حقوقِ نسواں، اسلام اور جدید تفہیم (معتدل بیانیہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس حقیقت سے کوئی ہوشمند انکار نہیں کر سکتا کہ عرب کے جس سماج میں اسلام کا ظہور ہوا وہاں عورت کی حیثیت بھیڑ بکری اور استعمال کی اشیا سے زیادہ نہیں تھی اور عرب ہر سطح پر اور ہر پہلو سے عورت کا استحصال کرنے کے عادی تھے۔ یہ ایک ایسا رویہ اور بری قدر تھی جس کی اسلام نے اصلاح کی اور عورت پر ہونے والے اخلاقی جرائم کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو اخلاقیات کا پابند کیا چنانچہ عورت کو ماں بہن بیٹی اور بیوی کی صورت میں ملنے والی اخلاقی عزت کا حقدار ٹھہرایا بالکل اسی طرح جیسے اسلام سے پہلے عرب غلاموں سے برا سلوک روا رکھنے کو جائز سمجھتے تھے لیکن اسلام نے آ کر انہیں انسانیت کے ایک فرد کے طور پر متعارف کروایا اور ان کے لئے اخلاقی احکامات نازل کیے۔

لیکن سماج کے چلن اور معروضی بنتروں میں بگاڑ سے بالکل ہی انحراف سے پیدا ہو جانے والے خلا سے بچنے کے لئے اسلام نے رائج صورتوں کی اخلاقیات میں تبدیلی پر ہی اکتفا کیا چنانچہ نہ تو غلامی کو معطل کیا اور نہ ہی عورت کو مساوات کا درجہ دیا کیونکہ سماج کی عملی صورتوں کے تحت جن علمی اور فلسفیانہ افکار کی تہہ ہوتی ہے اس کی تبدیلی اور اس میں انسانی فکر کے ارتقا کے بغیر عملی مسائل میں رائج صورتوں کی بالکل کایا پلٹ دینا انتہائی خطرناک اور انسانیت کی تباہی ہے۔ یہ کام کوئی ادنی عقل رکھنے والا انسان بھی نہیں کر سکتا چہ جائیکہ خدا اس کام کا مرتکب ہو۔

عملی مسائل کی تہہ میں بیٹھی فکری بنیادیں ناقابلِ تغیر اور مطلق سچائی نہیں ہوا کرتیں جن میں تبدیلی یا ارتقا کا امکان نہ ہو۔ ان کی تفہیم انسان کے علمی ارتقا پر چھوڑ دی گئی ہے چنانچہ ان میں ارتقا تفہیم میں تبدیلی پیدا کر کے عملی شکلوں اور سماجی چلن کو قدیم بنتروں سے مختلف کرتا ہے۔ مذہب کا وظیفہ ان بنیادوں کو چھیڑ کر انسانی فکر کے فطری ارتقا میں رخنہ اندازی کرنا نہیں ہوتا بلکہ رائج صورتوں کی اخلاقیات سمجھانا ہوتا ہے جو اسلام نے اپنے نزول کے دور میں خوب سمجھا دیں تھیں جن سے اصولی راہنمائی آج بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

مرد و زن کی مساوات کے مقابل جو یہ مذہبی بات کی جاتی ہے کہ اسلام نے عورت کو ماں بیٹی بہن اور بیوی کی صورت میں سب کچھ دے دیا، یہ آرگومنٹ تقابلاً ذکر کرنا انتہائی سطحی سوچ کی نشاندہی ہے کیونکہ معاملہ مبحوث عنھا مرد و زن کی مساوات کا ہے جس کے متعلق انسان کا موجودہ علم سابقہ علم سے مختلف ہے، اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں وہ ان سماجی اقدار کی صورت کو سامنے رکھتے ہوئے دیے ہیں جن کی بنیاد غیر مساواتی تفہیم پر تھی، یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں عورت کی شکل چاہے ماں کی ہو یا بیوی کی اس پر حاکمیت مرد ہی کو حاصل ہے۔ مرد ہی عورت کی ترتیب کا ذمہ دار ہے جس کے لئے اسے ہلکی پھلکی زجر و توبیخ کی بھی اجازت ہے، مرد ہی قیامت میں عورتوں کی تربیت سے متعلق جوابدہ ہے۔

لہذا جنسی مساوات کے بیانیے کے سامنے اسلام کے عورت کو دیے جانے والے حقوق کا راگ الاپنا میں اصولا غلط سمجھتا ہوں۔ اور اسلام کی پیروی کی صورت اس بات میں جانتا ہوں کہ مرد و عورت کی اخلاقیات کا تعین اس تصور کے ساتھ کیا جائے کہ اگر اسلام مرد و زن کی مساوات پر مبنی سماج میں اترتا تو عملی صورتوں کے بگاڑ کی تندرستی کے لئے کن اخلاقیات کا درس دیتا۔

خلاصہ بحث میں ان دو طرفہ انتہا پسندوں کی تردید کرنا چاہوں گا جن میں سے ایک فریق کے نزدیک اسلام نے عورت کو کچھ نہیں دیا اور دوسرے کے نزدیک جو کچھ دے دیا وہ حتمی اٹل اور ناقابلِ اضافہ اور قیامت تک کے لئے کافی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
زید حسن کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *