بلاول بھٹو صاحب کی تقریر: آرٹیکل 62، 63 کا مسئلہ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم بلاول بھٹو صاحب یا ان کی جماعت کے بارے میں کچھ بھی رائے رکھیں، خواہ ان کے نظریات سے ا تفاق کریں یا اختلاف کریں، 10 مارچ کو لاہور بار سے ان کے خطاب میں کئی حصے ایسے تھے جو کہ کم از کم غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ ہمارے سیاسی راہنماؤں کو اپنی تقاریر میں محض جذبات مشتعل کرنے یا ایک دوسرے پر حملے کرنے کی بجائے سنجیدگی سے ملکی مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیے۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان سیاسی استحکام کی نعمت سے محروم رہا ہے۔

لیکن اس کا حل کیا ہے؟ جس طرح میاں نواز شریف کو ”صادق اور امین“ نہ ہونے کی پاداش میں برطرف کیا گیا اس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔ بلاول بھٹو صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ میری پارٹی آئین میں آرٹیکل 62 اور 63 کی شقوں کے خلاف ہے۔ ان شقوں میں دیگر امور کے علاوہ یہ بھی لکھا ہے کہ ممبر اسمبلی کے لئے ”صادق اور امین“ ہونا ضروری ہے۔ بلاول صاحب نے کہا کہ اس مخالفت کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے نزدیک ممبر اسمبلی کو ”صادق اور امین“ نہیں ہونا چاہیے۔

ہر ممبر اور صادق اور امین ہونا چاہیے لیکن یہ اصطلاح غیر واضح اور مبہم ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی تشریح فیصلہ کرنے والے کی صوابدید پر منحصر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف فاضل ججوں نے اس کی مختلف طریق پر تشریح کی ہے۔ اور متضاد فیصلے دیے ہیں۔ اس سے قانون کے اطلاق میں بے یقینی کی صورت حال پیدا ہوتی ہے اور جب قانون کے اطلاق میں بے یقینی کی صورت حال پیدا ہو تو اس سے قانون کمزور ہو جاتا ہے۔

مجھے ذاتی طور پر بلاول صاحب کی اس بات سے اتفاق ہے کہ آئین میں ممبر پارلیمنٹ یا وزیر اعظم یا وزیر کے لئے اس قسم کی مبہم اور غیر واضح شرائط موجود ہونے سے اب تک کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان ہی ہوا ہے۔ جب کبھی بھی کسی منتخب حکومت کو انتخابات کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے اقتدار سے محروم کرنے کے لئے سازش کی گئی، اس قسم کی اصطلاحات کی من پسند تشریح کا سہارا لے کر کام چلایا گیا۔ میرا نہیں خیال کہ پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک میں ممبر پارلیمنٹ ہونے کے لئے اس قسم کی اتنی شرائط موجود ہیں۔

لیکن ہم سب یہ جانتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں ہمیں دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ پارسا قیادت نہیں نصیب ہوئی بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تو پھر آئین کی ان دو شقوں میں درج لمبی چوڑی شرائط کی گٹھری کندھوں پر لے کر چلنے کا کیا فائدہ۔ یہاں صرف ”صادق اور امین“ ہونے کا سوال نہیں۔ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 میں کئی ایسی مبہم باتیں درج ہیں جنہیں اس وقت استعمال نہیں کیا جا رہا لیکن کسی وقت بھی کوئی منصف ان کی ”من پسند تشریح“ کا سہارا لے کر کسی بھی منتخب نمائندے کی رکنیت کو منسوخ کر سکتا ہے۔

مثال کے طور پر آئین کی شق 62 کے مطابق کوئی ایسا شخص ممبر پارلیمنٹ نہیں ہو سکتا جو کہ اچھے کردار کا حامل نہ ہو۔ اب ”اچھے کردار“ کی کیا تعریف ہے اور کون سا ایسا بزرجمہر ہے جو کہ یہ فیصلہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے؟ ایک شخص ایک بات کو اچھے کردار کی علامت سمجھتا ہے تود وسرا شخص اسے عیب گردانتا ہے۔ پھر اسی شق میں لکھا ہے کہ جو شخص ”پارسا“ نہ ہو وہ پارلیمنٹ کا رکن نہیں بن سکتا۔ اب ”اس لفظ“ پارسا ”کی تعریف کون کرے گا اور جس پر الزام لگے گا کہ وہ پارسا نہیں ہے وہ اپنی پارسائی ثابت کرنے کے لئے کیا پاپڑ بیلے گا؟

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ان شرائط کی موجودگی میں ہمیں کتنے ”پارسا“ ممبرا ن پارلیمنٹ، وزراء اور وزراء اعظم مہیا ہو گئے ہیں۔ اسی طرح یہ شرط کہ جو مسلمان اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم نہ رکھتا ہو یا جو غیر مسلم اچھی شہرت کا حامل نہ ہو پارلیمنٹ کا ممبر نہیں بن سکتا بہت سی من پسند تشریحات کا راستہ کھول سکتی ہے۔

صرف آرٹیکل 62 اور 63 کا سوال نہیں آئین کے اور بھی حصے ہیں جو بعض صورتوں میں بے معنی نظر آتے ہیں۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ ممبر پارلیمنٹ، سپیکر قومی اسمبلی یا سینٹ کے چیئر مین کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں۔ بہت سے ہندو اور مسیحی احباب ہمارے معزز ممبران پارلیمنٹ رہے ہیں اور پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی ہمارے لئے فخر اور عزت کا باعث ہے۔ لیکن آئین میں ان عہدوں پر فائز ہونے کے لئے جو حلف نامہ درج ہے اس میں لکھا ہے ”میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہوں گا۔

” کم از کم میری ناقص عقل اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ جو خود مسلمان ہی نہیں بلکہ مسیحی یا ہندو ہے، وہ اسلامی نظریہ کے لئے کیا کوششیں کر سکتا ہے؟ اگر کوئی مغربی ملک اپنے ملک کے مسلمان ممبران اسمبلی کو اس بات پر مجبور کرے کہ وہ یہ حلف اُٹھائیں کہ مسیحی نظریات کے لئے کوشاں رہیں گے توکیا مسلمان ممبران اس پر اعتراض کریں گے کہ نہیں؟

اب ایک اور پہلو سے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔ سینٹ کا چیئر مین بننے کے لئے مذہب کی کوئی شرط نہیں۔ کوئی ہندو یا مسیحی یا کسی اور مذہب سے وابستہ شخص بھی سینٹ کا چیئر مین بن سکتا ہے۔ اگر صدر مملکت کا انتقال ہوجائے یا وہ ملک سے باہر جائے تو سینٹ کا چیئر مین قائم مقام صدر بنتا ہے۔ اگر کوئی غیر مسلم سینٹ کا چیئر مین بن جائے اور اس کی قسمت کے صدر صاحب اس دنیا سے کوچ کر جائیں تو اسے قائم مقام صدر کا حلف اُٹھانا پڑے گا۔

کیونکہ یہ اس کی آئینی ذمہ داری ہے اور جب کوئی سینٹ کے چیئر مین کا حلف اُٹھاتا ہے تو اس حلف نامے میں یہ الفاظ شامل ہیں کہ جب مجھے پاکستان کے صدر کی حیثیت سے کام کرنے کا کہا جائے گا تو میں اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کروں گا۔ ذرا تصور کریں کہ یہ صاحب جو غیر مسلم ہیں جب حلف اٹھانے کے لئے قوم کے سامنے آئیں گے تو اس حلف نامے کے شروع میں ہی یہ الفاظ ہیں کہ ”میں صدق دل سے یہ حلف اُٹھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں۔ “ تو وہ یہ الفاظ کیسے ادا کریں گے وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔ ان مثالوں کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کی شقیں صرف ابہام ہی نہیں تضادات کا بھی شکار ہیں۔

اصل مسئلہ ان شقوں کا نہیں بلکہ اس ذہنیت کا ہے جو ان کے پیچھے کا فرما ہوتی ہے اور خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ جب 1953 میں پنجاب میں ہونے والے فسادات پر تحقیقاتی عدالت کی کارروائی ہو رہی تھی تو مودودی صاحب سے جج صاحبان نے پوچھا کہ اگر ہندوستان میں ہندو اپنے مذہبی قوانین کو نافذ کر دیں تو آپ کا کیا ردعمل ہو گا۔ اس پر مودودی صاحب نے فرمایا

” مجھے اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا کہ حکومت کے اس نظام میں مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودروں کا سا سلوک کیا جائے۔ ان پر منو کے قوانین کا اطلاق کیا جائے اور انہیں حکومت میں حصہ اور شہریت کے حقوق قطعاً نہ دیے جائیں۔ “ [رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 ص 245 ]

اس قسم کی سوچ اب کیا نتائج پیدا کر رہی ہے؟ اس وضاحت کی ضرورت نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply