’عورت مارچ‘ کے بعد!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کئی روز سے دھول اڑاتی ٹولیاں اور قافلے گھروں کو لوٹ چکے۔ عورت مارچ والوں کا مقصداگر تو شور شرابہ ہی تھا تو یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ خوب زور سے بولے۔ 8 مارچ کے دن مگرخاموش دوسرے بھی نہیں رہے۔ ایک طرف ڈھول کی تھاپ پرمزاحمتی ترانے تو دوسری طرف ’حیامارچ‘ سے اٹھنے والے ایمان افروزنعرے۔ بے چاری پاکستانی بیبیاں سارا دن گھروں میں دبکی رہیں۔

کم از کم اسلام آباد میں لال مسجد والے بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ یہ وہی لال مسجد ہے جوایک زمانے میں کئی ماہ تک جدید ہتھیاروں سے لیس گروہ کے ہاتھوں یرغمال بنی رہی۔ دوستوں دشمنوں کا دباؤ آیا توہی فوجی آپریشن کا آغاز ہوا۔ ایس ایس جی کے کمانڈر کرنل ہارون اسلام سمیت جاں نثاروں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے تو خانہ خدا کو نجات ملی۔ عوام کی ہمدردیاں مگر کسی اور کے ساتھ نہیں، مسجد کے ساتھ تھیں۔ گزرے عشرے، ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کا خون رنگ لایا تو کہیں انتہا پسندوں کی پسپائی کے دن شروع ہوئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جھوٹ کے تار وپود سے بنے بیانئے کی ٹوٹ پھوٹ کا آغاز ہوا توہم نے وہ دن بھی دیکھا جب پرامن پاکستانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اسی مسجد کے باہر سینہ سپر ہوگئے۔

ایسا مگرہر گز نہیں کہ چارسو سویرا ہوچکاہے۔ مولانا عبدالعزیز اب بھی اپنے مورچے میں موجود ہیں۔ ایک کے بعدایک حکومت خود کو ان سے بھاؤ تاؤ پر مجبور پاتی ہے۔ انتہا پسندی سے پاکستانیوں کی اکثریت بیزار ہے۔ مذہب کے نام پر مگر سڑکیں بھرنا اب بھی مشکل کام نہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کا ٹھاٹھیں مارتا دھرنا ابھی کل کی بات ہے۔ کوئی سو سال پہلے قبائلی پٹی میں تعینات ایک انگریز کپتان کی کتاب ’دی اسکاؤٹس‘ اگرچہ قبائلیوں سے متعلق لکھی گئی تھی۔ اس کے کئی باب اب بھی پاکستانیوں کے من حیث القوم مزاج کو سمجھنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ قوم کو جہالت کا طعنہ دینے کی بجائے بہتر ہو کہ ہمارے ’زر خیز دماغ‘ لبرلز، الفاظ کی نزاکتوں کو سمجھیں۔

پاکستان میں جس طرح ہر مذہبی رحجان رکھنے والے کومذہبی انتہا پسندوں کے سا تھ ملا دیا جاتاہے، بالکل اسی طرح انسانی حقوق کے علمبردار جمہوریت پسندوں کو بھی اس مخصوص گروہ (Cult) کے ساتھ گڈ مڈ کر دیا جاتا ہے جو مادر پدر آزادی کا متلاشی اور ہر معاشرے میں پایا جاتا ہے۔ جمہوریت پسند لبرلز میں سے اکثریت ان کی ہے جو گئے دنوں بائیں بازو کی سیاست کرتے تھے۔ سرد جنگ کے زمانے میں جو سوویت یونین کی چھتری تلے مغرب کو ’استعماری طاقت‘ لکھتے تھے۔ فیض کی نظمیں گاتے تھے۔ ان میں سے کچھ، نظمیں آج بھی فیض کی ہی گاتے ہیں، مگرعافیت اب اُسی ’استعمار‘ کے دارالحکومتوں میں ڈھونڈتے ہیں۔ میں مگر اب بھی جمہوریت پسندوں کو قدر کی نگاہ سے ہی دیکھتا ہوں۔ ان کو ’زرخیز دماغ‘ یونہی نہیں لکھتا۔ اب بھی انہی سے مخاطب ہوں۔

’ڈان‘ اخبار لبرلز کا ترجمان ہے۔ 8 مارچ کے پرچے میں صفحہ اول پر عورت مارچ سے متعلق چھپی اسٹوری اور ادارئیے کو پڑھ کر مجھے یوں لگا جیسے ایک طرف پاکستانی عورت کھڑی ہے جو اپنے حقوق کے لئے لڑنے کو پرعزم ہے تو دوسری جانب زور زبردستی پر آمادہ عورت پر ظلم توڑنے والے مذہبی قدامت پسند۔ ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو! کیونکہ موقع پاتے ہی صرف سراج الحق صاحب ہی نہیں، لال مسجد والے بھی سڑکوں پر تھے۔ اس کے باوجود مگر جو ایک عام پاکستانی کو نظر آیا وہ ایسا نہیں تھا۔ ’میرا جسم، میری مرضی‘ پر آپ کا استدلال سر آنکھوں پر۔ پوسٹر بھی فوٹو شاپ ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان بزرگوار کا کیا کیا جائے کہ جو کراچی کے عورت مارچ میں بیٹھے پوری سنجیدگی سے بتاتے پائے گئے کہ عورتوں کے تمام مسائل کی واحد وجہ ’نکاح‘ ہے۔

اب جب کہ دھول بیٹھ چکی تو میں ’زرخیز‘ دماغوں سے امید رکھتا ہوں کہ وہ عام پاکستانیوں کی حساسیت پر ٹھنڈے دل سے غور کریں گے۔ اگلے سال ’عورت مارچ‘ کی راہ تکنے، اور ’جاہل قوم‘ پر برہمی سے بڑھ کرہمیں پاکستانی معاشرے کی ہیئت و ساخت کو ملحوظِ خاطررکھنا ہو گا۔ پاکستانی عورت کو دنیا بھر کی عورتوں کی طرح چیلنجز کا سامنا ہے۔ انقلاب نہیں، تدریجی ارتقاء ہی عورت کے دکھوں کا مداوا ہے۔ تعلیم اور صرف تعلیم۔ ایسی تعلیم کہ جو عورت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کردے۔

معاشی آزادی میں ہی معاشرتی آزادی ہے۔ تاہم دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے کہ جہاں جہاں عورت کومعاشی و معاشرتی آزادی نصیب ہوئی طلاق کی شرح میں وہاں بوجہ اضافہ ہوا ہے۔ طلاق کا نام سن کر پاکستانی عورت کانپ اٹھتی ہے۔ ہماری عورت کا سب سے بڑھ کراگر کہیں استحصال ہے تو وہ طلاق اورتنسیخ نکاح میں در پیش شرعی اختلافات اور قانونی مشکلات سے متعلق ہے۔ محض اس معاملے میں مناسب قانون سازی ہو جانے سے ہماری لاکھوں عورتوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔

مسائل کا ایک انبوہ ہے کہ ایک اخباری کالم میں جس کا احاطہ ممکن نہیں۔ تاہم ہم سب کے لئے ان عوامل پرنظر کرنے کی ضرورت ہے کہ جن کی بناء پر ’پدر سرانہ‘ معاشرے میں ماں، بہن اور بیٹیوں سے محبت تو ٹوٹ کرکی جاتی ہے، مگر گڑگڑا کرد عائیں اولادِ نرینہ کے لئے ہی مانگی جاتی ہیں! حالتِ طیش اور زعمِ پارسائی سے نجات ملے تو ہر دو جانب ادراک ہو کہ معاملہ نا تو مادر پدر آزادی سے اور نا ہی مذہب کو ڈھال بنانے سے حل ہوگا۔ مسائل معاشرتی رویوں سے پھوٹتے ہیں اور رویے راتوں رات ٹھیک نہیں ہوتے۔ خلوص نیّت کے ساتھ ’عورت مارچ‘ اور ’حیا مارچ‘ والوں کو مل کرمعاشرے کی توازن پر مبنی تربیت کے اہتمام کی ضرورت ہے۔ سفر طویل سہی، منزل کا حصول مگر ناممکن نہیں۔

انوکھے نعروں پر مبنی پلے کارڈز اٹھائے، سڑکوں پر ڈھول پتاشے پیٹے جاتے رہیں گے تو خدشہ یہ ہے کہ اگلے سال مذہبی جماعتوں کے جلو س اب سے بڑھ کرشدو مد سے نکلیں گے کہ جن میں مرد کم اور خود خواتین زیادہ ہوں گی۔ دو انتہاؤں میں گھرے، اپنے گھروں میں دبکے پاکستانیوں کی ہمدردیاں کس کے ساتھ ہوں گی، یہ جاننا ہو تو سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں خلیل الرحمٰن قمر کودستیاب حمایت ایک اندازے کے لئے کافی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *