ہم اپنی دینی فکر بہتر طور پر کیسے مرتب کر سکتے ہیں؟
اس وقت ہم سب 2020 پر کھڑے ہیں اور اکیسویں صدی پلٹنے میں ابھی اسی سال باقی ہیں۔ غالب امکان یہ ہے کہ یہ صدی دینی اعتبار سے پاکستان کے کانٹیکسٹ میں جاوید احمد غامدی صاحب یا المورد ادارہ کہہ لیجیے ان کی ہو گی۔ یقین سے اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ادارے کے ذمہ داران پر منحصر ہو گا کہ وہ کس طرح اپنے کام کی ترویج کرتے ہیں۔ پھر شاید یہ سوال پیدا ہو کہ مضمون ہذا لکھنے کی ضرورت کیونکر پیش آئی۔ اس کی ایک بنیادی وجہ تو راقم کا دین اسلام کا طالب علم ہونا ہے، اور ساتھ ہی دور جدید میں ہمارے سوشل فیبرک میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیاں بھی کسی حد تک موجب تحریر بنی ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بھی کہ ہمارے ہاں دین کو غور و فکر کے ساتھ سمجھنے سمجھانے کی بجائے جذباتی لگاؤ پر رکھنے کا رحجان واضح طور پر زیادہ ہے۔
Read more
