زنجیریں اور تالے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شیشے کے سامنے کھڑی وہ کچھ سوچ رہی تھی وہ کیا ہے کیوں ہے اور معاشرہ اسے کیسا دیکھنا چاہتا ہے یہ سوالات اس کے دماغ میں گردش کر رہے تھے وہ اپنے کانوں سے جھمکا اتار کر ٹیبل پر رکھتی ہے اس کے گھنگھریالے بالوں کی ایک لٹ اس کے چہرے پر نکل کر گری ہوئی تھی اس کی آنکھ سے آنسو شیشے کی سنگھار میز پر گر پڑتا ہے۔ حسینہ جو اپنے نام کی طرح ہی بے حد حسین تھی ایک متواست گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس نے بی اے کی تعلیم مکمل کی تھی۔

باپ کا سایہ کچھ سال پہلے اس کے سر سے اٹھ گیا تھا۔ وہ اور اس کی بیمار ماں چھوٹے سے گھر میں رہتے ہیں جو ان کا اپنا ہی ہے ماں سلائی کڑھائی کرکے گھر چلایا کرتی تھی مگر پندرہ دن سے وہ بیمار پڑی تھی۔ مہنگائی کے عالم میں اس کی سلائی کڑھائی سے بڑی ہی مشکل سے گھر چل رہا تھا باپ کے مرنے کے بعد تایا چچا اور پھوپھیوں نے ملنا جلنا خاصا کم کردیا تھا۔ اب تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسے یقینا کوئی نوکری کرنا تھی کہ وہ گھر بھی چلاسکے اور ماں کا علاج بھی کراسکے۔

ماں کی بیماری سے پہلے ہی اس نے کئی بار کئی جگہ نوکری کے لئے اپلائی کیا تھا مگر اسے اس کے عبایہ کی وجہ سے انکار ہی ملا تھا۔ مگر اب کوئی چارہ نہیں تھا۔ دو دن سے گھر میں کچھ نہیں پکا تھا۔ ساتھ والوں سے روٹی مانگ کر اس نے ماں کو کھلائی تھی اور اب تو روٹیوں والے نے بھی ادھار روٹیاں دینے سے منع کردیا۔ چچا پھوپھی سے بات کی تھی مگر انہوں نے اپنے 100 اخراجات نکال کر حسینہ کے سامنے رکھ دیے اور پڑھے لکھے ہونے کی بنا پر اسے نوکری کا مشورہ دیا تھا۔

بیٹا آخر پڑھائی کا کیا فائدہ ہے لڑکیوں نے تو چولہا چوکا ہی کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اسی لیے تعلیم دیتے ہیں کہ وقت آنے پر وہ کما سکیں اس کی پھوپھی نے اسے کہا تھا۔

اسے چار دن پہلے ہی ریسیپشنسٹ کی نوکری کے لئے بلایا تھا انہوں نے بھی عبایہ اتارنے کی شرط رکھی تھی۔

اگر آپ عبایہ اتار کر ہلکا پھلکا میک اپ اور جیولری پہنیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حیا عورت کی آنکھوں میں ہوتی ہے اور ہم تو آپکو ماڈرن کپرے پہننے کو نہیں کہہ رہے۔ اب آپ عبایہ پہن کر تو ریسیپشن پر نہیں بیٹھ سکتی نا۔

پر سر!

اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اس کی بات کاٹتے ہوئے منیجر نے کہا اگر آپ کل سے جوائن کرسکتی ہیں تو ٹھیک ہے نہیں تو آپ کو نوکریاں بہت اور ہمیں نوکر بہت۔

حسینہ اپنا بیگ اٹھاتی ہے اور گھر کے لئے نکل آتی ہے وہ ماں کے پاس بیٹھی یہی سوچ رہی ہوتی ہے۔

کیا ہوا بیٹا ماں اس کے چہرے پر عجیب سی الجھن پڑھ لیتی ہے جب سے آئی ہو گم سم ہو نوکری نہیں ملی کیا؟

ماں یہی تو پریشانی ہے مل گئی ہے

تو پھر کیا الجھن ہے بیٹا؟

امی وہی بات وہ کہتے ہیں عبایہ ترک کرنا ہوگا۔

بیٹا دنیا یہی ہے۔ انسان کو یہاں رہنے کے لئے معاشرے کے رنگ میں رنگنا پڑتا ہے اور تب تو لازمی جب آپ غریب ہوں۔

کیا مطلب امی؟ میں عبایہ ترک کردوں؟

ہمممممم۔ ماں مدھم آواز میں کہتی ہے۔

یہ سب سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ جاتی ہے۔ صبح کے سات بجے حسینہ نے الماری سے ایک جوڑا نکالا اور کرسی پر پڑا عبایہ اٹھایا کچھ سوچا اور پھر الماری میں رکھ دیا شاید وہ فیصلہ کرچکی تھی۔ اس کا یہ جوڑا خاصا اچھا تھا۔ اس کی ماں نے اس کے لئے سیا تھا۔ وہ اسے خاص موقع پر ہی پہنتی تھی کیوں کہ یہ ان چند کپڑوں میں سے ایک تھا جو کہیں آنے جانے یا خاص مواقع پر پہننے کے لئے تھے۔ وہ کچھ دیر میں تیار ہوکر دفتر کے لئے نکل جاتی ہے۔

بہت اچھے تو آپ نے نوکری کا ارادہ کرلیا۔ مگر آپ کو تھوڑا اور محنت کرنا ہوگی آپ کو فاطمہ سکھا دیگی۔ امید ہے آپ کچھ عرصہ تک عادی ہوجائیں گی منیجر اسے کہتا ہے۔

حسینہ فاطمہ کے ساتھ ریسیپشن پر بیٹھ جاتی ہے۔ تمہارا نام کیا ہے؟ فاطمہ اس پر نظر جمائے ہوئے پوچھتی ہے

حسینہ۔ وہ کافی ہچکچاہٹ سے جواب دیتی ہے۔

ماشا اللہ! بہت خوبصورت ہیں آپ۔

شکریہ۔ آپ بھی۔

فاطمہ مسکراتی ہے۔

میری ایک ماہ بعد شادی ہے۔ میں ایک ماہ کے لئے تمہارے ساتھ ہوں سب کام سمجھا کر جاوں گی۔

جی ٹھیک ہے۔

تمہیں اتنا سادہ نہیں بیٹھنا ہوگا تھوڑا سا اپنے اوپر کام کیا کرو فاطمہ اپنے بیگ میں سے لپ سٹک نکال کر دیتی ہے۔ یہ لگا لو، مگر حسینہ عجیب کشمکش اور عجیب الجھن کا شکار ہے وہ لپ سٹک بہت ہی کم لگاتی تھی۔

اور کوشش کرو کہ یہ دوپٹہ بھی سر سے اتار کر گلے میں لے لو۔ اور ہلکی سی لپ سٹک بھی لگا لیا کرو کل ہمارے آفس میں فنکشن ہے تھوڑا تیار ہوکر آنا اور جیولری پہن لینا تھوڑی سی جی۔ ٹھیک ہے؟

جی ٹھیک ہے!

حسینہ اگلے دن تھوڑا سا تیار ہوکر جاتی ہے گلابی رنگ کے جوڑے میں ہوتی ہے ہلکی گلابی رنگ کی لپ سٹک اور کانوں میں جھمکے اس کے بال لمبے تھے اس نے بالوں کی ہلکی سی چٹیا کر رکھی تھی اور اس کے بال چٹیا میں سے باہر اس کے چہرے پر نکلے ہوئے تھے اس ہلکے سے بناؤ سنگھار کی وجہ سے اس پر سے نظر نہیں ہٹ رہی تھی۔ لیکن وہ ایک ڈیڑھ گھنٹے بعد ہی گھر واپس آگئی تھی۔ اس کے گھر آنے سے پہلے ہی اس کا چچا اور ایک پھوپھی اس کے گھر براجمان تھے۔ اس کے آتے ہی وہ اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہیں۔

ہیں کہاں سے آرہی ہو؟ (چچا کے لہجے میں عجیب سختی تھی)

چچا جان دفتر سے۔

بھائی اتنا سج دھج کے دفتر کون جاتا ہے اور تمہارا عبایہ کہاں ہے محلے کے لوگ باتے کرتے ہیں۔ تم جانتی ہو؟

اس لیے میں آج آیا ہوں ابھی دو دن نہیں ہوئے دفتر جاتے ہوئے تمہارے چلن بدل گئے۔ بی بی ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا ہمارے معاشرے میں پردے کے بغیر نکلنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

پر؟

اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کی بات کاٹ دی جاتی ہے۔

اس بیغیرتی سے اچھا ہے بندہ بھوکا ہی مر جائے۔

چچا کے یہ الفاظ اس کے کانوں میں گونج رہے تھے وہ اپنے کمرے میں شیشے کے سامنے کھڑی یہی سوچ رہی تھی کہ معاشرہ آخر ایک عورت سے کیا چاہتا ہے؟ یہی معاشرہ کبھی عورت کے سر پر چادر دیتا ہے اور کبھی خود ہی چھین لیتا ہے۔ معاشرہ کس طرح عورت کو جینے کی اجازت دیتا ہے؟ یہ سوالات شاید ہر عورت کے دل میں ہوں۔ ان سوالات کے جوابات معاشرہ خود بھی دینے سے قاصر ہے کہ وہ آخر چاہتا کیا ہے؟ عورت کو کس طرح جینے کی اجازت دیتا ہے؟

اجازت دیتا بھی ہے یا نہیں؟ معاشرہ خود کوئی فیصلہ نہیں کر پایا۔ معاشرے نے عورت کو زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے اور ہر زنجیر پر ایک تالا ہے جس کی چابی معاشرے کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بوقتِ ضرورت اپنے مفاد کے لئے وہ تالے کھولتا ہے۔ کبھی فیمینسم کے نام پر اور کبھی ماڈرن ازم کے نام پر اور کبھی عورت کو خود مختار کرنے کے نام پر اور پھر خود ان تالوں کو بند کردیتا ہے۔ کبھی غیرت کے نام پر اور کبھی من گھڑت اور خود ساختہ مذہبی روایات کے نام پر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “زنجیریں اور تالے

Leave a Reply