مارچ اور عورت مارچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی دل کرتا ہے کوئی تمہید نہ باندھی جائے، سیدھی سادی بات کی جائے۔ کوئی لفظوں کی ہیرا پھیری نہیں کوئی طلسماتی جادوگری بھی نہیں۔

عورتوں کے حقوق کی علمبردار خاتون نے جذبات میں آ کر ایک نام نہاد ادیب کی بات کیا کاٹ دی، اس شخص نے شدید بدزبانی سے اپنی ساری تہذیب و تربیت کی اور اس کی حمایت کرتے خواتین و حضرات نے جہاں پورے معاشرے کی اخلاقیات کی قلعی کھول کر رکھ دی، وہیں مخالفین بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیتے الفاظ کے جوہر دکھانے میں پیچھے نہیں رہے۔

سوشل میڈیا پر ایک وبال اور ایک بھونچال آ گیا۔

ایک پہلے سے زیر بحث موضوع پر جاری بحث میں مزید شدت آ گئی۔

‫عورت مارچ۔ عورت مارچ۔ عورت مارچ ‬

‫دو دن پہلے تک کراچی میں تھے ‬، ہماری اماں ”عورت مارچ“ کے نام تک سے نابلد، نماز اور قرآن کے علاوہ خاندان کی بڑی ہونے کی حیثیت سے رشتہ داروں کے مسائل اور آخرت کے لیے صدقہ خیرات کی فکروں میں غلطاں و پیچاں ‬، ان کے نزدیک ہماری کمر کے درد سے لے کر دنیا کے ہر مسئلے کی وجہ ہے اسلام سے دوری اور قیامت کی نزدیکی۔ ‬

‫ہماری جان سے پیاری بھابھی کی فکریں اور سوچیں اور تھیں۔ ہر دوسرے مہینے باہر سے آئی کسی نند، بھائی یا دیور کی مہمانداری اور ان کے لیے تحفے تحائف خریدنا، گھر کا ڈیکور بدلنا، باقی ٹائم فلاں جگہ درس ہے، تمہیں بھی واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کر لوں؟ بہت اچھی کلاسسز ہیں ‬، دین کو تو اب سمجھنا شروع کیا ہے، سیدھے ہاتھ والے پڑوسی اپنے گھر درس میں اتنا کوئی شاندار ریفریشمنٹ کرتے ہیں، مجھے تو اپنی باری کی فکر ہے۔ الٹے پاؤں میں مستقل رہتے درد کے لیے حجامہ کرواؤں یا فزیو تھراپی۔ عورت مارچ ان کے نزدیک کچھ نہیں ہے سوائے نری بیہودگی کے۔

‫میڈیکل کالج میں پڑھتی بھتیجی سے اس متعلق رائے لی۔ آج کی عورت کے مسائل کے بارے میں دریافت کیا۔ اس نے ٹھٹھہ مارتے ہوئے کہا بی بی آپ کیا باتیں کر رہی ہیں؟ لاسٹ ائیر والا مارچ واز فن میری اے لیولز کی بہت ساری دوستیں جو اب فلاں فلاں یونیورسٹی میں ہیں گئی تھیں اینڈ دے ہیڈ آ رئیل گڈ ٹائم۔ ‬ مگر میرے فلانے موڈیول کے ایگزامز بھی ہیں اور اماں تو گلا دبا دیں گی اگر میں نے اس کا نام بھی لیا۔ ‬

‫گھریلو مددگار سلیمہ باجی کا سب سے بڑا مسئلہ وہ اسٹیٹ بروکر جس کو بغیر لکھا پڑھت کے انہوں نے پیسے تھما دیے اب نہ تو گھر مل رہا ہے اور نا ہی پیسے واپس۔ بھائی کی مدد لینے سے انکار کردیا‬، کیونکہ اس نے دھمکی دی ہے کہ بیٹوں کو بھی مار دے گا اور اسے واپس بنگلہ دیش بھجوا دے گا۔ یہاں حق عورت نہیں، غریب ہونے کی وجہ سے مارا جا رہا تھا۔ ‬

‫حال ہی میں علیحدگی حاصل کرنے والی کزن سے اس کے حق کی بات کی تو پتہ چلا پڑھا لکھا ڈاکٹر شوہر پوری طرح ”ماں“ کے کہنے میں تھا ‬‫اور اسی کے کہنے میں آ کر ہاتھ تک اٹھانے سے گریز نہیں کرتا تھا۔ کزن نے اپنے والد کو چھوڑ کر دنیا کے سب مردوں کے دل کھول کر درجات بلند کیے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کو گالیاں دیں۔ عورت مارچ کی حامی مگر صرف اپنے حق کی جانکاری رکھتی، معاشرے کی دوسری عورتوں کے مسائل سے جزوی نابلد اور مکمل لا تعلق نکلیں۔

‬‫عجیب مایوسی ہوئی۔ لگا یہ کیا؟ ہمارا خاندان تو بڑا ہی کوئی مڈل کلاس اور دقیانوسی ٹائپ نکلا! کوئی ایک نہیں جو مارچ میں شرکت کا کسی اصولی موقف کی وجہ خواہشمند ہو یا جس کی معلومات سوشل میڈیا پر لگے پوسٹس یا میمز سے بڑھ کر کچھ ہو۔ ‬

‫پھر حساب لگایا کتنی ہے ہمارے ملک میں شرح خواندگی؟ اور ان خواندہ لوگوں میں سے کتنے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں؟ استعمال مطلب با مقصد استعمال ‬یعنی ”فن“ اور ”ٹائم پاس“ کے علاوہ کچھ سیکھنا چاہتے ہیں؟ کچھ جاننا چاہتے ہیں؟ مذہب اور آخرت کے خوف سے ہٹ کر اکثر پوسٹ بغیر پڑھے دس لوگوں کو شئیر کرنے سے پرے اپنی ذات میں ہی سہی کچھ مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں؟ ‬

‫کیا کوئی اعداد و شمار اکٹھے کر رہا ہے؟ پچھلے مارچ کے نتیجے میں خواتین کے حقوق سے متعلق کوئی بل اسمبلی میں پیش ہوا؟ کوئی نیا اسکول، ‬‫کوئی نیا انڈسٹریل ہوم کھلا؟ خواتین کے کمسن بچوں کے خلاف جرائم بشمول جنسی جرائم میں کوئی کمی آئی؟ گاؤں میں کھیتوں میں پسینہ بہاتی، بھٹوں میں جھلستی، گورنمنٹ ہسپتالوں میں آٹھواں بچہ پیدا کرتی یا دائیوں کے مذبح خانوں میں دم توڑتی عورتوں کی تعداد میں کچھ کمی ہوئی؟ ‬

‫جو عورت مارچ میں شریک ہے وہ تو دھڑلے سے مرد کو کل بھی گالی دے سکتی تھی اور آج بھی مرد کے منہ پر تھوک سکتی ہے۔ کل بھی اپنے جسم پر اختیار رکھتی تھی اور آج بھی رکھتی ہے۔ کل بھی روٹی نہیں پکاتی تھی اور اب تو اس میں فخر بھی محسوس کرتی ہے۔ ہاں، شاید ہمت جرات اور سوچ میں تبدیلی آ بھی رہی ہے مگر اس کا حلقہ بھی اپر کلاس یا اپر مڈل کلاس تک محدود ہے۔ ‬یہی اپر کلاس عورت جو مرد سے برابری کا حق چاہتی ہے اور ذرا سی غلطی پر اپنے ہی گھر میں کام کرنے والی اپنی ہم جنس کی چمڑی ادھیڑ دیتی ہے۔ مرد سے برابری چاہتی ہے اور کسی پبلک پلیس پر کھڑے ہو کر جگہ نہ دینے پر مرد کو لعنت بھیجتی ہے۔ مسائل اور ہراسمنٹ کا شکار ہے مگر کہیں نہ کہیں اپنے گھر میں پلنے والے مرد‬ کی تربیت کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔

‫مگر خیر! اچھے کی امید رکھتے ہیں۔ شاید یہ مارچ، اس کے اثرات پسے ہوئے محکوم طبقے تک پہنچ جائیں۔ وہ اپنے حق کے لیے اپنی محرومیوں کے لیے کھڑے ہونے کی ہمت جُٹا سکیں۔ عورتیں حقوق اور فرائض کا فرق جان سکیں۔ کوئی عارفہ کوئی ملالہ کوئی عاصمہ جہانگیر آگے آ سکے۔ ‬

‫تعلیم کی تربیت کی جو شدید کمی ہے ہمارے معاشرے میں اس کی طرف کسی کی نظر پڑ سکے۔ ‬اپنے گھر سے تبدیلی کا آغاز کر سکیں۔

مارچ میں شریک ہر عورت اپنے گھر میں کام کرتی دوسری عورت کو اس کے جسم پر مہینے میں ہی سہی ایک دن اس کی مرضی دے دے آرام کی شکل میں۔ اس کی بارہ تیرہ سال کی بچی کو کسی گھر میں کام پر لگانے کا مشورہ دینے کے بجائے پڑھانے کا مشورہ دے دے۔ ذمہ اٹھا لے کسی بچی کی کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے یا اس کا شعور دینے کا۔ کوئی با اثر عورت اپنے شوہر کو اس کی فیکٹری میں کام کرتے مزدوروں کی بیٹیوں کو تعلیم الاؤنس دینے پر راضی کر لے۔

سال میں ایک مرتبہ ہی سہی اپنے بیٹوں کو عورت کی عزت کرنے کا، برداشت کا اور دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ اور سبق سکھا سکیں۔ بیٹے کے لیے لڑکی پسند کرتے وقت اس شکل پر تبصرے کرنے سے گریز کر لیں جو اس نے خود نہیں بنائی۔ بیٹی کو حق لینا سکھائیں تو بہو کو حق دینا بھی سیکھیں۔ مردوں سے اپنے حق کی بات کریں اور اپنی ہم جنسوں کو حق دینے کا حوصلہ بھی جُٹائیں۔ مارچ کا کوئی ایجنڈا بھی طے کریں۔ قانون سازی کے لیے کام کریں۔

یہ اچھی سی بات ہے، عورتوں کے مسائل پر، محرومیوں پر، تکلیفوں پر بات تو شروع ہوئی ہے، شاید دور تلک نکل جائے اور اچھے دن آ ہی جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *