کرونا سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دونوں بیٹیوں کی فکرمندی سے بھرپور مشترکہ کال تھی!
” اماں میری یونیورسٹی بند ہوگئی اب باقی کلاسیں آن لائن ہوں گی“
” میرے دفتر نے آنے سے منع کر دیا، اب گھر سے بیٹھ کے کام کرنا ہو گا“

”اماں! آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ “ سوال داغا گیا،
” بیٹا، ہم لوگ کمپیوٹر پہ بیٹھ کے مریض دیکھنے سے تو رہے۔ ہمارا تعلق اس پیشے سے ہے جو کرونا کے مریض کو سامنے پا کے بھاگنے کی بجائے اس کا علاجکرے گا“
” اماں اپنا خیال رکھیے گا“

اب خیال رکھنے میں کیا کیا احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے؟ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے قارئین بھی جان لیں!

کرونا وائرس کو
Covid-19 کا نام دیا گیا۔
Co-Corona, Vi-Virus, D disease, 19-2019

یہ وائرس پچھلے وبائی وائرس SARS اور MERS کے خاندان سے اور انسانی بالکے نو سوویں حصے کے برابر ہے۔

یاد رکھیے یہ وائرس صرف دو طریقوں سے پھیلتا ہے۔ نمبر ایک، اگر کسی ایسی جگہ کو چھو لیا جائے جہاں وائرس موجود ہو۔ نمبر دو، وائرس والے مریض کی رطوبت کے قطرے کھانسی، چھینک یا منہ در منہ بات کرنے کی صورت میں کسی دوسرے کے جسم کے اندر داخل ہو جائیں۔ خیال رہے یہ رطوبتی قطرے ( تھوک، ناک کی آلائش) چھ فٹ کے دائرے تک کسی تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

کسی بھی چیز کی بیرونی سطح پہ یہ وائرس کئی گھنٹوں تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن ہوا میں اپنے طور پہ تیر یا اڑ نہیں سکتا۔ اگلے میزبان تک پہنچنے تک کے لئے اسے لازماً پچھلے شکار کی رطوبت کا قطرہ سواری کے طور پہ چاہیے۔

احتیاطی تدابیر میں سب سے ضروری ہاتھ صاف رکھنا ہیں۔ اہم بات یہ جاننا ہے کہ کیسے؟

اپنے ہاتھ ٹونٹی کے پانی سے گیلے کیجئیے اور اچھی طرح صابن لگائیے خاص طور پہ ہتھیلی کے الٹی طرف، انگلیوں کے بیچ اور ناخنوں کے اطراف میں۔ بیس سیکنڈ تک ملیے اور اور کھلے پانی میں دھو لیجیے۔ ہاتھ خشک کرنے کے لئے صاف کپڑا یا تولیہ استعمال کرنے کے بعد دھونے کے لئے پھینک دیجیئے۔ بار بار وہی تولیہ استعمال مت کیجیے۔

اگر ہاتھ دھونا ممکن نہ ہو، پانی اور صابن کی دقت ہو، تو کوئی بھی ایسا ڈسانفیکٹنٹ محلول جس میں ساٹھ فیصد الکوحل شامل ہو استعمال کیجیے۔ ہمہ وقت اس محلول کو جیب میں رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

کرونا وائرس کی زندگی کسی بھی بیرونی سطح پہ کچھ گھنٹوں سے زیادہ نہیں۔ سو اس وقت میں یہ ان تمام جگہوں سے کسی کو بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ ان جگہوں میں دروازے کے ہینڈل، اے ٹی ایم مشین، کرنسی نوٹ، برقی سیڑھی کی ریلنگ، دفتر کے باتھ روم کی ٹونٹی، کافی مشین، ٹیکسی کے دروازے کا ہینڈل، بس میں پکڑنے والا ڈنڈا۔ سو ان تمام جگہوں کو ہاتھ لگانے کے بعد ہاتھ کو اپنے منہ ناک یاآنکھوں کی طرف لے جانے سے پہلے صاف کیجئیے یا دھوئیے۔

ماسک اس شخص کو لازم پہننا ہے جو فلو جیسی علامات کے ساتھ کھانس یا چھینک رہا ہو تاکہ اس کے ناک یا منہ سے نکلنے والی رطوبت کے قطرے کسی اور کے منہ تک نہ پہنچ سکیں۔ استعمال شدہ ماسک کو ڈھکن والے ڈسٹ بن میں پھینکنا ہے۔ کھانسی یا چھینک کسی کو بھی آئے، منہ اور ناک کو ٹشو پیپر سے ڈھانپنا ہے اور ہر استعمال کے بعد ٹشو پیپر کو مناسب جگہ پہ تلف کر نا ہے۔ کپڑے سے بنے رومال کے استعمال کی کوئی گنجائش نہیں۔

سب سے زیادہ خطرے والی جگہیں وہ ہیں جہاں لوگوں کا ازدحام ہو۔ ائرپورٹ، مارکیٹ، تقریبات، بازار، سکول۔ مسئلہ یہ ہے کہ متاثرہ شخص کی چھینکوں اورتھوک کے قطرے کہیں بھی کچھ گھنٹوں تک وائرس کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔ ان گھنٹوں میں جتنے لوگ اس قطروں سے آلودہ چیز کو چھو کے اپنا ہاتھ، اپنے منہ یاناک تک لے جائیں گے، وہ متاثرین میں شامل ہو سکتے ہیں۔

کوشش کیجیے کہ تقریبات منسوخ کر دی جائیں۔ معاشرتی میل ملاقات اور ہوٹلنگکم سے کم رکھی جائے کہ کچھ علم نہیں پچھلے کچھ گھنٹوں میں وائرس کس کے اندر پہنچ چکا ہے۔ مارکیٹ تک جانا ہو تو ہر کسی سے تین فیٹ کی دوری رکھی جائے، چیزوں کو چھو کے ہاتھ اپنے چہرے کی طرف نہ لے جایا جائے۔

سفر کو وسیلہ ظفر ضرور مانیے لیکن اس وبائی وقت میں اسے مؤخر کرنا ہی بہترہے۔ اشد مجبوری کے عالم میں سفر کرنا ہو تو اپنی سیٹ، سیٹ کے ہتھے، سامنے والی ٹچ سکرین، ریموٹ کنٹرول، باتھ روم کا دروازہ میڈیکیٹڈ وائپس سے صاف کیجیے۔ ہوٹل پہنچنے پہ بھی یہ سب احتیاط لازم ہیں۔

صاحبان من، کرونا سے جنگ کرنے کا افضل ترین طریقہ یہی ہے کہ اپنے گھر کو اپنی جنت مان لیجیے۔ مہمان و میزبانی کے بکھیڑے کچھ عرصے کے لئے منسوخ کیجیے۔ گھر میں وقت کی فروانی سے فائدہ اٹھائیے اور وہ سب کر ڈالیے جس کے لئے آپ برسوں سے تنگیٔ وقت کا گلہ لئے پھرتے ہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *