پیٹ، جنس کی بھوک اور انسانیت کا معیار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے یقین ہے کہ یہ تحریر پڑھنے کے بعد یہ بھی کہا جائے گا کہ ”ہم سب“ کی صحبت اختیار کرنے والے ایسا ہی مضمون لکھ سکتے ہیں۔ سید مجاہد علی، وجاہت مسعود کی تحریریں اگر غاصب کے خلاف اپنے حقوق کے لئے للکار بننے کی ترغیب دیتی ہیں تو مغربی معاشرے میں رہنے والے ڈاکٹر خالدسہیل کی تحریریں انسان کو وہ باتیں سوچنے اورکرنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ جواس معاشرے میں انسان سب کے سامنے نہیں کر سکتا۔

انسان اچھا بھلا جنت کے مزے میں تھا، نامعلوم دوسرے جانداروں کو اپنے جوڑے کے ساتھ دیکھتے ہوئے اسے کیا سوجھی کہ اس نے دوسرے جانداروں کی طرح اپنے لئے بھی ایک ساتھی کی فرمائش کر دی۔ یعنی انسان کے لئے اللہ نے کچھ اور ہی سوچا تھا لیکن انسان کی فرمائش پوری کر دی گئی۔ انسان جنت بدر ہو کر زمین پہ اتارا گیا۔ اسے دو قسم کی بھوک سے نوازا گیا۔ ایک پیٹ کی بھوک، دوسری جنسی بھوک۔ پھر جب انسان نے سیکھنے، تعلیم حاصل کرنے میں پیش رفت کی تو انسان نے اپنے لئے ذہن کی بھوک بھی تلاش کر لی۔

سکول کے زمانے میں ایک انگریزی مضمون میں ایک پرندے کے بارے میں پڑھا تھا کہ وہ اپنی مادہ کو رجھانے کے لئے اپنے پر پھیلا کر ایسی حرکات کرتا ہے جسے رقص سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ انسان کی زندگی کے چار حصے ہوتے ہیں۔ پہلا بچپن، دوسرالڑکپن، تیسرا جوانی اور چوتھا بڑھاپا۔ عمر کے اس ہر حصے میں ترجیحات اور امنگیں قطعی طور پر مختلف ہوتی ہیں۔ بچپن میں جو سب سے زیادہ پسند آتا ہے، لڑکپن میں اس کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ جوانی میں جو ترجیحات جنم لیتی ہیں، لڑکپن کی حسرتیں اس کے سامنے بچگانہ محسوس ہوتی ہیں۔ پھر جب بڑھاپا آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ پانے، حاصل کرنے کی خواہش سمیت تمام ترجیحات بے معنی تھیں۔

انسان تمام عمر پیٹ اور جنس کی بھوک مٹانے کے بار بار کے عمل میں کولہو کا بیل بن کر رہ جاتا ہے۔ دور جدید میں پیٹ اور جنس کی بھوک کے کئی معیار بن چکے ہیں۔ انسان، جسے پہلے صرف پیٹ اور جنسی بھوک کی فکر ہوتی تھی، اب وہ بہتر سے بہتر معیار حاصل کرنے کی تگ و دو میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ بہتر سے بہتر معیار حاصل کرنے کو چاہے ہم بہتر سے بہتر معیار زندگی کہیں لیکن بنیادی طور پر پیٹ اور جنس کی بھوک ہی مرکز خیال کے طور پر اہمیت رکھتی ہے۔

جسے جنسی آلہ کہتے ہیں، اکثر اوقات ادھیڑ عمر میں جا کر ہی معلوم ہو تا ہے کہ جنسی آلہ ”کو آلہ ذلالت“ قرار دینا زیادہ مناسب بات ہوگی۔ بھوک پیٹ کی ہو، جنس کی ہو یا معیار زندگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی، یہ ساری ترجیحات اور کوششیں آخر کار ایسا آلہ ذلالت ہی ثابت ہوتی ہیں جو آلہ ذلالت انسان کو عمر بھر انسان نہیں بننے دیتا، اسے انسانیت کے درجے سے گرائے رکھتا ہے۔

جس انسان کی ترجیحات میں جسمانی بھوک اول رہتی ہے، وہ اپنے انسان ہونے کی حیثیت، فوائد سے محروم رہتا ہے۔ جو ان میں تناسب رکھنے کی کوشش کرتا ہے، وہ بھی تناسب قائم رکھنے کی فکر میں جسمانی بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو ہی جاتا ہے۔ تاہم جس کا متمع نظر اس سے ہٹ کر ہو، جو جسم اور سوچ کی بھوک کی ”بلیک میلنگ“ کا راز جان چکا ہو، وہ ان وقتی لیکن بار بار پیش آنے والی ان ضروریات میں پھنس کر نہیں رہ جاتا، ان امور کو اپنا متمع نظر قرار نہیں دیتا۔

انسان تو انسان ہے، کیا مرد، کیا عورت، کیا مخنث۔ لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ دور جدید میں انسان کو جنس اور پیشوں کے علاوہ بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپے میں یوں تقسیم کیا جا رہا ہے کہ جہاں ان چاروں کو ایک دوسرے کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ سمجھنا چاہیے کہ انسانوں کو قبیلے، نسل، علاقے، فرقے کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بعد اب انسان کو مرد، عورت، مخنث کے علاوہ بچوں، جوانوں، ادھیڑ عمروں، بوڑھوں اور پیشوں میں تقسیم کرتے ہوئے انسانوں کے مشترکہ مفادات پر مبنی مقصد اعلی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *