کیا خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگنے لگا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

گزشتہ دنوں آئی جی خیبر پختونخوا کی جانب سے مرکز کو خط ارسال کیا گیا کہ وزیراعلی پرویز خٹک صاحب اسلام آباد آ رہے ہیں تو ان کو پولیس گارڈ ساتھ لانے کی اجازت دی جائے اور ان کو وزیراعلی کا مکمل پروٹوکول دیا جائے۔ اس پر وزارت داخلہ نے جواب دیا کہ اگر پرویز خٹک صاحب کسی سرکاری کام سے آ رہے ہیں تو پھر ان کو پروٹوکول دیا جائے گا، لیکن اگر وہ مسلح افراد کے جتھے کے ساتھ احتجاج کرنے تشریف لا رہے ہیں تو ان کو بھی دیگر افراد کی طرح تصور کیا جائے گا۔

پرویز خٹک صاحب ایک صوبائی وزیراعلی کے طور پر اسلام آباد کا پہیہ جام کرنے اور کاروبار حکومت کو چلانا ناممکن بنا کے مرکزی حکومت گرانے کی نیت سے اسلام آباد آ رہے ہیں۔ عمران خان صاحب اسے اپنا آخری دھرنا قرار دیتے ہوئے آخری حد تک جانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ صوبائی وزیر علی امین گنڈاپور صاحب کی گاڑی سے گزشتہ دن اسلحہ برآمد ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ کلاشنکوفیں لائسنس یافتہ ہیں اور انہوں نے طالبان کی ہٹ لسٹ پر ہونے کی وجہ سے بلٹ پروف جیکٹ اور کلاشنکوفیں ساتھ رکھی ہوئی تھیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا دوسرا بیان بھی رپورٹ ہوا کہ اگر پولیس نے ان کو روکنے کی کوشش کی یا آنسو گیس کی شیلنگ کی تو وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن نے سیرل المیڈا کے معاملے میں پریشر سے کسی حد تک نکلنے کے بعد اس دھرنے کو سختی سے کچلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ شروع میں امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ احتجاج میں عمران خان صاحب کے حامیوں کی تعداد کو گھٹانے کی خاطر سختی دکھائی جا رہی ہے۔ مگر آج جو حالات دکھائی دے رہے ہیں، اور خاص طور پر جس طرح موٹر وے پر پرویز خٹک صاحب کے قافلے کے ساتھ ٹکراؤ کی جو صورت حال بن رہی ہے، تو اندازہ یہی ہو رہا ہے کہ مرکزی حکومت بھرپور تشدد کے ذریعے ان مظاہروں کو روکنے کی کوشش کرے گی۔

\"islamabad-teargas\"

پچھلے دھرنے سے پہلے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان عوامی تحریک کے چودہ حامیوں کی لاشیں گری تھیں۔ حکومت مختلف انکوائری کمیشنوں کے پیچھے چھپ کر خود کو بچاتی رہی ہے اور دو سال گزرنے کے باوجود ماڈل ٹاؤن کیس کی آنچ سے محفوظ رہی ہے۔ اس تناظر میں اس کے حوصلے بڑھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور خدانخواستہ ایک اور ماڈل ٹاؤن ہو جائے تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری نظر میں عمران خان صاحب اور طاہر القادری کی ایک بہت بڑی غلطی یہ تھی کہ گزشتہ دھرنے کے موقع پر وہ ان چودہ لاشوں کے پکے کیس کو چھوڑ کر انتخابی دھاندلی اور پینتیس پنکچروں کا الاپ ہی کرتے رہے، جس میں نہ صرف یہ کہ ایک طویل جد و جہد کے باوجود وہ نواز شریف صاحب کی حکومت پر کوئی خاطر خواہ دباؤ ڈالنے میں ناکام رہے بلکہ عدالتی فیصلوں اور ضمنی انتخابات کے نتیجے میں انہوں نے اپنا موقف کمزور کیا۔ اگر اس موقعے پر وہ ماڈل ٹاؤن کی قتل و غارت کا معاملہ اٹھا کر انصاف کا مطالبہ کرتے تو پارلیمان میں دوسری پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنے میں مسلم لیگ ن کو کافی دشواری پیش آ سکتی تھی۔

\"pervez-khattak\"

اب صورت حال سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ تحریک انصاف اپنی صوبائی حکومت کی طاقت کو دھرنے کو کامیاب بنانے اور اس کے نتیجے میں مرکزی حکومت کو گرانے کے لئے استعمال کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ کی حکومت اس مرتبہ کسی قسم کی مفاہمت دکھانے کے موڈ میں نہیں ہے بلکہ سختی سے کام لینے کی راہ پر چل رہی ہے۔

گزشتہ دو دن سے اسلام آباد کے بعض حلقوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس بنیاد پر گورنر راج لگانے کا کسی وقت بھی اعلان کیا جا سکتا ہے کہ وہاں کی صوبائی حکومت مرکز کے خلاف تشدد استعمال کر کے اسے گرانا چاہتی ہے۔ مرکز کی جانب سے پرویز خٹک صاحب کا آج کا مارچ اس موقف کی حمایت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

\"pti-protest-motorway\"

اگر گورنر راج لگ جاتا ہے، تو تحریک انصاف کی اس تحریک کو وسائل کی فراہمی کے حوالے سے ایک بڑا جھٹکا پہنچے گا، دوسری طرف اس کے حامیوں کے جوش میں بھی اضافہ ہو گا اور ٹکراؤ کی صورت حال سنگین ہو سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت کو بھی گورنر راج کے ذریعے ہٹایا گیا تھا جو کہ چند ماہ بعد عدالتی حکم پر بحال ہو گئی تھی۔ ممکن ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت بھی چند ماہ میں دوبارہ بحال ہو جائے لیکن اس وقت تک اسلام آباد کے دھرنے کی تحریک دم توڑ چکی ہو گی۔

مسلم لیگ ن کے پاس اس دوران ایک دوسری آپشن بھی موجود ہے۔ مولانا فضل الرحمان اول دن سے ہی نواز شریف صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو گرا کر اپنی حکومت بنا لی جائے۔ اگر نواز شریف صاحب اس پر متفق ہو جاتے ہیں، تو تحریک انصاف کے ابھی کچھ عرصے پہلے شروع کیے گئے ترقیاتی کاموں کو مکمل نہیں کیا جا سکے گا اور اگلے الیکشن میں اس کے پاس ملک کے عوام کو دکھانے کے لئے صرف مظلومیت کا عنصر ہی باقی بچے گا۔

سوال یہی ہے کہ سیاسی انداز میں مفاہمت اور بات چیت کی بجائے ٹکراؤ کی روش اختیار کرنے سے کس کو زیادہ نقصان ہو گا؟ مسلم لیگ ن کی حکومت کو یا تحریک انصاف کو؟ کہیں پورا پانے کی چاہ میں تحریک انصاف سب کچھ کھونے تو نہیں جا رہی ہے؟ دوسری طرف مسلم لیگ ن کی حکومت کہیں ماڈل ٹاؤن سے بڑی مصیبت میں گرفتار ہونے کی راہ پر تو نہیں چل پڑی ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1380 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply