ماں کے نام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں ماں دن رات مصروف رہتی تھیں۔ صبح سے لے کر رات گئے تک لگاتار مصروف۔ ہمیں سکول بھیجنا ایک ایک چیزکا خیال رکھنا۔ سر کے بال بنانے سے جوتے کے تسمے باندھنے تک سب کام خود کرتیں۔ مجھے آٹھویں کلاس تک تسمے باندھنا نہیں آتے تھے سکول میں تسمہ کھل جاتا تو میں ملنگ بنی یوں ہی گھومتی رہتی۔ نہ بال بنانا آتا تھا۔ آٹھویں کلاس میں میری دوست اور کلاس فیلو نے مجھے یہ دونوں کام سکھائے، امی نے ہمیں ایک مخصوص انداز سے پالا۔

ہمارا ایک شیڈول ہوتا تھا صبح سکول، واپس آ کے لنچ پھر سوناہے اٹھنے کے بعد قاری صاحب گھر ہی پڑھانے آتے ان سے پڑھنے کے بعد، تھوڑا وقت کھیلنے کا۔ جب ہم بہت چھوٹے تھے تو وہ خود پڑھاتی تھیں جب تھوڑے بڑے ہوئے تو ہوم ٹیوشن سر پڑھانے آتے تھے۔ ہم تین بہن بھائی شدید شرارتی تھے۔ ہمیں ٹیوشن سے سر کو بھگانے کے تمام حربے پتہ تھے۔ سر کو ماسکیٹو سپرے سے الرجی تھی تو ہم ان کے آنے سے ٹھیک پندرہ منٹ پہلے کمرے میں سپرے کر دیتے سر آتے اور دس منٹ کے بعدہی چلے جاتے تھے۔

ان کے جانے کے بعد ہم ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو جاتے اور پھر ہنسی پہ قابو پا کے سنجیدہ شکلیں لیے اندر جا کے بتاتے سر کو کام تھا یا طبعیت ٹھیک نہیں تھی اس لیے چلے گئے۔ دوسرا طریقہ گھڑی کو آگے کرنے کا تھا اور سر کو یقین دلواتے سر آج ہی ٹائم ٹھیک کیا ہے آپ کا ٹائم غلط ہے۔ یہاں تک کہ امی ابو کو پتہ چل گیا اس کارنامے کا اور ہماری کلاس ہوئی۔ ٹیوشن کے بعد ٹی وی دیکھنے کا سیشن ہوتا اور پھر سونے کا وقت۔

مجھے شروع سے ہوم ورک کرنا پسند نہیں تھا۔ یہ کیا بات ہوئی بھلا کاپی کر لو لفظ با لفظ۔ اس لیے کبھی ڈھنگ سے ہوم ورک نہیں کیا۔ انہیں میری ہینڈ رائٹنگ امپرووکرنے کی فکر ہوتی تھی اس لیے وہ مجھے باقاعدہ کلاسز دلواتیں۔ امی کبھی رٹا نہیں لگانے دیتی تھیں کہتیں بول کے نہیں پڑھنا مطلب وکلائزشن سے منع کرتی تھیں۔ اس لیے شروع سے ہر لفظ پہ سوال کرنے کی عادت تھی اس کا مطلب کیا ہے؟ ایسے کیوں ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ میں کہیں گالی بھی سن لیتی تو معنی پوچھنے پہنچ جاتی اور امی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہو جاتیں کہ یہ کیاپوچھ رہی ہے۔ شاید پریپ کی بات ہے امی مجھے جوڑتوڑ سکھا رہی تھیں ظ ا ظا ل م لم ع و عو ر ت عورت ظالم عورت اور میں نے پوچھا امی ظالم عورت آپ جیسی ہوتی ہے نا۔ کیونکہ میرا شدت سے کھیلنے کا دل تھا اور وہ پڑھارہی تھیں۔ اب بھی یہ واقعہ سناتی ہیں اور بہت ہنستی ہی‍ں کہ یہ ایسی ہوتی تھی۔

میرے پاس گڑیوں کی کولیکشن تھی ہر عمر میں ایک الگ کھلونا جو ہمشہ میرے ساتھ رہتا۔ پھر کچھ بڑی ہوئی تو بھائیون کے لیے سائیکل آئی تو ساتھ میری بھی ٹرائی سائیکل تھی۔ وہ مجھے لڑکون والے کپڑے پہناتی تھیں وجہ یہ تھی کہ ایک تو میں شدید ضدی تھی کوئی لباس نہ پسند ہے تو رونا شروع اور ہائے میں پھش ( پھنس) گئی کی رٹ تب تک ختم نہیں ہوتی تھی جب تک کپڑے تبدیل نہ کروا دیے جائیں۔ دوسرا انہیں خود لڑکیوں والے فیشن سمجھ نہیں آتے تھے۔

میں بچپن سے امی کی عاشق تھی ان کے پیچھے پیچھے جہاں جا رہی ہیں ساتھ ساتھ کچن میں، لانڈری میں، مارکیٹ، کسی دوست سے ملنے، میرا دم چھلا ساتھ ہوتا تھا۔ کبھی تنگ نہیں پڑتی تھیں۔ ہمارے بچپن میں وہ ہمیں ننھال لے جایا کرتی تھیں کیونکہ ان سے سسرال کے علاقے کی گرمی برداشت نہیں ہوتی تھی لیکن جیسے ہی ہم بڑی کلاسزمیں آئے انہیں میکے جانا بھول گیا۔

امی کا ذوق بھی خاص قسم کا ہے، مجھے یاد ہے ہمارے گھر میں رتی جناح کا پورٹریٹ لگا ہوا تھا اور بچپن سے تعارف تھا کہ وہ کون ہیں۔ ایک فارسی شعر فریم کیا ہوا تھا

نوازش دل ماکن کے دل نواز توئی

باسازکار غریباں کہ کارزاز توئی

مجھے شاید واحد فارسی کا یہ شعر ازبر ہے۔ کچھ فریم مغل آرٹ کے تھے۔ شاید کسی داستان کو پورٹرے کیا گیا تھا۔ ان کی اپنی ڈائری ہوتی تھی اور اب بھی ہے اس وہ ڈائری لکھتی تھیں۔ اپنی دوستوں کے خطوط والدین کو لکھے گئے خطوط، کارڈز اب بھی ان کے پاس محفوظ ہیں۔ مجھے بھی بچپن سے ڈائری دی گئی اور اس پہ لکھنا بتایا گیا۔ یہ بھی سمجھایا گیا کہ ڈائری کی پرائیویسی کیا ہوتی ہے، ۔ کہ آپ کسی کی ڈائری نہیں دیکھ سکتے۔ نہ کسی کا خط پڑھ سکتے ہیں یہی بات ہر پرسنل میٹر پہ اپلائی ہوتی ہے۔

امی کی حس مزاح شاندار ہے اتنا فی البدیہہ جملہ بولتی ہیں کہ لطف آ جاتاہے۔ ساتھ ہی وہ بلا کی صاف گو ہیں جو بات کہنا ہے سو کہنا ہے اس میں بالکل کوئی کمپرومائز نہیں کہ کوئی کیا سوچے گا۔ وہ اپنے کالج کی اتھلیٹ بھی رہی ہیں، ہائی جمپ لانگ جمپ، جیولین تھرو اور سائیکلنگ کے مقابلوں میں حصہ لیتی تھیں۔ اسی لیے انہوں نے ہم بہن بھائیوں کے کسی شوق کو کبھی منع نہیں کیا۔ میرا ایک بھائی بیڈ منٹن کا پلئیر ہے یہ اسے شاید وراثت مین ملا۔ میں جو بھی کرنا چاہوں وہ رقص ہو، گانا، لکھنا یا گھومنے پھرنے کی ایکٹیوٹی مجھے پوچھنا نہیں صرف بتاناہوتا ہے اور یہی کافی ہے۔

مائیں ہمیشہ پیاری ہوتی ہیں۔ جب اولاد بڑی ہو رہی ہوتی ہے اور اس میں ہارمونل چینجز آتے ہی‍ں یہ بھی اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ میں غالبا فرسٹ ائیر میں تھی۔ تو امی نے ایک دن کہا ثنا آج کالج سے چھٹی کرو ہمیں ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے جانا ہے میں سمجھی کہ وہ اپنا چیک کرواناچاہ رہی ہیں۔ ہسپتال پہنچنے پہ انہوں نے میرا چیک اپ کروایا۔ ڈاکٹر سے کہتی ہیں یہ بہت چڑچڑی ہو گیی ہے ہر بات پہ غصہ کرتی ہے اسے چیک کری‍ں کیا ہواہے۔

میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور ہنسی بھی بہت آئی۔ بعد میں میں نے کہا امی کیا کرتی ہیں۔ کہتی ہیں ضروری تھا۔ بچپن میں میں سوتے ہوئے مٹھیاں بھیچ لیتی تھی تب بھی انہیں ادراک تھا کہ کوئی مسئلہ ہے اور میرا ٹریٹمنٹ کروایا تھا۔ مائیں کئیرنگ ہوتی ہیں لیکن یہ کچھ زیادہ ہیں۔ انہیں فون پہ آواز سن کے پتہ چل جاتا ہے کہ لڑکی کے تار ہلکے ہوئے ہیں، ردھم بگڑا ہوا ہے۔

ایک بار ایسا ہی کوئی مسئلہ ہوا میں نے کسی سے کچھ نہیں کہا امی نے مجھے بٹھایا اور کہا تمہارے ابو کہہ رہے ہیں اس سے پوچھو کیا مسئلہ گم سم کیوں ہے۔ یہ فکر ہی میرے لیے کافی ہوتی ہے کہ میں سنبھل جاتی ہوں۔

جب بھی کبھی میں نے گھبرا کے فیصلہ لینے کی کوشش کہ بس مجھے کوئٹ کرنا چاہیے امی نے یہی کہا ہمت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا اور مجھ میں ڈھیروں ہمت آ گئی۔ میرا ہر فیصلہ چاہے وہ کسی بھی حوالے میں ہے اسے کبھی رد نہیں کیا گیا بس یہی کہا گیا جو ٹھیک لگے کر لو اور میں نے کیا۔

مائیں سمجھتی ہیں کہ اولاد کس فیز سے گزر رہی ہے لیکن اولاد شاید نہی‍ں سمجھتی۔ ماؤں میں بھی ہارمونل چیجیز آتے ہین ان کے بھی موڈ سونگز ہو سکتے ہیں، انہیں بھی قریبی دوستوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم ان پہ قبضہ جما کے بیٹھ جاتے ہیں کہ یہ ہماری اماں ہیں اور اس کے علاوہ کوئی ٹیگ نہیں۔ میں نے بھی یہی کیا کیونکہ میں پیپمرڈ چائلڈ تھا اس لیے مجھے ان کا تھوڑا سا نظر انداز کرنا بھی کھلتا تھا۔ لیکن جب شعور آیا تب سمجھ آیا کہ یہ سب بھی ہوناچاہیے۔

پھر بھی وہ آج بھی خوش مزاج ہیں اولاد پہ جان دیتی ہیں اور محض اواز سن کے سمجھ لیتی ہیں کہ میں کس موڈ میں ہوں۔ انہوں نے پانچ بچے پالے ہیں۔ پانچوں ایک دوسرے سے بے تحاشا مختلف، لیکن سب کو ہی توجہ اور پیار دیا ہے۔ سب سے بڑی بات اس سماج میں سپورٹ کیا ہے کہ جو درست لگے کرو لوگوں کا مت سوچو۔ یہ مارچ اس عورت کے نام جو باہمت لڑکی، ذمہ دار عورت، باوفا بیوی، محبت کرنے والی ماں اور باشعور انسان ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *