سرائیکی صوبہ اور ٹرک کی بتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرائیکی صوبہ میں اتنی پیشرفت تو اپنوں اور غیروں کی بدولت ہو چکی ہے کہ اب اس کو جنوبی پنجاب صوبہ کے نام سے پکارا اور لکھا جاتا ہے، سرائیکی گھر میں اپنے صوبہ کا جو نام لیتے رہیں، ان پر کوئی پابندی نہیں ہے لیکن اقتدار کے بڑے اورچھوٹے ایوانوں میں اس کو جنوبی پنجاب کے نام سے پکار کر کہانی مکمل کی جاتی ہے، دلچسپ صورتحال یوں ہے کہ جس ملک میں بلوچوں کے لئے بلوچستان، سندھیوں کے لئے سندھ، پشتونوں کے لئے خبیر پختونخواہ اور پھر پنجابیوں کے لئے پنجاب کے نام سے صوبہ ہوسکتاہے۔

وہاں پر سرائیکی قوم کے لئے سرائیکی صوبہ کا قیام ممکن نہیں ہے، اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس سے لسانی بو آتی ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے بڑی راکٹ سائنس کی ضرورت یوں نہیں ہے کہ جب یہاں کوئی کام نہ کرنا ہو تو پھر ایسے جواز گھڑ لیے جاتے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی جوکہ ایک وقت تک سرائیکی صوبہ کی چمپین تھی، وفاق میں اقتدار کے آخری پانچ سال مکمل کرتے کرتے سرائیکی صوبہ کو جنوبی پنجاب کا نام دے گئی اور جس کو ملتانی سیاستدانوں نے قبول کرلیا اور اس بات پر راضی ہوگئے کہ نام میں کیا رکھا ہے، صوبہ بنے، چاہے اس کا نام جنوبی پنجاب ہو یا پھر صوبہ ملتان ہو یا پھر جو مزاج یار میں آئے نام رکھ لے لیکن صوبہ بنایا جائے۔

ادھر سرائیکی صوبہ کے نام کی کہانی کو الجھانے والے اصل میں یہ چیک کررہے تھے کہ اس دھرتی بالخصوص ملتانی سیاستدان یا پھر یہاں کے دانشور اور عوام سرائیکی لفظ سے کتنے جڑے ہیں، پتہ یہ چلا کہ ان کو اتنی ہی محبت تھی کہ انہوں نے ایک ہی جھٹکے میں جنوبی پنجاب جیسے نام کو قبول کرلیا جوکہ کسی بھی حوالے سے اس دھرتی کی نمائندگی نہیں کرتا ہے۔ چلو آگے چلتے ہیں۔ سرائیکی صوبہ، جنوبی پنجاب صوبہ یا پھر پنجاب کی تقسیم کوئی تحریک انصاف کی حکومت کا نعرہ، شوشہ یا پھر سیاسی چال نہیں ہے بلکہ یہ تسلسل کے ساتھ اس ملک میں مختلف بڑی چھوٹی پارٹیوں کا طرف سے چورن بکتا چلا آرہا ہے۔

جس پارٹی کو اقتدار تک پہنچنے میں کوئی دقت، روکاوٹ یا پھر عددی اکثریت کی ضرورت پیش آتی ہے، وہ اس صوبہ کے نعرے کو لے کر میدان میں نکل پڑتی ہے، جیسے سیاسی میدان میں پیپلزپارٹی بڑی دیر تک اس سرائیکی صوبہ کے نعرے کو لے کر اقتدار کے حصول میں سیاسی کارڈ کے طورپر استعمال کرتی رہی ہے، دوسری طرف مسلم لیگ نواز بھی سرائیکی صوبہ یا پھر جنوبی پنجاب صوبہ اور بہاولپور صوبہ کی بحالی کے نعرے کے ساتھ الیکشن میں اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے متحرک رہی ہے۔

ملک کی ان دوبڑی جماعتوں کو اس نعرے کی بدولت جہاں ایک طرف تخت لاہور اور اسلام آباد تک رسائی ملی وہاں پر یہاں کے جاگیر دار جوکہ اقتدار کی خاطر اشارے کے منتظر ہوتے ہیں، ان کے لئے یہ سہولت ہوگئی کہ ایک وقت میں ایک پارٹی کے ساتھ کھڑے ہوکر سرائیکی صوبہ کے قیام کے نعرے کی بدولت اقتدارحاصل کیا تو دوسری بار دوسری پارٹی کے ٹرک پر سوار ہوکر جنوبی پنجاب صوبہ کے نعرے کی وجہ سے اقتدار کی کہانی مکمل کرتے رہے جبکہ اس دھرتی کے عوام وہاں کھڑے ہیں، جہاں پر وہ کھڑے تھے مطلب نعروں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔

پھر یہاں ایک اور سیاسی چال بھی اقتدار کی بندر بانٹ میں شریک جماعتوں کی طرف سے کی گئی کہ پنجاب کے ایوان سے کوئی متفقہ فیصلہ کروانے کی بجائے پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے ایک قرارداد بہاول پور صوبہ بحالی اور دوسری قراراداد سرائیکی مطلب جنوبی پنجاب صوبہ کے لئے پنجاب کے ایوان سے منظور کروائی۔ دلچسپ صورتحال اس کارنامے میں ساری جماعتوں مطلب پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ نواز سمیت ساری چھوٹی بڑی جماعتوں نے حصہ لیا اور خاص طور پر ملتانی سیاستدان صف اول میں تھے۔

اور اپنے اس سیاسی فیصلے پر عوام سے پھرپور داد وصول کی اور واہ واہ کروائی۔ یوں ایک کامیاب سیاسی چال سے اقتدار کی ایک اور اننگز مکمل کرنے کے بعد اگلے جنرل الیکشن میں اس نعرے کے ساتھ میدان میں آگئے کہ اب بہاول پور چھوڑیں، جنوبی پنجاب صوبہ بناتے ہیں۔ یوں خود ملتان اور بہاولپور کے درمیان رکھی ہوئی لکیر کو مزید گہرا کرلیا، عوام الجھ گئے کہ کل تک کہتے تھے کہ پنجاب تین صوبوں میں تقسیم ہوگا، ایک پنجاب صوبہ خود ہوگا، دوسرا جنوبی پنجاب صوبہ ہوگا اور تیسرا بہاول پور صوبہ بحال ہوگا لیکن اب وہی لوگ جو کل تک تین صوبوں کو ملک کے مفاد میں قرارد دیتے تھے، اب دو پر آگئے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

پنجاب کو دو صوبوں میں تقسیم کرنا تھا تو پہلے ہی اس بارے میں اتفاق رائے پیدا کرلیا جاتا کیوں کہ سیاسی پنڈتوں نے اس ایشو کو سلجھانا نہیں تھا بلکہ الجھانا تھا، یوں باریک واردات کرلی گئی۔ ادھر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کے اقتدار کے ساتھی جب اپنے ذاتی مفادات یا پھر جمہوریت کی خاطر تحریک انصاف کو پیار ہوگئے تو انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سجمھایا کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کو اقتدار سے دور کرنا ہے تو عوام کو یہ بات انگلی توڑ کر بتانی ہو گی کہ ان دونوں جماعتوں نے اپنے اپنے اقتدار میں آپ کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور اپنے وعدوں کے مطابق سرائیکی صوبہ یا پھر جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام سے انحراف کیا ہے، ایک کے بعد ایک تاریخ دی ہے، لیکن اقتدار کے باوجود جو کام کرنا تھا وہ نہیں کیا ہے، اسی طرح اپنے نئے کپتان کو سمجھایا کہ جنوبی پنجا ب صوبہ کے کھیل کو زندہ نہ کیا تو اقتدار کے دروازے ہمارے اوپر نہیں کھیلیں گے۔

پھر وہی ہوا کہ جو ہوتا چلا آ رہا ہے، سکرپٹ لکھا گیا، کردار ڈھونڈے گئے، سیاسی سمجھداروں کی خدمات لی گئیں اور پھر وہ وقت آگیا کہ کپتان کو نیلی اجرک اور ایک جذباتی پریس کانفرنس میں اس بات کا موقع دیا گیا جوکہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کو ملتا چلا آرہا تھا کہ ہم اقتدار میں آکر صوبہ بنائیں گے، وغیرہ وغیرہ۔ آج بھی وہ تصویر سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتی ہے، جہاں پر آج کے وزیراعظم عمران خان، اور سرائیکی دھرتی کے سیاستدان جوکہ اپوزیشن ادوار میں اسی نعرے کو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف سمیت آصف زرداری کو دیتے تھے اور اپنے اور ان کے اقتدار کی خاطر عوام کا ووٹ حاصل کرکے لاہور اور اسلام آباد کے ہوجاتے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو داد دینی پڑے گی کہ انہوں نے بڑی ہی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ جنرل الیکشن سے پہلے سرائیکی دھرتی کے ووٹ بنک کو جنوبی پنجاب صوبہ کے نام اکٹھا کرکے اپنی سیاسی جیب میں ڈال لیا۔ پھر اقتدار میں آگئے، سو دن یاد کروائے گئے لیکن سنی ان سنی کردی گئی، ابھی تو حکومت میں آئے ہیں۔ ساتھ ہی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز کی قیادت کی طرح ایوان میں اکثریت نہ ہونے کا رونا دھونا شروع کیا گیا، پھر سیکرٹریٹ کی کہانی بیان کی گئی، پھر کمیٹی بنادی گئی، پھر جیسا کہ اس ایشو کے ساتھ ہوتا چلا آ رہا ہے کہ ایک کے بعد ایک تاریخ دینے کی کارروائی شروع ہوگئی، اس میں بھی بات نہ بنی تو سیکرٹریت کہاں بنایا جائے، ملتان پر بہاول پور والے راضی نہیں ہیں تو کیا جائے؟

بحث چلتی رہی؟ دونوں اطراف سے سخت موقف دیکھنے اور سننے کو ملا، درمیان میں راقم الحروف کے ساتھ ایک سیاستدان نے لاہور میں انٹرویو کے درمیان چپکے سے لودھراں میں سیکرٹریٹ بنانے کا عندیہ دے دیا، رپورٹ کیا تو تھرتھلی مچ گئی، وہ موصوف انجوائے کررہے تھے کہ چلو اور وقت نکل جائے گا، مطلب عوام کو گولی کروانے کا سیبلس جاری رکھا گیا۔ اب تو صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ سیاستدان جنوبی پنجاب صوبہ یا پھر سیکرٹریٹ کے حوالے سے سچ بھی بول رہے ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ جھوٹ ہی ہوگا، عوام بھی جھوٹا کہنے میں غلط نہیں ہیں کیوں اتنی بار اس جنوبی پنجاب صوبہ، سیکرٹریٹ کے نعرے کو قومی اور مقامی سیاستدان، مختلف انداز میں اقتدار اور اپوزیشن میں منہ پکا کرکے بیچ چکے ہیں کہ اب کوئی اعتبارکرنے پر تیار نہیں ہے۔

لیکن اس صورتحال کے باوجود چلتے چلتے اتنا عرض کرنا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کل ہی ملتان میں کہا ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ کا سب سیکرٹریٹ کہاں بننا ہے، اس کا حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان منتخب نمائندوں سے ملاقات میں کریں گے۔ اب تحریک انصاف کی جانب سے سیکرٹریٹ کی کہانی کو نئے انداز میں پیش کرنے کے پیچھے کیا کہانی ہے؟ اس کے لئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا؟ لیکن فی الحال آپ کوئی جملہ یا نعرہ کالم پڑھنے کے ساتھ ہی نہ لگائیں۔ کیا خیال ہے؟ وہ کہتے ہیں نا جھوٹے کو جھوٹے کے گھر چھوڑ آنا چاہیے۔ جہاں آپ نے پیپلزپارٹی، نواز لیگی کی جھوٹی کہانیوں کو ہضم کرلیا ہے، وہاں تحریک انصاف کو بھی اپنے سارے سیاسی پتے کھیلنے کا مکمل حق ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply