کراچی سے پنجگور کا سفری احوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی کا سفر کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں اختتام پزیر، بشر خود اس حوالے سے لاتعلق ہوجاتا ہے۔ درمیانی حصہ اس نے کیسے گزارنی ہے اس کے لیے پلاننگ کرتا ہے، صدیوں کا پلاننگ۔ لیکن اپن کی زندگی میں پلاننگ نامی چیز نے کبھی بھی چلانگ نہیں ماری۔ اتفاقات کی ایسی بھرمار کہ۔ اب اتفاقات پر مکمل یقین سا ہو گیا ہے۔ ملتے بچھڑتے رشتوں میں اتفاقات کا ایسا دور دیکھا ہے۔ کہ پلاننگ سے زیادہ اتفاقات پر یقین آ گیا ہے۔

سفر کو تخلیق نہیں کیا جاتا۔ بلکہ سفر بہت سی چیزوں کو تخلیق کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ پنجگور کے لیے جب رخت سفر باندھ چکے تھے سفر کے ساتھیوں میں، بشیر ساجدی جسے بہت سے دوست ڈاکٹر کے القاب سے نوازتے ہیں۔ لیکن میرے نزدیک وہ کل بھی چیرمین تھے آج بھی چیرمین ہیں۔ ان کی ایک مخصوص خاصیت یہی ہے کہ دوستی کا فرض نبھانا جانتے ہیں۔ لفظ چیرمین سے اس لیے ہم انہیں نوازتے ہیں کہ آواران کے گئے دنوں میں جب ہم پر سماجی سرگرمیوں کا بھوت سوار ہوا تو دوستوں نے ایک تنظیم کی داغ بیل ڈالی۔

تنظیم میں ایک نشست مخصوص تھی چیرمین کی۔ چیرمین کی فیس اتنی زیادہ تھی کہ شروعات سے لے کر آخر تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ اس کی فیس ادا کر پاتا۔ سب دوستوں نے تاحیات چیرمین شپ کی ذمہ داری اس کے کندھوں پر ڈالی۔ وہ دن اور آج کا دن سب کی زبان پر چیرمین زد عام ہوا۔ دیگر دوستوں میں محمد اسحاق، عبیداللہ اور محمود شامل تھے۔ تینوں کا تعلق پنجگور سے ہے۔

سفر کا آغاز ہم نے کراچی سے کیا۔ میرا خیال تھا کہ ہم پنجگور کا سفر براستہ مکران کوسٹل ہائی وے طے کریں گے۔ ”اچھا ہے یہیں سے گوادر اور کیچ کا نظارہ کر کے آگے نکل آئیں گے“۔ سفری ساتھی حیرانگی سے میری طرف دیکھنے لگے۔ اسحاق کہنے لگا ”لگتا ہے پنجگور کے لیے پہلی بار نکل رہے ہیں“۔ میں نے جوابا کہا کہ نہیں پہلے بھی کئی بار براستہ پنجگور کا دیدار چکا ہوں۔ ’دراسکی‘ آواران اور پنجگور کو ملانے کا زمینی راستہ کہلاتا ہے۔ انتہائی کم فاصلہ پر واقع یہ ضلع آواران سے اپنا ناتا ناقص مواصلاتی کی وجہ سے مضبوط نہیں کر پایا۔ ماضی میں خبریں گردش ایام میں رہیں کہ پنجگور اور آواران کا بحال کرنے کے لیے اس سڑک کو پختہ کیا جا رہا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہوسکا۔

ایک طویل سفر کے لیے ہم ذہنی طور پر اپنے آپ کو تیار کر چکے تھے۔ اس طویل سفرکو ذہن سے اتارنے کے لیے کبھی ہم گانوں کا سہارا لے رہے تھے تو کبھی گفتگو کا سلسلہ چل نکل پڑتا۔ کبھی انڈین تو کبھی بلوچی گانوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ محمد اسحاق دور جدید کے گانوں سے اکتاہٹ کا شکار ہو چکا تھا۔ ہم نے ان کی پرانی یادوں کا تازہ کرنے کے لیے جاڑک اور فیض محمد بلوچ کے گانوں کا انتخاب کیا۔ ”رنگ ءَ مہ چار دوستی مکن، نے وفا خوبصورت ءَ“۔ پرانے گانوں کی آمد محمد اسحاق کے چہرے پرمسکراہٹ بکھیرنے کا سبب بن چکا تھا۔

تخت جھالاوان کو سلامی دے کر ہم نکل چکے تھے کراچی ہڑمبو کے مقام پر ہم نے کوئٹہ کراچی خونی شاہراہ کو الوداع کہا۔ ہڑمبو سے آگے نال کی طرف روانہ ہوئے۔ ہڑمبو سے نال کا سفر بہت کم فاصلے پر واقع ہے۔ چند لمحوں کے لیے نال رک کر ہم نے تختِ بزنجو کو سلامی دی۔ اس کے بعد سڑکوں کی خستہ حالی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا اس خستہ حالی نے ہمیں ایک بار پھر سے جھاؤ آواران روٹ کی یاد دلا دی۔ لاوارث زمینوں کی روداد اس سے بدتر اور کیا ہو سکتی ہے۔

براستہ سوراب ہم پنجگور کے لیے سفر کا انتخاب کر سکتے تھے مگر سفر کی طوالت سے بچنے کے لیے ہم نے نال بسیمہ روٹ کا انتخاب کیا۔ نال سے بسیمہ کا راستہ ہم نے انتہائی مخدوش پایا۔ خدا جانے اس میں کیا مصلحت ہو سکتی ہے کہ علاقائی نمائندگان کو ان راہوں کی حالت پر ترس نہیں آتا۔ نال سے آگے گریشہ آتا ہے۔ تختِ ساجدی کے زیر نظام یہ علاقہ شورش سے کافی متاثر رہا۔ سکول بند ہیں علاقے کا تعلیمی نظام تباہ حال بتایا جاتا ہے۔ ایڈیٹر روزنامہ انتخاب انور ساجدی کا آبائی علاقہ بھی۔

کودگ کے مقام پر پہنچ کر چند لمحوں کے لیے رکے۔ یہیں سے ایک کچا راستہ مشکے کے لیے نکلتا ہے۔ چائے پی لی۔ پھر آگے کی جانب روانہ ہوئے۔ بسیمہ پہنچ کر سی پیک روٹ کی ون لائنر سڑک کو دیکھ کر اطمینان نصیب ہوا کہ اٹھک بیٹھک سے کم از کم آزادی تو ملے گی۔ بسیمہ تک سفر کرتے کرتے کھایا پیا سب کچھ ہضم ہو چکا تھا۔ طعام کے لیے رکنا پڑا۔ جہاں پہلے سے زامیاد گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ سرکاری سطح پر جس تیل کی پندش کا واویلا مچایا جا رہا تھا۔ اسے سیکورٹی فورسز کی چیک پوسٹیں بھی نہیں روک پا رہی تھیں۔ سڑکوں پر تیل بردار گاڑیوں کی فراوانی دیکھ کر یقین آیا کہ تیل کے اس نظام سے نہ صرف عام آدمی کی معاشی نظام جڑا ہوا ہے بلکہ ریاستی ادارے بھی اسی پر انحصار کرنے لگے ہیں۔

اس ون لائنر روٹ کو پختہ کیے ہوئے ایک عرصہ ہی نہیں گزرا ہے کہ سڑک کو ہم نے جگہ جگہ بیٹھا ہوا پایا۔ خیر بلوچستان والوں کو اگر اس طرح کی سڑکیں بھی نصیب ہوں تو بھی غنیمت۔ سفر ایک بار پھر سے شروع ہو

چکا تھا۔ اس سے آگے ناگ کا میدانی علاقہ تھا۔ بارشوں کے بعد یہاں کا پتھریلا زمین بھی سرسبز دکھائی دے رہا تھا۔ پنجگور سے 35 کلومیٹر دور سبز آب کے مقام پر جب رکنا پڑا تو پہاڑیوں کو ہم نے سیکورٹی حصار میں پایا۔ البتہ ایک زمانے تک مقامی آبادی کو چیکنگ کے جس سخت مرحلے سے گزرنا پڑتا تھا۔ اب اس میں نرمی لائی گئی ہے۔ بچوں کو اسی راہ پر ہم نے پنجگور کا مقامی خوراک ”پترونک“ فروخت کرتے ہوئے پایا۔ پترونک کی خریداری کے بعد ہم نے اس کا بھرپور مزہ اٹھایا اور پنجگور شہر کی جانب روانہ ہوئے۔ پنجگور شہر کے اندر داخل ہوتے ہی گوریچ نامی ہوا کو اپنا منتظر پایا۔ جس گرمی کے سماں میں ہم نے کراچی کو الوداع کہا تھا۔ اس سے پنجگور کے موسم کو ہم نے مختلف پایا۔ سردی سے بچاؤ کے لیے جس گرم کوٹ کو الوداع کہا تھا اب اس کی یاد ستا رہی تھی۔

(قصہ جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *