وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ایک عورت ہوں اور ایک ایسے خاندان سے ہوں جہاں پر عورت اپنے تمام حقوق سمیت پرورش پاتی ہے۔ بچپن سے لے کر آج تک یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ بیٹیوں سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے اور انہیں گالی نہیں دیتے کہ یہ بہت نازک ہوتی ہیں۔ گھر میں ایسی شرارتیں جو میں نے اور بھائی نے مل کر کی ہوتی ہیں ان پر صرف بھائی کو مار پڑتی تھی اور میرے پر ہاتھ نہیں اٹھایا جاتا تھا صرف ڈانٹ دیا جاتا تھا۔ گھر کے سارے بھاری بھرکم کام میرے بھائی اور والد کرتے ہیں۔

باہر جاتے ہوئے مجھے چادر اوڑھنے کا کہا جاتا ہے اور میرے بھائی یا والد میں سے کوئی مجھے مارکیٹ یا یونیورسٹی چھوڑنے جاتا ہے۔ حالانکہ اس کے برعکس بھائی بس میں دھکے کھاتا ہوا جاتا ہے۔ گھر کے لئے دودھ اور سبزی وغیرہ بھی بھائی لاتا ہے۔ بل جمع کروانے کے لئے ابو قطاروں میں لگتے ہیں اور عورتیں گھر سنبھالتی ہیں۔ کچھ عورتیں کھیتوں میں بھی کام کرتی ہیں۔ شام کو مردوں کے گھر آنے پہ سب شام کی چائے پیتے ہیں اور بڑی بوڑھیاں حقہ پیتی ہیں اور کچھ حقے کو پھپھڑے خراب کرنے کا سبب قرار دے کر سگریٹ پی کر چھلے بناتی ہیں۔ سب اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے گھر کو بکھرنے نہیں دے رہے۔

ہم اگر بصد ضرورت پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں تو مرد اپنی سیٹ چھوڑ کر بیٹھنے کے لئے جگہ دیتے ہیں۔ عورتوں کے لئے خاص طور پر بیٹھے ہوئے مردوں کو اٹھا کر جگہ خالی کروائی جاتی ہے۔ ہمیں محبت، عزت، احترام، تعلیم وہ سب بنیادی حقوق حاصل ہیں جو کہ ایک انسان ہونے کے ناتے ہمیں ملنے چاہیے۔

لیکن اب بات کرتے ہیں تمام عورتوں کے حقوق کی کہ کتنی عورتیں ہیں جن کو یہ حقوق حاصل ہیں؟ کتنی بچیاں ہیں جو کمسنی میں بیاہ دی گئیں؟ کتنی عورتیں ہیں جنہوں نے ساری زندگی شوہر سے مار کھاتے گزار دی؟ کتنی عورتیں ہیں جو کھانے میں نمک زیادہ ہونے کی بنا پر بچوں کے سامنے پٹتی ہیں اور کتنی عورتیں ہیں جو روز بازاروں، دفتروں، گاڑیوں اور مارکیٹوں میں ہراسمنٹ کا شکار ہوتی ہیں؟ کتنی عورتیں ہیں جو محبت کے نام پر اپنی عزتیں گنوا بیٹھیں؟

کتنی عورتیں ہیں جو زیادتی کا شکار ہونے کے بعد خود کشی کر لیتی ہیں؟ کتنی عورتیں ہیں جو تعلیم کے زیور سے محروم ہیں؟ کتنی ہی عورتیں ہیں جن کے بھائی ان کو اس لئے وراثت میں حق نہیں دیتے کہ ان کی جائیداد غیروں میں چلی جائے گی؟ کتنی عورتیں ہیں جو اس لئے گھروں سے نکال دی جاتی ہیں کہ ان کے ہاں صرف بیٹیوں کی ولادت ہوتی ہے؟ کتنی عورتیں ہیں جو رشتے سے انکار پر تیزاب گردی کا شکار ہوجاتی ہیں؟ کتنی عورتیں ہیں جو محبت کی شادی کرنے پر قتل ہوگئیں؟ کتنی عورتیں ہیں جو اپنے خاندان کے کسی مرد پر واری گئیں اور ونی ہوگئیں؟ کتنی عورتیں ہیں جن کے ساتھ مرنے کے بعد قبر میں بھی زیادتی کی گئی؟

جب ہم بات کرتے ہیں کہ عورتوں کو سب حقوق اسلام نے دیے ہیں تو پھر یہ کون عورتیں ہیں جن کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اور کیا یہ زیادتیاں کرنے والے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نہیں رہتے؟ تو کیا وہ نبی کے اس فرمان پر نہیں چلتے کہ عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ جب یہ سب زیادتیاں کرنے والے اس معاشرے میں ہیں اور زیادتیاں سہنے والے بھی اسی معاشرے میں ہیں تو ہم اس ظلم پر کیسے آنکھیں بند کر سکتے ہیں؟

لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں بات بے بات ماں بہن کی گالیاں دیتے اور اپنے سے کمزور جنس کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتے مرد تو مرد کے بچے لگتے ہیں ہیں مگر وہ عورتیں بازاری ہوجاتی ہیں جو اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں اورصرف اپنے وہ حقوق لینا چاہتی ہیں جو اللہ نے انہیں دیے ہیں۔

مرد اور عورت کا اس معاشرے میں الگ مقام ہے اور دونوں ہی عزت و احترام کے مستحق ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور دونوں کا ایک دوسرے سے کوئی مقابلہ نہیں۔ اور نہ ہی یہ ایک دوسرے سے مقابلے کے لئے تخلیق کئے گئے ہیں۔ عورت مرد سے مقابلے میں اپنی انفرادیت کھو رہی ہے اور مرد عورت کو حقیر ثابت کرنے کے لئے اپنا وقار کھو رہا ہے۔ اسی جنگ میں ہماری نسلیں برباد ہو رہی ہیں۔ نہ ہماری بچیاں محفوظ رہی ہیں اور نہ ہی بچے۔

یہ جنگ تب ہی ختم ہو گی جب دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کو عزت و احترام دیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *