ابلیس کی آخری رات
اس نے دوپہر 4 بجے کا الارم لگایا اور سو گیا یہ اس کی اس دنیا میں آخری نیند تھی پھر اسے 30 دن کے لیے جانا تھا۔ 4 بجے الارم بجا آج جبریل کے آنے کے کچھ امکانات تھے اور اس نے ان کے آنے سے پہلے بہت سے کام کرنے تھے اسے ڈر تھا کہ کہیں انہیں انتظار نہ کرنا پڑے لہذا وہ فٹا فٹ اٹھا ایک سفید اجلا سوٹ استری کیا، شیو بنائی، نہایا اور خوشبو لگا
Read more

