کابلوف کی کابل واپسی کی خواہش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افغانستان میں لڑائی ختم ہوگئی، لیکن جنگ ابھی جاری رہے گی۔ طالبان ایک تجرباتی نرسری کی پنیری تھی، جن کی کاشت اور نگہداشت مقامی موسمی حالات کی مناسبت سے محدود مقاصد کی خاطر کی گئی تھی۔ پھل دینے کے بعد جن کو جدید ہائی بریڈ داعش سے ری پلیس کرنا تھا، لیکن کاشتکار اور زمیندار کے درمیان فصل کی کٹائی اور پیداوار کی بٹائی پر پھڈا پیدا ہونے کی وجہ سے یہ ابھی تک بہت سارے جھاڑ جھنکار اور کانٹوں سمیت زمین میں موجود ہیں۔

اس فرینکنسٹائن مونسٹر (جنرل مشرف کے الفاظ) نے اپنے تخلیق کاروں کو بھی نہیں بخشا۔ داعش کی رونمائی زیادہ عالمی مقاصد کے حصول کے لئے بعد میں ہونی تھی۔ (اگرچہ مقاصد دونوں کے یکساں تھے یعنی پہلے سے موجود سیاسی معاشرتی اور مذہبی لیڈرشپ کو قتل کرکے بے اثر کرنا اور سیاسی اور معاشرتی اداروں کو تباہ کرکے افراتفری پھیلانا، تاکہ بعد میں ریگولر افواج کم نقصان اٹھا کر آسانی سے قبضہ کرسکے۔ ) اس لیے ان کے تخلیق کاروں کو مجبوراً خود افغانستان کی دلدل میں اترنا پڑا۔ لیکن اٹھارہ سال کی خونریز محنت اور کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے باوجود، خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں کرسکے۔

طالبان میں موجود کمی بیشیوں کو نظر میں رکھنے اور مستقبل کے لئے بہترین ورژن تیار کرنے کی خاطر پروٹوٹائپ میں انقلابی قطع برید کرکے داعش کو تیار کیا گیا۔ جن کو شاک ٹروپس کے طور پر کئی محاذوں پر کامیابی سے تباہی کے دیوتا کے طور پر استعمال کیا گیا۔ جو جہاں گئی وہاں کے سیاسی اور معاشرتی تاروپود کو بکھیر کر رکھ دیا۔

چونکہ طالبان مقامی موسم اور حالات کے ساتھ عادی ہونے اور کاشتکاروں کی من پسند فصل ہونے کی بناء پر ابھی تک جڑ سے نہیں نکالے جاسکے۔ اس لیے افغان آرمی کو انہیں پیوند زمین کرنے کے لئے سخت محنت اور طویل جدوجہد کی ضرورت ہوگی۔ دوسری طرف مقامی حالات میں ہونے والی تیز ترین سیاسی اور معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے، امریکہ مزید انتظار نہیں کرسکتا تھا، کیونکہ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ مطلوبہ مقاصد کے حصول کی خاطر ٹارگٹ (طالبان) کو مزید نرم بنانے کی کے لئے طریقہ کار کی تبدیلی لازمی ہے۔ اس لیے ایک غیر تسلیم شدہ تنظیم کے ساتھ امریکہ کو ایک ایسا معاہدہ کرنا پڑا جس کے وجود کو تو امریکہ تسلیم نہیں کرتا لیکن اس کے ساتھ کیے گئے اپنے معاہدے کو تسلیم کرتا ہے۔ ہے نا مذاق؟

اس عجیب و غریب معاہدے سے سب سے زیادہ متاثرہ فریق افغان حکومت اور عوام ہیں۔ جن کا معاہدے سے تعلق ہے نہ کوئی ذمہ داری۔ اس لیے معاہدے کے ایک شق کے تحت طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار پر، طالبان نے افغان حکومت کے خلاف جاری اپنی جنگ کو دوام بخشا۔ امریکیوں نے اس کے بدلے میں طالبان پر بمباری کی۔ لیکن ساتھ ساتھ امریکی صدر نے طالبان کے رہبر سے براہ راست پینتیس منٹ ٹیلیفونک گفتگو کر کے سمجھایا، کہ دنیا بھر کے سربراہان حکومت، ٹرمپ سے دوچار منٹ کی بات کرنے کے لئے پاپڑ بیلتے ہیں۔ لیکن میں آپ کو خود فون کرتا ہوں۔ یہ آپ کی عزت افزائی، اہمیت اور میری ضرورت ہے۔ جبکہ دوسری طرف بمباری کی بھی کوئی قلت نہیں۔ مرضی آپ کی ہے۔

اس ٹیلیفونک گفتگو کے بعد ٹرمپ نے اپنے ترجیحات اور ضروریات کو نئے سرے سے ترتیب دیا ہے۔ اس لیے اخباری نمائندوں کو بیان دیتے ہوئے اس نے بیان جاری کیا کہ، امریکی افواج کی افغانستان سے انخلاء کے بعد افغان حکومت کا طالبان کے سامنے گرنا ممکن ہے۔ آخر کب تک امریکہ افغان حکومت کا ہاتھ پکڑ کر چلائے گا؟

امریکہ اور طالبان کے درمیان دستخط شدہ معاہدے کے ایک شق کے تحت طالبان داعش یا کسی بھی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کو، اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اور ایسے عناصر کی موجودگی کی صورت میں طالبان ان کے خلاف لڑنے کے پابند ہوں گے۔ اگر اس شق کو تھوڑا سا کھول کر دیکھا جائے کہ اگر طالبان داعش سمیت غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف حسب معاہدہ لڑینگے تو کیا امریکہ طالبان کو لاجسٹک اور انٹلیجنس مدد دیگا؟ جواب تو اثبات میں ہونا چاہیے۔ یعنی جنگ جاری رہیگی۔ بس فریقین تبدیل ہوجائیں گے۔ جن طالبان کو امریکی افواج جمع کنٹریکٹرز جمع افغان آرمی ختم نہیں کر سکی، ان کے خلاف داعش کو میدان میں اتارنا ہے۔ یہ لڑائی کب تک جاری رہیگی؟ ظا ہر ہے۔ جب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاتے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ نے گذشتہ ہفتے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ پاکستان نئے مہاجرین کو تنہا نہیں سنبھال سکتا۔ کہاں کے مہاجرین؟ صلح کے بعد تو مہاجرین اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ تو کیا جنگ جاری رہیگی؟ اور جنگ جاری ہو تو مہاجرین تو پیدا ہوں گے۔ کیونکہ جنگ مہاجرین کی ماں ہے۔

روسی فیڈرل نیوز ایجنسی کی خبر کے مطابق روسی حکومت کے نمائندہ خصوصی ضمیر کابلوف نے ہفتہ وار شائع ہونے والے اخبار این وی او کو انٹرویو دیتے ہوئے عندیہ ظاہر کیا کہ اگر افغان حکومت مدد مانگے، تو روسی فوجوں کو اس کی مدد کے لئے افغانستان بھیجا جاسکتا ہے۔

روس شام میں بھی داعش کے ٹھکانوں پر بمباریاں کر کے امریکہ کی پراکسی پیشقدمیاں روکتا رہا ہے۔ افغانستان میں داعش کی موجودگی، روسی سرحد کو خطرات سے دوچار کرسکتا ہے۔ اس صورتحال میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک یعنی ایران اور پاکستان کے علاوہ روس سب سے زیادہ مخدوش حالات کا سامنا کرے گا۔ اس لیے روس کی خواہش ہوگی کہ وہ داعش کے عفریت کا مقابلہ اپنے سرحد کے اندر کرنے کی بجائے افغانستان کے اندر کرے۔

افغان جنگوں میں سب سے زیادہ متاثرہ فریق پختون قوم ہے۔ جن کا جنگ کے دوران ہر کسی نے ہر سطح پر، بدترین استحصال کیا ہے۔ اس لیے پختون سیاسی رہنماووں نے اپنے اندرونی اختلافات کے باوجود، دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، مستقبل میں ظہور پذیر ہونے والے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے سرجوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پہلے انضمام شدہ نئے قبائلی اضلاع کا جرگہ بلایا گیا۔ اور اب پوری قوم کا جرگہ منعقد کیا جا رہا ہے۔

تاکہ مخدوش مستقبل کے لئے یکجہتی پر مبنی کوئی لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔ پی ٹی ایم کے سرگرم کارکنوں کی پکڑ دھکڑ سے بات منظور پشتین، علی وزیر اور محسن داوڑ کی گرفتاری تک اسی صورت حال کی وجہ سے پہنچی ہے۔ جس سے با آسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مقتدر ادارے موجودہ حالات کے بارے میں کتنے پریشان اور سنجیدہ ہیں۔

چینی ڈریگن، سی پیک کی شکل میں درہ خنجر آب سے خلیج فارس تک بڑھتا ہوا آرہا ہے۔ جہاں وہ مستقبل میں مغربی اور امریکی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ ایران کے قریب پہنچ کر اس کی تنہائی کو ختم کرسکتا ہے۔ پاکستان سے لمبے عرصے تک بلا روک ٹوک گزرنے کے لئے چین کو ایک پرآمن اور روشن خیال پاکستان کی شدید ضرورت ہے۔ (برما کے روہینگا مسلمانوں کی دربدری اور یوغر مسلمانوں کا ذہنی ”علاج“ انہی چینی روڈوں کو پرامن رکھنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ ) لیکن داعش اور طالبان کی ٹکراؤ کی صورت میں پاکستان میں چین کی ترقی، روشن خیالی اور امن کی خواہش، ایک پریشان خواب بن سکتا ہے۔ کیونکہ طالبان کی طرح داعش کے سپاہی بھی یہی سے بھرتی ہوں گے یا ہو چکے ہوں گے۔

قدیم مذہبی اور مسلکی تنگ نظری پر مبنی جنونیت اور عدم برداشت نے پاکستانی معاشرے اور ریاست کو پہلے بھی بدترین چرکے لگائے ہیں۔ اور یہی خدشہ مستقبل میں بھی ممکن ہے۔ کیونکہ طالبان اور داعش کو لڑا کر جنگ جاری رکھی جائے گی۔ کیونکہ جنگ جاری رہنے سے اسلحہ بیچنے والوں، کمیشن کھانے والوں، مقامی وسائل لوٹنے والوں اور ان کے ٹھیکیداروں کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں۔ اس لیے جنگ جاری رہیگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *