ہم اپنی دینی فکر بہتر طور پر کیسے مرتب کر سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت ہم سب 2020 پر کھڑے ہیں اور اکیسویں صدی پلٹنے میں ابھی اسی سال باقی ہیں۔ غالب امکان یہ ہے کہ یہ صدی دینی اعتبار سے پاکستان کے کانٹیکسٹ میں جاوید احمد غامدی صاحب یا المورد ادارہ کہہ لیجیے ان کی ہو گی۔ یقین سے اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ادارے کے ذمہ داران پر منحصر ہو گا کہ وہ کس طرح اپنے کام کی ترویج کرتے ہیں۔ پھر شاید یہ سوال پیدا ہو کہ مضمون ہذا لکھنے کی ضرورت کیونکر پیش آئی۔ اس کی ایک بنیادی وجہ تو راقم کا دین اسلام کا طالب علم ہونا ہے، اور ساتھ ہی دور جدید میں ہمارے سوشل فیبرک میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں بھی کسی حد تک موجب تحریر بنی ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہ ہمارے ہاں دین کو غور و فکر کے ساتھ سمجھنے سمجھانے کی بجائے جذباتی لگاؤ پر رکھنے کا رحجان واضح طور پر زیادہ ہے۔

اب تک ہمارے کلچر میں چونکہ کسی بھی شعبے میں اس کے پائنیرز کو کافی گلوریفائی کیا جاتا ہے، احترام دیا جاتا ہے، حتیٰ کہ مرنے کے بعد بھی ان کی دنیاوی اعتبار سے کچھ پرستش ٹائپ کی جاتی ہے، تو عزیزو اور دوستو، اگر آپ اپنا نام المورد والوں کے صف اول لوگوں میں ابھی بھی درج کروانا چاہتے ہیں تو فیصلہ کر لیجیے کہ ٹائم اچھا ہے۔ اگر آپ اپنی مرضی اور منشاء سے ایسا کرنے سے احتراز کرتے ہیں، یا کسی طرح کے سوشل یا مذہبی پریشر سے دب کر خاموش لوگوں میں یا روایتی مذہبی لائنز میں کھڑے رہنا پسند کرتے ہیں، یا لاشعوری یا شعوری طور پر فیصلہ کی قوت نہیں جُٹا پاتے، یا زندگی میں اس قدر مصروف ہیں کہ اس طرف سوچنے کا وقت نہیں مل رہا، یا جس طرف لڑکپن جوانی میں لگ گئے تھے اسی طرف رہ کر ویل سیٹلڈ زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو بھی خود کو اپنے تئیں درست سمجھئیے۔

اس آرگومنٹ کے پیچھے کیا ممکنہ دلائل ہیں۔ بلاشبہ آج کے دور کا پاکستانی عمومی طور پر ٹیکنالوجی، میڈیا، مٹیریلزم، اور ظاہر پرستی کے دور میں جی رہا ہے اور آج کے بچے ٹیکنالوجی کے سیلاب میں پرورش پارہے ہیں۔ ویسے تو ابھی حالیہ ختم ہوئی دہشتگردی اور بجلی بحران کی بدولت مادی ترقی کے آدھے اہداف بھی حاصل نہیں ہوئے، بلکہ یوں کہئیے کہ ابھی تو آنا شروع ہوئے ہیں۔ جو آگے بھی ٹوارزم، انڈسٹری، اور انفراسٹرکچرل ڈیویلپمنٹ کے ساتھ انشاءاللہ مزید حاصل ہوں گے اورامید ہے کہ پاکستان 2050 تک دنیا میں اقتصادی و جمہوری طور پر ایک مضبوط پوزیشن میں کھڑا ہوگا۔

اکنامک ڈیویلپمنٹ کی بدولت بھی دینی فکر میں ارتقاء ہو گا اور جیسے جیسے لوگوں کی کیپیٹلزم کے نظام میں گھٹن بڑھے گی انہیں اپنے باطنی و روحانی سفر کی طرف دھیان دینے کی ضرورت اور شوق پیدا ہوں گے اور وہ غامدی صاحب کے مکتبہ فکر کی طرف مائل ہوتے چلے جائیں گے۔ ابھی تو ان کو برا بھلا، فتنہ، اور لبرلز کا فیورٹ کہنے والوں کی تعداد پاکستان میں زیادہ ہے۔ مگر موجودہ صدی ہی میں ایک ایسا وقت آئے گا جب غامدی صاحب بالخصوص پاکستانیوں اور بالعموم اردو بولنے سمجھنے والوں کو دین اسلام کے قریب تر ملیں گے۔ یہاں یہ بتانا مناسب ہوگا کہ کوئی دعویٰ اور نہ ہی فکر غامدی کو کامل بنا کر پیش کیا جا رہا ہے بلکہ راقم تو ان کی نمائندگی تک نہیں کر رہا کہ جیسا شروع میں خود کو دین کا طالب علم کہا اور حتیٰ المقدور خود کو مائنس رکھتے ہوئے جو فکر مرتب ہو پائی ہے وہ آپ کے سامنے رکھ دی۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ دین اسلام کی امبریلا بہت وسیع ہے اتنی وسیع کے دنیا کے ہر دور، ہر طبقے، ہر علاقے کے افراد اس میں سما جاتے ہیں۔ یہ بات تھیوریٹکلی ٹرو ہے۔ پریکٹیکلی اس کا ٹرو ہونا انتہائی مشکل اس لیے بھی ہے کہ ایک وجہ تو یہ ہے کہ کوئی بھی مخصوص مکتب فکر ایک مخصوص دور، مخصوص طبقے، مخصوص علاقے میں کامل دین کے ہورائزن کو کور نہیں کر پاتا۔ دوسری یہ کہ پریکٹیکل دنیا سوشل نارمز، کلچرل، اور ہسٹاریکل ویلیوز پر بنتی بگڑتی ہے اور ارتقائی منازل طے کرتی جاتی ہے (ورٹیکل موومنٹ) ۔ اس کے برعکس تھیوریٹکلی تو تھری ڈٰی اطراف میں موومنٹس ممکن ہوسکتی ہیں جس کو قرآن کریم اور حیات طیبہ رسول اکرم ﷺ دونوں نے کوور کر رکھا ہے۔

خلاصہ یہ کہ کوئی بھی انسانی تحریر کامل نہیں ہوتی، سو یہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ تو فوری طور پر اپنانے کے لئے شاید ایک کمزور تحریر ہے کہ اس میں وسیع النظر عکاسی حاوی طور پر موجود ہے۔ البتہ یہ آپ سب کے سامنے ایسا نقشہ ضرور رکھ رہی ہے کہ آپ اپنی زندگی کے آنے والے سالوں کے لئے اپنے حساب سے اپنی دینی فکر بہتر طور پر مرتب کر سکیں۔ یہ بھی کہ روایتی مکاتب فکر بھی اپنے نظریات دور جدید کے مطابق ڈھالیں تاکہ تبدیلیوں کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ آئیڈیل تو یہ ہوتا کہ ہم سب فرقہ پرستی سے بالاتر ہو کر واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا پر آجاتے لیکن پھر دہرانا پڑے گا کہ پریکٹکل ویو پوائنٹ سے یہ ایک ناممکن بات لگتی ہے الا ماشا اللہ۔

آخر میں سب سے ضروری بات جو فوری طور پر اپنائی بھی جاسکتی ہے یہ کہ اب ہمیں افضل طریقے سے اختلافی امور پر مباحث و بات چیت کرنا سیکھ ہی لینا چاہیے کہ یہ دین پر عمل کے اعتبار سے بہتر ہے اور بڑی اور پڑھی لکھی قوم ہونے کی نشانی ہے۔ جذباتیت کے حصار سے نکل کر دلائل، سوالات اٹھانے اور جوابات تلاش کرنے، کرٹکل تھنکنگ و ریزننگ، اور ٹرانس باؤنڈری تجزیات کو سیکھنے اپنانے، ایک دوسرے کے کام کو سراہنے، اپنے کام میں دوسرے کے کام کو چوری کرنے کی بجائے پراپر ریفرینسنگ دینے، اور اس پر اپنی ریسرچ کی تعمیرات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یاد رہے یہ سارے کام تصنیفی طور پر تقاریر کے مقابلے بہتر ہوسکتے ہیں۔ جاتے جاتے ازراہ تفنن عرض کیا ہے کہ اگر آپ خود ان تمام محرکات کو جھٹلا کر اپنے موجودہ دائرہ کار پر جم کر کھڑے بھی رہیں تو بھی ٹیکنالوجی اور وقت کے بہاؤ میں پلنے والی آپ کی اولادیں آپ کو کبھی کسی طور غامدیت کے اور کھینچ ہی لیں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *