پڑی ہیں، اتنی شاید ہی کسی اور بات پر پڑی ہوں۔ ماروی سرمد صاحبہ اور خلیل الرحمن قمر صاحب کے مابین ا س موضوع پر جو طوفانی بحث ہوئی، اس سے تو سبھی واقف ہوں گے۔ خلیل صاحب نے اخلاقیات اور اقدار کا ٹھیکے دار بنتے ہوئے ماروی صاحبہ سے بدزبانی اور انہیں غلط ثابت کرنا اپنا فرض سمجھا، حالانکہ ان پر ایسا کوئی فرض عائد نہیں ہوتا۔ اور نتیجے کے طور پر خوب عزت افزائی کروائی۔ حتیٰ کہ فلم اور ڈراما انڈسٹری کے لوگ بھی ان پر پابندی کا مطالبہ کر ر ہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ”میرا جسم میری مرضی“ کا کوئی مثبت پہلو بھی ہے؟ یقینا ہے، لیکن بدقسمتی سے ظاہری الفاظ کو بنیاد بنا کر اس تصور کو فحاشی سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ یعنی جسم کے حوالے سے عورت کا اپنی مرضی اور اختیار کو استعمال کرنا صرف برائی کے زمرے میں آتا ہے۔ گویا عورت کو اپنے جسم کے حوالے سے تمام پوشیدہ اور غیر پوشیدہ معاملات مثلاً لباس، آرائش و زیبائش، فیشن، پردہ، تحفظ وغیرہ میں مرد کی مرضی کا خیال رکھنا چاہیے۔ اور جو عورت ایسا نہ کرے، وہ بے حیا اور بدکردار ہے۔ تاہم ابھی یہ تعین کرنا باقی ہے کہ صرف گھر کے مردوں کی مرضی کا خیال کرنا ہے یا باہر والوں کی مرضی بھی اہم ہے۔

خلیل صاحب جیسے مردوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ عورت کی مرضی سے صرف برائی کا ارتکاب ہو گا۔ سو عورت کو نام نہاد ’اخلاقی حدود‘ میں رکھنے کے لئے اگر اس پر کسی طرح کا تشدد اور زبردستی بھی کرنی پڑے تو جائز ہے۔ مگر یہ زبردستی آپ ہر عورت پر تو نہیں کر سکتے جیسے خلیل صاحب نے کوشش کی۔ مرد ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر عورت کو ڈکٹیشن دیتے پھریں اور اختلاف کرنے پر اسے لتاڑیں کہ ”تیرے جسم میں ہے کیا؟ تیرے جسم پر تو کوئی تھوکتا بھی نہیں۔ “ یہ تو قطعی طور پر ذاتیات پر حملہ ہے جس کی کوئی ذی عقل حمایت نہیں کر سکتا۔

ہمیں شدت سے اس غلط فہمی کو دور کرنے کی ضرورت ہے کہ جسم کے حوالے سے عورت کو مرضی کا اختیار دینے سے فحاشی پھیلے گی۔ اگر عورت اپنے جسم کے حوالے سے اسلامی اور اخلاقی حدود و قیود پر عمل کرنے کا فیصلہ کرے تو کیا تب بھی مردوں کو اعتراض ہو گا؟

ایک فیس بکی دانشور نے پوسٹ کی: ”میرا جسم میری مرضی کی بات صرف طوائف کر سکتی ہے، شریف عورت نہیں۔ “ یہی بات اگر ایسے لوگوں کے گھر کی ہی کوئی خاتون کر دے تو کیا اسے بھی طوائف کہہ کر گالی دیں گے؟ چلیں، طوائف کی بھی بات کر لیتے ہیں۔ یہ نعرہ سب سے زیادہ مناسب شاید ہے ہی طوائف کے لئے۔ کیونکہ سودا طے کرتے وقت اس کی مرضی معلوم نہیں کی جاتی۔ کئی دفعہ تو اُسے ”کوہِ قاف سے اترے ہوئے کسی زکوٹے جن“ کے ساتھ رات گزارنا پڑتی ہے جو حقوقِ طوائف کے سراسر خلاف اور ظلم ہے۔

جسم کے حوالے سے مرضی کی بات کرنے والی عورت کی شرافت اور کردار پر سوال اٹھانے والا یہ جان لے کہ جسم شریف عورت کا بھی ہوتا ہے۔ مجھے ماروی سرمد صاحبہ کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ ازدواجی تعلقات اور اولاد کی پیدائش میں عورت کی رضا کا خیال رکھا جائے۔ یہ ہر عورت کا حق ہے اور جو مرد اس بات کا خیال نہ رکھے، وہ وحشی اور rapist کی گالی پر برا نہ مانے۔ عورت کے جسم پر مرد کا جائز حق تب تک ہی ہے جب تک عورت کی رضا شامل ہو۔

”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ جنسی ہراسانی اور جنسی تشدد کو مسترد کرتا ہے۔ یہ مرد کے وحشیانہ پن کو مسترد کر تا ہے اسی لئے تو مردوں کو اعتراض اور اختلاف ہے۔ چلیں، اس اختلاف کو ختم کر دیتے ہیں۔ ہم اسے ”تیرا جسم میری مرضی“ سے بدل دیتے ہیں۔ اب کہیے، اب تو مرد حضرات خوش ہیں؟ یا اس سے بھی بڑھ کر کچھ چاہیے؟

نوٹ: تبصرہ کرتے وقت براہِ کرم کوئی خلیل الرحمن قمر نہ بنے۔ شکریہ۔

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *