خواتین مارچ کا دن ہمارے لئے خود احتسابی کا موقع ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جوں جوں خواتین مارچ کی تاریخ قریب آ رہی ہے تب سے ہی اس کے حامی اور مخالفین افراد کے تندوتیز بیانات میں شدت آ چکی ہے۔ حتکہ مارچ رکوانے کے لئے کچھ لوگ اسلام آباد ہائیکورٹ بھی پہنچ گئے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ عورت مارچ کو مثبت انداز میں دیکھیں، آپ اپنے طور پر ان کے سلوگنز کی تشریح کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ بتائیں کہ ہم کتنی خواتین کو وراثتی حقوق دے رہے ہیں، توقع ہے منتظمین معاشرتی رویوں کا خیال رکھتے ہوئے آئینی حق استعمال کریں گے، مارچ والوں کے لئے موقع ہے کہ وہ اپنے اوپر اٹھنے والے اعتراضات کو غلط ثابت کریں، امیدہے شہری مارچ کو اس ذہنیت کے خلاف آواز اٹھانے کے موقع کے طور پر ہی لیں گے، اسلامی تعلیمات کی نفی کرنیوالے نظام کو باہمی جدوجہد سے شکست دینا ہو گی۔ ‘ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے بھی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کو بھی موٹر سائیکل چلانی چاہیے۔ یہ سب خواتین با اختیار بنانے کی جانب قدم ہیں۔

اقوام متحدہ نے بھی خواتین مارچ سے قبل اپنی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کی تقریباً 90 فیصد آبادی خواتین کے خلاف کچھ نہ کچھ تعصب کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام میں 75 ممالک کا مطالعہ کیا گیا ہے جو دنیا کی 80 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں اور معلوم ہوا کہ 10 میں سے 9 افراد جن میں خواتین بھی شامل ہیں جو ایسے عقائد رکھتے ہیں۔ اس رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ نہ صرف ہزاروں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے بلکہ ہزاروں خواتین کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے، ان پر تشدد کیا گیا ہے اور تیزاب پھینکا گیا ہے۔ یہ تمام اشاریے پریشان کن ہیں۔

اس مارچ کے حوالے سے دو طرح کے مطالبات چل رہے ہیں۔ ایک وہ حقیقی مطالبات ہیں جو مارچ کے منتظمین نے اپنے منشور میں لکھے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو سوشل میڈیا پر فوٹوشاپ تصاویر میں چل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس مارچ کے حوالے سے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے پاکستان اور بھارت کی جنگ ہو رہی ہو۔ سوشل میڈیا پر تو ایسے ایسے بینرز نظر آ رہے ہیں جنہیں شاید تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم عورت مارچ کے حقیقی مطالبات کا جائزہ لیں اور ان کے بنیادی مقاصد کو پڑھا جائے تو شاید ہی کوئی ان مطالبات سے انکار کر سکے۔ ہم سب مانتے ہیں کہ عورت کی رائے یا پسند نا پسند کو ہمارے مذہب میں بھی اہمیت حاصل ہے۔ آپ ماروی سرمد سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر ان مطالبات سے رہ فرار اختیار نہیں کر سکتے ہیں۔

عورت مارچ کے مطالبات میں خواتین کے لئے مساوات کی بات کی گئی ہے، تشدد روکنے کی بات کی گئی ہے، وراثت کی بات کی گئی ہے، جاب کرنے والی خواتین کو ہراسمنٹ سے بچانے کی بات کی گئی ہے، ونی کی رسم ختم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ بچوں سے بد سلوکی کو اجاگر کیا گیا ہے، تیزاب پھینکنے والوں کو سزا کم عمری کی شادی روکنے سمیت بنیادی حقوق دینے کی بات کی گئی ہے۔ اس سوچ کو ختم کرنے کی بات کی گئی ہے جو عورت کو دو ٹکے کی سمجھتا ہے۔ یاد رکھیں اگر عورت دو ٹکے کی ہو سکتی ہے تو مرد بھی ایک ٹکے کا ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف سوشل میڈیا پر زیر گردش ’فوٹو شاپ مطالبات‘ کو دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ”میرا جسم میری مرضی“ کہہ کر گویا خواتین بے حیائی یا جسم فروشی کی اجازت مانگ رہی ہوں۔ اس نعرے کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر کچھ ایسے من گھڑت غلیظ مطالبات کے بینرز بھی بنائے ہوئے ہیں جنہیں یہاں تحریر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ایک لمحے کے لئے بھی یہ سوچنے کو تیار نہیں ہیں کہ اس نعرے کا یہ مقصد بھی ہو سکتا ہے کہ وہ خود کو ہوس پرستوں سے بچانے کی بات کر رہی ہوں گی۔ جبری شادی کے خلاف بات کر رہی ہوں گی اور اپنی حفاظت کی بات کر رہی ہوں گی۔ ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وہ ان ناسوروں کے خلاف بات کر رہی ہوں گی جو یہ سب کرتے ہیں تاکہ انھیں سزا دلوائی جا سکے۔

سوچنے کی بات یہ ہے جو لوگ فوٹو شاپ میں نعرے تبدیل کر کے غلیظ زبان لکھ سکتے ہیں کیا وہ خواتین کو ان کے جائز حقوق دے سکتے ہیں؟ اگر کوئی ایسا مطالبہ ہو جو خلاف مذہب ہو تو ضرور اعتراض کریں مگر جو حقوق ہمارا مذہب دیتا ہے ان پر اعتراض کرنے کی بجائے ان قوانین پر عملدرآمد کروانے کی کوشش کریں جن پر عمل نہیں ہو رہا۔ خواتین کے سب مسائل کا ذمہ دار صرف مرد حضرات ہی نہیں ہیں بلکہ بہت سارے مسائل کی ذمہ دار صرف خواتین بھی ہیں۔

آئیے خود احتسابی کرتے ہوئے دیکھیں کہ کیا ہم وہ بنیادی حقوق ان سب خواتین کو دیتے ہیں جو ہم سے وابستہ ہیں، اگر ہم وہ اختیارات اور حقوق انھیں دیتے ہیں جو ہمارے دین نے خواتین کو دیے ہیں تو ہمیں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں اور اگر ہم سے کہیں کوئی کوتاہی سرزد ہوتی ہے تو اپنی خود احتسابی کے تحت اس میں بہتری لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ہم میں سے کچھ لوگ بھی خود میں بہتری لے آئے تو سمجھیں مارچ کا مقصد پورا ہو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *