عورت مارچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت مارچ اور ان کا نعرہ ”میرا جسم میری مرضی“ آج کل ہر جگہ موضوع گفتگو ہے، اگر کوئی اس نعرے کی حمایت میں کچھ کہہ دے تو لوگ راشن پانی لے کر اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اپنی رائے دینے کا بھی ہمیں حق حاصل نہیں اور ہمارے اپنے رفقا ہمیں آڑے ہاتھوں لینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس حوالے سے دنگل نما ٹاک شوز بھی اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں۔ حال میں ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر نے نیو ٹی وی پر بیٹھ کر اپنی رائے کا کیا خوب اظہار کیا۔

عورت کے متعلق ان کی منفی سوچ ہم بارہا ان کے ڈراموں میں دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عورت کی بے حیائی کے خلاف ہیں، لیکن اپنے لکھے ڈراموں میں تو بے حیائی وہ خوب دکھاتے ہیں۔ وہ اپنے ڈراموں میں عورت کو بے وفا، خود غرض، لالچی اور بدکردار دکھاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ بذریعہ قلم ہمیشہ عورتوں کی منفی عکاسی کرتے ہیں۔

”میرے پاس تم ہو“ کے مایہ ناز لکھاری (جو اس قدر تنک مزاج ہیں) سے ایک ”شٹ اپ“ برداشت نہ ہوا اور وہ ٹی وی پر ایک عورت کو اس کی شکل صورت اور جسم کی متعلق مغلظات سناتے گئے۔ کسی نے ان کو روکا نہ وہاں وقفہ لیا گیا۔ کیونکہ یہ سب تو سوچی سمجھی اسکیم کے تحت اکھاڑہ سجایا گیا تھا۔ اس طرح کے واقعات چینل مالکان، پروڈیوسر اور اینکر کی ملی بھگت ہوتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ آج کل قمر صاحب کس طرح خدا بنے پھر رہے ہیں اور خود پرستی کا شکار ہیں۔

فرعونیت ان کے لہجے سے عیاں ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں اچانک ڈرامہ نویس کو بلوا کر اس کی رائے لینا کیوں اتنا معتبر ہو گیا۔ اور وہ اپنے دفاع میں فرماتے ہیں کہ مجھ سے ”شٹ اپ“ برداشت نہ ہوا جبکہ وہ آغاز سے ہی بدتمیزی کر رہے تھے۔ ٹاک شوز میں یہ عام سی بات ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی باری میں بولتے ہیں اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ گالیاں دینا شروع کر دیں۔ جو شخص کہتا ہے میری بات کیسے کاٹی اور کیوں مداخلت کی۔

جب خود کو پڑھا لکھا کہنے والے لکھاری سے ایک ”شٹ اپ“ برداشت نہیں ہو سکا۔ وہ اپنے آگے عورت کو کیا برابری کے حقوق دے گا۔ وہ ایک متکبر انسان ہیں جو اس سے قبل بھی اپنے ہی میڈیا کے کئی ساتھی اداکاروں اور دوستوں کے لیے زہر اگلتے رہے ہیں، انہیں مخالفت سرے سے برداشت ہی نہیں اور شہرت ان سے سنبھالی نہیں جا رہی۔ لیکن کچھ لوگ اس بات سے قطع نظر ان کی تائید کرتے نظر آ رہے ہیں۔

متکبر انسان کے ایک ایک لفظ میں تکبر ہوتا ہے کیا وہ اللہ کو پسند ہے؟ شاید انہیں عورت ذات سے ہی کوئی ذاتی مسئلہ رہا ہے جس کی بنا پر وہ عورت کو حد درجہ گرا ہوا دکھاتے ہیں۔ لکھاری بہت حساس ہوتا ہے اور اس کا ایک ایک لفظ اس کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ وہ عام آدمی کے لیے لکھتا ہے، اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس طرح ”دو ٹکے کی عورت“ کہہ کر اس کی تذلیل نہیں کرتا۔ جبکہ اگر کردار کی بات کی جائے تو مرد عورت دونوں کے لیے یکساں معیار ہوتے ہیں۔

انسان کی اصل پہچان ہی غصے کی حالت میں ہوتی ہے، اور جس طرح وہ تند مزاج رائیٹر آئے دن ہرزہ سرائی کرتے نظر آ رہے ہیں، کافی مایوس کن ہے۔ کسی بھی عورت کو گالی دینے والا، اس کے خلاف قبیح باتیں کرنا والا، اس کی کردار کشی کرنے والا کوئی اعلی ظرف یا با وقار نہیں ہو سکتا۔ کیا ہمارا اسلام یہ ہے؟ ہمارا رویہ اور اخلاقیات کیا ہیں؟

مجھے لگتا ہے کہ پاکستان، یورپ امریکہ سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے جہاں اور کوئی بڑا مسئلہ ہی نہیں سوائے عورت مارچ کی مخالفت کے۔ حقیقتاً ہم کسی سے اس کی شخصی آزادی نہیں چھین سکتے، نظریہ سے اختلاف آپ کا حق ہے لیکن سب کو شخصی آزادی ہونی چاہیے۔ اور کوئی کسی کو بگاڑ نہیں سکتا جب تک کہ وہ خود نہ بگڑنا چاہے۔ لیکن اپنا نظریہ زبردستی جبراً تھوپا نہیں جا سکتا۔ ایک طبقے کا کہنا ہے کہ لبرل ازم کو پاکستان میں پروان نہیں چڑھنے دیں گے۔ تو اُن سے میرا سوال ہے کہ پھر آپ کیا کریں گے، اور کس ہتھکنڈے سے سے یہ تحریک روکیں گے؟

ہم ایک پدر شاہی نظام کا حصہ ہیں جہاں نہ صرف مرد حضرات ایسے ہیں جو کہ عورتوں کے بارے میں متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں اور عورت کو فساد کی جڑ اور عقل سے عاری سمجھتے ہیں، عورت کو اپنے برابری حقوق کے حصول کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔

دین اسلام کی تعلیمات تمام تر اعتدال و میانہ روی پر مبنی ہیں، چاہے ان کا تعلق قول و عمل سے ہو یا اخلاق و معاملات یادوسرے امور سے۔ اپنی نوع میں سب سے بہترین قسم ہوتی ہے میانہ روی۔ یعنی اگر کوئی رائے ہو، عقیدہ ہو، یا کوئی عمل۔ اس میں میانہ روی برتی جائے۔ جس میں نہ افراط ہے اور نہ تفریط۔ افراط یہ ہے کہ جو چیز آپ پر لازم نہیں ہے۔ آپ نے خود اپنے اوپر لازم کر دی۔ خواہ ہماری عبادات ہوں، معاش ہو، معیشت ہو، لوگوں کے ساتھ معاملات ہوں یا لوگوں کے ساتھ اخلاق ہوں۔ تمام تر دنیاوی امور میں میں اللہ کو اعتدال اور میانہ روی پسند ہے۔ ہمارے دین میں آسانی ہے تنگی نہیں ہے۔ اسلام میں نہ غلو ہے نہ شدت ہے، اسلام اس وصف سے آزاد ہے۔ اس لیے اپنے لوگوں کو ان مذموم اوصاف سے محفوظ کریں، کیونکہ اہل الحاد کا انحراف اور شدت پسندوں کا غلو ہم سب کے لیے خطرناک ہیں۔

”میرا جسم میری مرضی“ سے اختلاف رکھا جاسکتا ہے مگر عورت کو نیشنل ٹی وی پر گالی دینا اور ان کے بیانیہ سے ہم رائے ہونا بھی ضروری نہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ماروی سرمد کی کج روی سے بھی آپ متفق ہوں۔ بلا شبہ مغرب اور مشرق کی عورت میں ایک بنیادی فرق لازمی ہوتا ہے جسے سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔ اگر کسی کو اس تحریک سے جڑے پلے کارڈز یا نعروں سے اختلاف ہے یا کوئی اپنی سوچ کے مطابق اُس کے غلط معنی اخذ کرتا ہے تو اس کی بہتری کی بھی گنجائش ہے، اور عورت کو اس کی مرضی اور بنیادی حقوق مانگنے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن اس معاملے میں اپنی آواز اونچی کرنا، دوسرے کو ذلیل کرنا یا گالیاں دینے سے تنگ نظر افراد آپ بڑے نہیں بن سکتے۔ مدلل گفتار رکھیں تاکہ آپ دوسروں تک اپنا نقطہ نظر بہتر انداز میں پیش کر سکیں۔ نہ کہ شدت پسندی اور اشتعال انگیزی کو فروغ دیں۔

نیشنل ٹی وی پر ایسے لوگوں کو بلانا ہی نہیں چاہیے جو مخالفت برداشت نہیں کر سکتے۔ لیکن المیہ ہے کہ ٹی آر پی کے لیے انتخاب ہی ایسے لوگوں کا کیا جاتا ہے۔ اور خلیل الرحمان صاحب بھی ہر پروگرام میں ایک خاص ایجنڈے کے تحت کام پہ لگے ہوئے ہیں۔

نظریات میں انتہا پسندی کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ لکھاری کے اوپر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ بذریعہ قلم معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ عدم برداشت دونوں طرف سے ہے، جبکہ ہم اگر میانہ روی سے اپنی زندگی گزاریں تو زیادہ صحت مند معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔ جو قوم کی تعلیم و تربیت، تہذیب و ثقافت اور معاشرے کی بھلائی کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جہاں مرد اور عورت دونوں کو یکساں حقوق حاصل ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply