سون سکیسر کی دو عظیم جھیلوں کے درمیان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"14610916_1377480758930258_4630626814867759214_n\"

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ ملتے گئے کارواں بنتا گیا

اس شعر کو سامنے رکھتے ہوئے برادر عدنان عالم اعوان نے وادی سون میں ایک نئے ھائیکنگ ٹرپ کی تجویز پیش کی۔ اس سے قبل ان کا پہلا ٹرپ کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کر چکا تھا۔ جس کا احوال بیشتر دوست پڑھ بھی چکے اور تصویروں میں بھی دیکھ چکے۔

ہائیکرز : عدنان عالم اعوان ,اعجاز اعوان ،ارشد اعوان، نبیل اعوان ، محمد علی اعوان ، نیاز اعوان ، احمد ملک ،بلال مقصود اعوان

اتوار 23اکتوبر ، روانگی صبح 9:30بمقام کورڈھی۔ وادی سون

اب کی بار ایک اعلیٰ درجے کی ہائیکنگ پلان کی گئی تھی جس کا فاصلہ 18 کلو میٹر رکھا گیا۔ وادی سون کی قدرتی خوب صورتی کو دیکھتے ہوئے یہ فاصلہ کچھ زیادہ محسوس نہیں ہوتا لیکن جب پہاڑوں پر لگاتار چڑھنا ہو تو پھر کچھ مشکل محسوس ہوتی ہے۔ لیکن منزل پر پہنچ جانے کے بعد کامیابی کا جو لطف محسوس ہوتا ہے دیگر خوشیاں اس کے سامنے ماند پڑ جاتی ہیں۔

\"14650126_1377501018928232_8200432344858193305_n\"
جب عدنان عالم نے اس ٹریک پر چلنے کا اعلان کیا تو بہت سے احباب نے شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ ٹریک وادی سون کے ایک گاوں کورڈھی کے مغرب سے ہوتا ہوا تقریباً چار ہزار فٹ بلند پہاڑ سے گزرتا ہوا مشرق کا رخ کرتا ہے۔ اس کے بعد دو رستے تھے یا تو واپس نیچے کو اتر کر سفر جاری رکھا جائے یا پھر پہاڑ کے اوپر اوپر چلتے ہوئے دونوں طرف کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک دلکش مگر بھولی بسری وادی گوسار میں اترا جائے۔ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں باہر سے کم ہی لوگ آ پاتے ہیں تو امید کی جا سکتی تھی کہ یہاں قدرتی مناظر کثرت سے ملیں گے۔ اس ٹریک کے انتخاب کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں پر چلتے ہوئے وادی سون کی دو بڑی جھیلیں اوچھالی جھیل اور جاہلر جھیل بیک وقت دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ دونوں جھیلیں دو الگ الگ وادیوں میں ہیں۔ دونوں میں قدرتی مناظر بہت دلکش ہیں۔ یہاں موسم سرما کی سب سے بڑی دلکشی سائبیریائی پرندوں کا ان دونوں جھیلوں پر قیام ہے جب جھیلوں کی سطح رنگ برنگے پرندوں سے بھر جاتی ہے۔

\"14591783_1377486098929724_6034184229098985110_n\"

اتوار 23 ا کتوبر 2016کی ایک چمکدار صبح کو ہائیکنگ کا آغاز خوشاب سے ہوتا ہے جہاں پر برادر عدنان عالم اعوان ، میرا یعنی اعجاز اعوان اور ہمارے نوجوان ساتھی احمد ملک کا انتظار کر رہے ہیں۔ احمد ملک سرگودہا سے ایک روز پہلے سر شام ہی خوشاب پہنچ چکے تھے اور ہم بھی تیار ہو کر خوشاب پہنچ گئے۔ گپ شپ میں نوشہرہ پہنچ گئے جہاں مہریہ ہوٹل میں ہمارے گروپ کے سب سے عمدہ اور شاندار رکن ملک مظہر نے ہمارا استقبال کیا۔ لذیذ ناشتہ تیار تھا۔ اس دوران نبیل اعوان بھی اپنا کیمرہ اٹھائے پہنچ گئے ان کے ساتھ ملک نیاز احمد بھی تھے جو ایک ماہر ہائیکر ہیں اور شمال کی کئی وادیوں میں ہائیکنگ کر چکے ہیں۔

پتا چلا کہ نوشہرہ سے محترمی ارشد اعوان بھی ہمارے ساتھ چلیں گے جبکہ کورڈھی سے دو اور جوان بھی ساتھ مل جائیں گے (دوران ٹریکنگ احساس ہوا کہ یہ جوان نہیں بلکہ جن تھے )۔ نوشہرہ سے نکلے اور ٹوٹی پھوٹی اوچھالی روڈ سے ہوتے ہوئے کورڈھی پہنچ گئے۔ جہاں ہمیں محمد علی اور بلال مقصود مل گئے۔ بلال مقصود \”ہم سب\” کے باقاعدہ قاری ہیں اور انہوں نے ہماری کچھ تحریریں پہلے سے پڑھ رکھی ہیں۔ محمد علی سرگودہا سے خاص طور پر اس ٹرپ کے لئے آئے تھے ۔ بہت جلد ملک مظہر صاحب نے ہمیں وہاں تک پہنچا دیا جہاں سے آگے ہمیں پیدل اپنے سفر کا آغاز کرنا تھا۔

\"14721734_1377484068929927_7587853209026719999_n\"

واپس جاتے ملک مظہر کے چہرے پر خوشی اور سکون کا سا تاثر تھا اور ہمارے لئے رحم کے جذبات بھی نمایاں تھے کچھ دیر تو ہم ہموار رستے پر چلتے رہے۔ پھر چڑھائی شروع ہوئی۔ بل کھاتی ہوئی پتھریلا رستہ اوپر پہاڑوں میں کہیں گم ہو رہا تھا۔ کچھ اوپر جا کر جو تیز قدموں سے چلنے والے تھے وہ تو آگے نکل گئے اور ہم جیسے کبھی کبھار ہائیکنگ پر نکلنے والے آہستہ قدموں سے چڑھائی طے کرتے رہے۔

دو تین بار آرام کے لئے رکنے کے بعد بالآخر ہم پہاڑ کی چوٹی تک پہنچ ہی گئے۔ یہاں پر دوستوں نے اوچھالی جھیل اور اس کے ساتھ وادی کا نظارہ دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا۔ اپنے فوٹو بھی بنوائے۔

خزاں کا موسم شروع ہو چکا ہے لیکن وادی میں ابھی تک ہریالی تھی۔ یہاں کبھی کبھی کوئی مقامی گڈریا اپنے جانور چراتا نظر آ جاتا۔ ایک گڈریئے سے پوچھنے کے بعد ہم آگے کو چلے۔ ابھی مزید چڑھائی باقی تھی اور ہم سب کے سانس پھول رہے تھے۔ ایک ڈیرے کے پاس سے گزرے تو بچوں نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی بس خاموشی سے ہمیں دیکھتے رہے۔ جب ہم کچھ آگے چلے گئے تو پیچھے سے ایک خاتون کے پکارنے کی آواز یں سنائی دیں۔ اس خاتون نے پوچھا کہ آپ لوگوں نے کہاں جانا ہے۔ عدنان بھائی نے بتایا کہ ہم نے گماندرا جانا ہے تو اس نے بتایا کہ گماندرا جانے کا رستہ اس کے گھر کے صحن میں سے ہو کر گزرتا ہے۔

\"14572338_1377500755594925_8557944631785879361_n\"

ہم اس کے صحن سے گزرے تو احساس ہوا کہ غربت نے یہاں بھی اپنے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ بچے نہایت معمولی کپڑوں میں ملبوس تھے۔ ان کی بیٹھک گھر کے باہر کی طرف تھی۔ ہم وہاں پہنچے تو بیٹھک کے باہر درخت کی گھنی چھاوں تھی وہاں رکے۔ بیٹھک کے اندر چارپائیاں پڑی تھیں ہم نے ایک ایک چارپائی اٹھائی اور چھاوں میں بچھا دی۔ ایک بچہ جگ میں پانی لے آیا۔ پانی گدلا سا تھا۔ عدنان بھائی آج کل کھانے پینے کی چیزوں کے بارے میں کافی حساس ہو رہے ہیں۔ اور ہر چیز کے بارے میں مکمل تحقیق کے بعد ہی کھاتے پیتے ہیں۔ انہوں نے بچے سے پوچھا کہ پانی کہاں سے لاتے ہو اس نے بتایا کہ قریب ہی ایک چشمہ ہے وہاں سے بھر لاتے ہیں۔ عدنان بھائی نے پوچھا کہ وہاں سے جانور تو پانی نہیں پیتے ؟ بچے سے پہلے میں نے جواب دیا کہ دن میں تو نہیں پیتے البتہ رات کو ضرور پیتے ہوں گے۔ عدنان بھائی نے ہچکچاتے ہوئے پانی پیا البتہ میں نے خوب سیر ہو کر پانی پیا کہ ہماری ننہیال کے ڈیرے پر ہم بچپن سے ہی چشمے کا پانی پیتے آئے ہیں۔

\"14666086_1377512378927096_9037752718789013183_n\"

تھوڑی دیر بعد ہم چلنے لگے تو خاتون نے خاصی شرمندگی سے بتایا کہ اس کے پاس دودھ نہیں ہے ورنہ وہ ہمارے لئے چائے ضرور بناتی۔ میرا خیال یہ تھا کہ خاتون اگر ایک دو بکریاں ہی پال لے تو دودھ کی کمی دور ہو سکتی ہے اور جنگل میں بکریوں کو زیادہ چارے کی ضرورت بھی نہ ہو گی۔ بہر حال وہاں سے چلے تو ایک گھنا جنگل سامنے تھا۔ جو تھکن تھی وہ ساری دور ہو گئی۔ رستہ کافی تنگ سا تھا۔ بچے ہمیں آگے تک چھوڑنے کے لئے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں جنگل میں بیر اور جنگلی انجیر کے کافی درخت ہیں لیکن آج کل درختوں پر پھل نہیں ہیں۔ وہاں سے تھوڑا آگے چلے تو پانی کے ایک بڑے تالاب سے ہمارا سامنا ہوا۔ اتنی بلندی پر پانی کا تالاب ؟ لیکن یہ تالاب آس پاس کی پہاڑیوں سے بہہ کر آنے والے بارش کے پانی کی وجہ سے بنتے ہیں۔ یہاں پر جانور پانی بھی پیتے ہیں اور خواتین کپڑے وغیرہ بھی دھوتی ہیں۔ آج بھی کافی خواتین یہاں کپڑے دھو رہی تھیں ساتھ میں ان کی خوش گپیاں بھی جاری تھیں۔ ہمارے دوستوں نے کیمرے پیک کر لئے اور خاموشی سے اس تالاب کے پاس سے گزر گئے۔

\"14716102_1378330622178605_6127210657903894827_n\"

جگہ کافی دلکش تھی۔ وہاں کچھ دیر رک کر قدرت کے نظار ے دیکھے جا سکتے تھے لیکن وادی سون میں جہاں خواتین ہوں وہاں مردوں کا رکنا کوئی اچھی بات نہیں سمجھی جاتی۔ کچھ آگے چلے تو اب جاہلر کی خوب صورت وادی ہمارے سامنے تھی۔ وادی کے بالکل درمیان میں ایک نہایت عمدہ تالاب اور اس کے آس پاس ہموار کھیت دیکھے جا سکتے تھے۔ اس تالاب کو دیکھ کر احساس ہوا کہ ہم کتنی بلندی پر تھے۔ تھوڑا آگے چلے تو عدنان بھائی نے بتایا کہ یہاں بائیں طرف ایک اونچی پہاڑی ہے اگر ہم اس پر چڑھ جائیں تو پھر کچھ دور تک اسی اونچی پہاڑی پر ہی چلیں گے۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ ہم نے رضا مندی ظاہر کر دی اور کچھ ہی دیر بعد دیکھا کہ محمد علی اور بلال مقصود پہاڑی کی چوٹی پر پہنچ چکے ہیں اور ہماری طرف دیکھ دیکھ کر مسکرا رہے ہیں۔

\"14732377_1378335202178147_4341500485911445704_n\"

پہاڑ کے اوپر ایک بہت خوب منظر ہمارا منتظر تھا۔ وسیع و عریض میڈو جس میں گھاس ابھی سبز تھی۔ چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں جن کو مقامی زبان میں سنتھا کہتے ہیں۔ ہر طرف بکھری ہوئی تھیں۔ ہر طرف خاموشی تھی یا ہمارے دوستوں کی اطمینان بھری آوازیں۔ یہاں سے ہم دائیں طرف جاہلر جھیل دیکھ رہے تھے اور بائیں طرف اوچھالی جھیل بھی دکھائی دے رہی تھی۔ چونکہ اتنی چڑھائی کے بعد ہمارا سٹیمنا تو ختم ہو چکا تھا۔ جب عدنان بھائی نے بتایا کہ اگر ہم چاہیں تو اوپر اوپر سے سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ یا پھر پہاڑ سے نیچے اتر کر اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ ابھی تک تو ہم مغرب کی طرف سے ایک بڑا چکر کاٹ کر تقریباً اس جگہ کے متوازی پہنچ چکے تھے جہاں ہم نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ فرق اتنا پڑا تھا کہ آغاز کے بعد ہم چار ہزار فٹ بلندی پر پہنچ چکے تھے۔ اب ہم مشرق کی جانب چلنا تھا۔

\"14716279_1378336165511384_3791801064365197350_n\"

ہمیں چلتے ہوئے چار گھنٹے ہو چکے تھے۔ ہم آہستہ آہستہ پہاڑ کے اوپر والے رستے پر چل نکلے۔ محمد علی اور بلال مقصود بہت جلد نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ عدنان بھائی ہماری وجہ سے آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔ نبیل نے بتایا کہ اس کی طبیعت صبح سے ٹھیک نہیں۔ بس پہلے سے وعدہ کرلینے کی وجہ سے اور نیاز کو دعوت دینے کی وجہ سے وہ ہائیکنگ کرنے آ گیا۔ ارشد اعوان بھی ثابت قدم رہے۔ ایک سرکاری ادارے کے بڑےافسر ہونے کے باوجود کافی سادہ طبیعت کے مالک ثابت ہوئے۔ اور بہت زندہ دلی کے ساتھ سفر جاری رکھا۔ احمد ملک حسب سابق خاموشی سے ساتھ چلتے رہے۔ اس کی سب سے اچھی خوبی جو مجھے اچھی لگی وہ یہ تھی کہ جب بھی ہم آرام کے لئے رکتے وہ خاموشی سے مجھے پانی یا جوس کی بوتل مجھے پکڑا دیتا۔ اللہ ایسا ساتھی سب کو دے۔

تھوڑی دیر بعد عدنان بھائی نے بتایا کہ قریبی قصبہ سرکی میں ہمارے ایک دوست اسد ملک ہمارے لئے ریفریشمنٹ لئے ہمارا انتظار کر رہے ہیں ۔ عدنان بھائی کی خدمت میں ٹریکنگ ٹیم نے دست بستہ درخواست کی کہ اگر ملک صاحب کی خدمت میں عرض کریں کہ وہ تھوڑی زحمت کریں اور وادی گوسار میں تشریف لے آئیں تو ان کی بہت مہربانی ہو گی۔ کچھ دیر ہمیں ستانے کے بعد عدنان بھائی نے اسد ملک کو فون کیا اور ٹیم کی فرمائش بارے بتایا۔ ملک صاحب نے حامی بھر لی۔

\"14680602_1378332802178387_4401791429805940275_n\"

پہاڑ کی چوٹی پر چرواہوں نے اپنے بچاو وغیرہ کے لئے پتھروں سے ایک چھوٹا سا کمرہ بنایا ہوا تھا۔ وہاں سے گزرے تو فیصلہ ہوا کہ اب پہاڑ پر مزید چلنے کی بجائے نیچے اترنے کا سوچا جائے۔ وادی گوسار کے کھیت اور سڑک بالکل نیچے دکھائی دے رہے تھے۔ چنانچہ رستہ چھوڑ کر اچانک ہی نیچے اترنا شروع کیا۔ جھاڑیوں سے الجھتے بچتے ہوئے نیچے کو اتنا شروع کیا تو احساس ہوا کہ پہاڑ پر چڑھنا جتنا مشکل ہے اترنا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ آدھے رستے تک پہنچے تو نیچے سفید رنگ کی ایک گاڑی دکھائی دی۔ عدنان بھائی نے بتایا کہ یہ گاڑی اسد ملک کی ہے جو ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ یہ سن کر ہم نے اپنے قدم تیز کئے۔ سورج ڈھل رہا تھا جب ہم ریفریشمنٹ یعنی اسد ملک کے پاس پہنچے۔

\"14708102_1377480285596972_2931270245247482477_n\"

ایک سر سبز گراسی پلاٹ پر انہوں نے ایک بڑی سی چادر بچھا رکھی تھی۔ ہم نے وہاں پہنچتے ہی جوتے اتارے اور ڈھیر ہوتے گئے۔ کئی قسم کے پھل ، بیکری کا سامان اور سب سے بڑھ کر گرما گرم چائے لیکر آئے تھے۔ کچھ ہی دیر میں ملک مظہر بھی پہنچ گئے جس کو دوستوں نے ریسکیو 1122 کا نام دیا تھا۔ دل کو سکون ہوا کہ آج کا سفر تمام ہوا۔ اور ساتھ میں یہ خلش بھی کہ کاش سفر مزید جاری رہتا۔ اسد ملک نے یہ بتا کر حیران کر دیا کہ وہ جوہر آباد سے خاص طور پر ہم سے ملنے کے لئے تشریف لائے تھے اور اب یہیں سے واپس جوہر آباد جائیں گے اور ازراہ مہربانی وہ ہمیں خوشاب تک لے جائیں گے۔ ان کے ساتھ ایک کونسلر دوست بھی تھے جن کا گھر رستے میں تھا اور انہوں نے ہمیں چائے پیئے بغیر جانے کی اجازت نہیں دی۔ ایک دوسرے کے لئے نیک تمناوں کی دعاوں کے ساتھ ہم اگلے ہائیکنگ ٹرپ پر ملاقات کے وعدوں کے ساتھ رخصت ہوئے۔ محمد علی اور بلال مقصود نے ابھی مزید ایک گھنٹہ پیدل چل کر اپنے گھر کفری پہنچنا تھا۔ نیاز اعوان نے اپنے سیل فون پر حساب لگا کر بتایا کہ ہم نے آج چودہ کلو میٹر سفر کیا ہے۔ یہ ایک شاندار ہائیکنگ تھی۔ ہائیکنگ اتنی مشکل ہر گز نہیں اگر بقول تارڑ صاحب آپ تھوڑے سے کھسکے ہوئے نہ ہوں تو۔ ۔ ۔ ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •