عورت مارچ سے کون کون خوفزدہ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور ہائی کورٹ کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ’شہریوں ‘ کی طرف سے دائر ان درخواستوں کو مسترد کردیا ہے کہ 8 مارچ کو یوم خواتین کے موقع پر ملک بھر میں منعقد کئے جانے والے عورت مارچ کو روکنے کا حکم دیا جائے۔
اصولی طور پر ملکی عدالتوں کے حکم کے بعد یہ بحث ختم ہوجانی چاہئے کہ پاکستان کی خواتین کو اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لئے کیوں اور کیسے احتجاج یا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ تاہم ملک میں اس بحث کو جس طرح مذہب اور اخلاقیات کا رنگ دے کر پیش کرتے ہوئے ، اس پر طوفان اٹھانے کا اہتمام کیا جارہا ہے، اس کی روشنی میں یہ باور کرنا ممکن نہیں ہے کہ اس ایک ’مارچ‘ کے بعد دشنام طرازی اور کیچڑ اچھالنے کا یہ سلسلہ تھم جائے گا۔ خاص طور سے جب صرف مذہبی سیاست کے نام پر اخلاقیات کا درس دینے والے نام نہاد اسلامی پارٹیوں کے لیڈر ہی نہیں بلکہ مین اسٹریم پارٹیوں کے رہنما اور وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات بھی عورت مارچ اور اس کے ایک سادہ نعرہ کو بنیاد بنا کر معاشرتی اخلاقیات کا درس دینا ضروری سمجھیں تو صورت حال کی سنگینی بھی سمجھی جاسکتی ہے اور اس خوف کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے جو ملکی اشرافیہ کو لاحق ہے۔
فردوس عاشق اعوان نے جب اسلام آباد کی ایک تقریب میں عورت مارچ کے مختلف پہلوؤں پر ’روشنی ‘ ڈالتے ہوئے عورت کی حفاظت اور وقار کے لئے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے کی صورت میں مردوں کے بنائے ہوئے اخلاقی فریم کو ہی سماج میں خواتین کی زندگی، فیصلوں اور حرکات و سکنات کی بنیاد قرار دیا تو جان لینا چاہئے کہ نئے پاکستان اور مدینہ ریاست کی داعی تحریک انصاف کے پاس کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ وہ اسی فرسودہ اور گلے سڑے سماجی نظام اور سوچ پر اپنے سیاسی نعروں کی عمارت کھڑی کرنے پر اصرار کررہی ہے جن سے نجات پانے کے لئے پاکستان کی عورتیں ہی نہیں بلکہ ہر مجبور اور مظلوم طبقہ آواز اٹھانے کے لئے بے چین ہے۔ بدنصیبی سے ملک کے وزیر اعظم کی معاون خصوصی کے ذمہ دار عہدے پر فائز فردوس عاشق اعوان ، ایک خاتون ہونے کے باوجود عورت کو بطور ایک فرد دیکھنے کی صلاحیت سے بظاہر محروم دکھائی دیتی ہیں ۔ یا اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے وہ اس بات پر مصر ہیں کہ اسلام عورت کو کوئی شخصی حقوق یا آزادی نہیں دیتا۔
یہ رویہ دراصل ذاتی اور گروہی تعصبات اور استحصالی رویوں کو اسلام کے نام سے پیش کرنے کا آزمودہ اور پرانا ہتھکنڈا ہے۔ اس طرح کم علم لوگوں کے جذبات کو انگیخت کرکے ایک خاص نقطہ نظر کو عقیدہ اور اسلام کے نام سے بیچنے کی شرمناک کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں یہ کوشش مذہبی رہنماؤں اور سیاست دانوں نے یکساں طور سے کی ہے۔ اسی لئے کبھی جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹرز اس معاملہ پر پیپلز پارٹی کی خاتون سینیٹر کو مشتعل کرتے ہیں۔ کبھی مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہداللہ ایوان بالا کے فلور پر عوامی بہبود، جمہوری استحصال ، آزادی رائے اور ملک و عوام کو درپیش نت نئے مسائل کو موضوع بحث بنانے کی بجائے عور ت مارچ اور اس کے ایک نعرے کو ’غیر اسلامی اور غیر اخلاقی‘ قرار دے کر جوش خطابت دکھاتے ہیں۔ تو کبھی وزیر اعظم کی معاون خصوصی، کابینہ کے اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح عورت مارچ کو ملکی اخلاقیات اور سماجی اقدار کے لئے شدید خطرہ قرار دیتے ہوئے اسلام کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ یہ سب طالع آزما دراصل سطحی سیاسی مقاصد کے لئے زبان و بیان کے مقبول ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ اور کسی شرمندگی کے بغیر اسلام کو عذر یاجواز کے طور پر برتتے ہیں۔ اس طرح ملک میں جہالت اور کم علمی کو ختم کرنے کی بجائے اسے بڑھاوا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ورنہ جو سادہ سی بات اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آج عورت مارچ روکنے کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہی ہے وہ ملک کے ہوشمند سیاست دان اور وزیر و مشیر کیوں سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے عورت مارچ کے خلاف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر اس مارچ کا اہتمام کرنے والی خواتین خود یہ کہہ رہی ہیں کہ وہ اسلام کے دیے ہوئے حقوق حاصل کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں تو اس میں کیا غلط ہے۔ کسی کو بھی اس پر اعتراض کرنے کا کیسے حق حاصل ہوسکتا ہے؟ انہوں نے یہ حکیمانہ نکتہ بھی پیش کیا ہے کہ اس مارچ کے نعروں کے بارے میں ان خواتین نے جب پریس کانفرنس میں اپنی بات واضح کردی ہے تو ہم کیسے مختلف تشریح کرسکتے ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ان کے نعروں کی ہم اپنے طور پر تشریح کرسکتے ہیں؟
’میرا جسم میری مرضی ‘ کے نعرے کو لے کر اس وقت ملک میں طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے جو نکتہ بیان کیا ہے ، وہ اخلاقیات اور دینیات کا بنیادی درس ہے۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے منہ میں اپنی بات ڈالے یا کسی ایک شخص کے کہے ہوئے الفاظ کو اپنے معنی پہنا کر شرانگیزی کا سبب بنے۔ تاہم عورت مارچ اور خواتین کے حقوق کے حوالے سے درحقیقت ایک ایسا طرز عمل اختیار کیا جارہا ہے جس کی نہ دین اجازت دیتا ہے، نہ بنیادی اخلاقیات اسے درست سمجھتی ہیں اور نہ ہی ملک کا قانون کی اس کی اجازت دیتا ہے۔ جیسا کی پہلے لاہور ہائی کورٹ نے اور اب اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ جلسہ کرنا، جلوس نکالنا یا مظاہرہ کرنا ہر شہری کا بنیادی شہری حق ہے ۔ کوئی عدالت اس حق پر قدغن عائد نہیں کرسکتی۔
تاہم عورت مارچ اور اس کے نعروں کے حوالے سے جس انداز میں مہم جوئی کی جارہی ہے اور ملکی عدالتوں کو اس میں ملوث کرکے غیر قانونی ریلیف لینے کی کوشش کی گئی ہے، اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ یہ ساری کوششیں معاشرے میں ظلم و زیادتی پر اٹھنے والی آوازوں کے خلاف تعصب اور نفرت کی فضا پیدا کرکے، دراصل جبر و استحصال کو درست ثابت کرنے کی منظم تحریک ہے۔ بدقسمتی سے سیاسی طور سے ایک دوسرے کا گلا دبانے والے لیڈر اور مسلکی لحاظ سے ایک دوسرے پر کفر کے فتوے جاری کرنے والے ملّا یکساں طور سے اس مہم جوئی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
کسی بھی معاشرے میں کمزور طبقوں کو تعصب و امتیازی سلوک کا نشانہ بنا نے کے لئے روایت، اقدار ، قومی شناخت اور پاکستان جیسے ملک میں مذہب کو حجت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان نعروں کا واحد مقصد استحصال کو جاری رکھتے ہوئے لوگوں کو یہ باور کروانا ہوتا ہے کہ یہی دراصل اس معاشرے کے بہترین مفاد میں ہے۔ تاہم تعصب اور امتیازی سلوک کی کوکھ سے صرف ظلم و استحصال ہی جنم نہیں لیتا بلکہ اس سے طبقاتی تفاوت بھی پیدا ہوتا اور نفرت بھی جنم لیتی ہے۔ یہی سماجی رویے بعد میں انتہا پسندی اور تشدد کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ عورت مارچ جیسے بے ضرر اور اہم مظاہرے کے خلاف اس وقت ملک میں نفرت و اشتعال کو جو کیفیت پیدا کی جارہی ہے ، وہ دراصل اسی انتہا پسندی کا پرتو ہے جس نے پاکستان کو فرقہ پرستی سے دہشت گردی کے سفر پر گامزن کیا تھا۔
حیرت ہے کہ ملک ایک طرف اس افسوسناک تجربے سے گزرنے کے بعد اب انتہاپسندی کے خلاف بند باندھنے کا اہتمام کررہا ہے اور دوسری طرف عالمی اداروں کو یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان میں نفرت اور انتہاپسندی کو جڑ سے اکھاڑا جاچکا ہے لیکن اسی حکومت کے نمائیندے ایسے مباحث کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں جو امن، تہذیب اور تعمیری معاشرہ کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے۔ حیرت ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ، علی محمد خان اور فردوس عاشق اعوان جیسے ساتھیوں کے ہوتے کس منہ سے بھارت میں کشمیر یوں کے خلاف تعصب برتنے اور مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنانے کی بات کرتے ہیں؟ جو حکومت اپنی اقلیتوں کے بعد نصف آبادی کے بنیادی حقوق کے بارے میں اس قدر متعصبانہ اور نفرت انگیز رویہ اختیار کرتی ہے ، اس کے قول و فعل کا تضاد خود اس کے لئے مشکلات اور پریشانی کا سبب بنے گا۔
عورت مارچ کی منتظمین پر ’مفاد یافتہ اور اشرافیہ‘ سے تعلق کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ ہمیں صرف یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر یہ گروہ واقعی معاشرے کے کمزور طبقوں کے حقوق کی بات کرتا ہے تو اس پر صرف مظاہرہ کرنے والوں کی اقتصادی ، سماجی اور علمی حیثیت کی وجہ سے کیوں کر انگلی اٹھائی جاسکتی ہے۔ یہ تو ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے کہ معاشرے کا آسودہ طبقہ بالآخر یہ سمجھنے لگا ہے کہ جب تک ہر سطح پر عورتوں کے علاوہ محروم طبقات کو مساوی حقوق فراہم نہیں ہوں گے تو سماجی انصاف کا مقصد پورا نہیں ہوسکے گا اور نہ ہی سماجی انتشار کا راستہ روکا جاسکے گا۔ دیکھا جائے کہ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت خواتین کے مظاہرے پر منہ زوری کا یہ عالم ہے اور انہیں روکنے اور دبانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے تو دیہات یا کچی آبادی کی خواتین کے احتجاج پر کیسا طوفان برپا کیا جائے گا۔
شور و غل مچانے والوں کو نہ نعروں سے تکلیف ہے اور نہ اس بات پر اعتراض ہے کہ چند سو خواتین مختلف شہروں میں بعض چبھنے والے بینر اٹھا کر باہر نکلیں گی۔ انہیں اندیشہ ہے کہ اس طرح کی ’معصوم ‘ تحریک سے کوئی ایسا سماجی طوفان برپا نہ ہوجائے جو ملک میں حقیقی تبدیلی کے لئے باقاعدہ انقلابی تحریک کی صورت اختیار کرلے۔ یہ سار ا واویلا اس ممکنہ سماجی و سیاسی دباؤ سے بچنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ اس نکتہ سے اختلاف کرنے والے عورت مارچ کے منتظمین کے پیش کردہ پندرہ نکاتی منشور کا مطالعہ کرسکتے ہیں جس کا ہر نکتہ سماجی انصاف اور مساوی سلوک کا تقاضہ کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1504 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *