قلم کی نوک


تاریخ شاہد ہے دنیا میں جب بھی ستم ظرفی بڑھی شمشیر باز نے تلوار اور اہل قلم نے اپنا قلم اٹھایا۔

قلم تلوار سے زیادہ طاقت ور ہے یہ کہاوت بچپن دور سے سننے اور پڑھنے کو ملی، قلم اور تلوار کا موازنہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، محض اِن کے موازنے کو لے لیا جائے تو تلوار اور قلم میں کوئی مماثلت نہیں۔ سوال کیا جائے کہ جبر کے اثرات کارآمد ہیں یا فکر و تحریر کے تو جواب ناقابل فہم نہیں۔

قلم محبت اور امن کے نمائیندگی کرتا، لیکن اس کا غلط استعمال معاشرے میں بگاڑ پیدا کرسکتا ہے تاریخ میں کئی بار جنگ کی آگ کو قلم سے ہوا دی گئی جس کی زد میں لاکھوں انسانی جانیں آئیں، انسانیت کو ناقابل طلافی نقصان پہنچا، اہل قلم نے ہر دور میں اپنے ہاتھ میں قلم کو ہتھیار کے طور پر لیا، قلم بھی کسی جنگی ہتھیار سے کم نہیں، اس کا استعمال بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

کہتے ہیں کسی قوم کی حالت زار کا جائزہ اُس قوم کے ادیبوں، صحافیوں، اور اہل قلم کے نظریات اور ان کے کردار سے لگایا جاسکتا ہے۔ جس ملک میں ادیب، صحافی اور اہل قلم سچ گوئی کے ساتھ اپنا فرائض دیتے ہوں اُن کے کردار سے پاک روی کی خوشبو آتی ہو اُس معاشرے میں غریب کے حقوق پامال ہونے سے بچ جاتے، مظلوم انصاف کی بھیک مانگتے نظر نہ آتے، عورتیں چار دیواری سے نکل کر سڑکوں میں اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھاتی نظر نہیں آتیں قلم کے درست استعمال سے بہت مثبت نتائج دیکھے جا سکتے ہیں۔

وقت جب آڑان بھرتا ہے تو چیزیں یکسر بدل کر رکھ دیتا۔ ایک دور ایسا بھی گزرا جس میں چند لوگ پڑھنا اور لکھنا جانتے تھے ان کی بڑی عزت افزائی کی جاتی تھی۔ اُن کی مدد سے خطوں لکھوائے اور پڑھائے جاتے تھے، موجودہ وقت اُس دور سے قدرے مختلف ہے ہر شخص لکھنا پڑھنا جانتا ہے، اور اگر موجودہ وقت کا اُس دور سے موازنہ کیا جائے تو مسائل اُس دور سے زیادہ نظر آئیں گے، وہ کیا چیز تھی جس نے نا تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی باکردار بنا رکھا تھا، ہمارے اسلاف نے محبت، امن اور سخاوت کی ایسی مثالیں پیدا کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی وہ مثالیں موجودہ دور میں دیکھنے کو نہیں ملتی، اہل قلم لوگوں کی ہر دور میں عزت و توقیر کی جاتی رہی۔

عصر حاضر میں ہم بہت ساری انفرادی اور اجتماعی برائیوں میں گھیرے ہوئے ہیں قلم کے استعمال سے ہم ان کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کر سکتے۔

ہر شخص کی اپنی ذمہ داریاں ہیں اگر اُن میں کسی قسم کی کوتاہی بھرتی جائے تو ایک منظم معاشرہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ بھائی کو اپنی، بہن کو اپنی، ماں باپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے ہمیں اپنے کردار کا پتا نہیں تیز نظریں مغربی دنیا میں لگا رکھی ہیں۔

قلم کی نوک کا استعمال کرنے والے ہر دور میں طاقتور ثابت ہوئے۔ بڑے ظالم و جابر حکمرانوں نے اہل قلم کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔ موجودہ وقت میں قلم کی طاقت کا استعمال کرنا ہو گا جس قدر ہو سکے ہمیں اپنا کردار ادا کر کے اپنا کھویا ہونا مقام پانے کی کوشش کرنی ہو گی۔ آج سے اس بات کا عہد کرنا ہوگا کہ برائی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ روز محشر بارگاہ الہی میں سرخرو ہو سکیں۔

Facebook Comments HS