دینی مدارس، بچوں پر تشدد اور علمائے کرام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچوں او ربچیوں پر جسمانی، نفسیاتی اور ذہنی تشدد کی ہر شکل قابل مذمت ہے۔ ایک صحت مند معاشرے میں بچوں او ربچیوں پر بے جا تشدد اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مختلف شکلیں خوفناک منظر کشی کرتی ہیں۔ روزانہ کی بنیادوں پر بچوں اور بچیوں کے خلاف تشد دکے بڑھتے ہوئے واقعات جن میں جنسی تشدد او رزیادتی بھی شامل ہے قابل مذمت ہے۔ بالخصوص ہمارے دینی مدارس کے ماحول میں سے تشدد اور جنسی تشدد اورزیادتی کے واقعات اور زیادہ قابل گرفت ہیں۔ عمومی طور پر ہمارے ہاں بچوں اور بچیوں کے تناظر میں ہونے والے تشدد کے واقعات کو بہت زیادہ اہمیت یا ان کے بار ے میں زیادہ حساسیت یا فکر مندی نہیں پائی جاتی۔ ہم بچوں او ربچیوں سے جڑے معاملات کو محض بچوں کے معاملات سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں یا ان کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

ہمیں دینی مدارس کے تناظر میں بہت سے ایسے واقعات میڈیا کی مدد سے سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں بچوں او ربچیوں پر سخت جسمانی تشدد، ذہنی تشدد، رسیوں او رزنجیروں سے باندھنا، الٹا لٹکانا، پیٹھ کر ڈنڈے برسانا، کئی کئی دیر تک مرغا بنائے رکھنا سمیت معصوم بچوں و بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات واقعی لحمہ فکریہ ہیں۔ اگرچہ بچوں او ربچیوں پر تشدد کا رجحان محض دینی مدارس تک ہی محدود نہیں او ربھی کئی محاذ پر ہمیں اسی طرح کی پر تشدد شکلیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن دینی مدارس کے معاملات میں اس طرح کا پر تشدد طرز عمل او رزیادہ فکر مندی دیتا ہے کہ جہاں دینی تعلیمات کی بنیاد پر بچوں کی علمی و فکری صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ دینی فکر کو بھی ترویج دینا مقصد ہو وہاں اس طرز کی سطح پر مبنی واقعات اور زیاد ہ تشویش کے پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔

پاکستان میں دینی مدارس کی تعداد لاکھوں میں ہے او ران میں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ دونوں طرز کے مدارس ہیں جہاں بچیوں اور بچیوں کو مل کر بھی اور علیحدہ بھی دینی اور دنیاوی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس لیے دینی مدارس کی یہ تعداد معمولی نہیں اور اس وجہ سے ان کی اہمیت بھی ہے او ران کے معاشرتی کردار کو کسی بھی شکل میں نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے قبل حکومت نے 2005 میں رسمی اسکولوں کی سطح پر بھی استاد کی جانب سے بچوں او ربچیوں کو مارنے یا پیٹنے پر پابندی لگادی تھی۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں ان رسمی سرکاری او رغیر سرکاری اسکولوں میں اب بھی تشد د کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں تو مار پیٹ سے روکنے کا قانون موجود ہے مگر کیا اس قانون کا اطلاق دینی مدارس کی سطح پر بھی ہوسکتاہے یا ان کے لیے کوئی قانون نہیں۔

ہمارے دینی مدارس اور علمائے کرام سمیت پاکستان میں موجود مذہبی سیاسی جماعتیں یا ان کے حامی اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں یا اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے کہ دینی مدارس کی سطح سے اٹھنے یا نظر آنے والے واقعات داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر ہماری کس حد تک رسوائی کا سبب بنتے ہیں۔ پاکستان میں وہ طبقہ جو مذہب یا مذہبی سیاست یا دینی مدارس کے خلاف ہے وہ اسے کس انداز سے پیش کرتا ہے او رکس انداز سے ہماری مذہبی فکر کی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب بچوں او ر بچیوں کے خلاف دینی مدارس سے پرتشدد واقعات سامنے آتے ہیں تو سب سے کمزور ردعمل ہمیں ان ہی دینی مدارس یا مذہبی جماعتوں کی طرف سے آتا ہے۔ بعض اوقات تو یہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ہماری دینی مدارس او رمذہبی قیادت اس مسئلہ کی حساسیت کو سمجھنے کو بجائے اسے محض دینی مدارس کے خلاف جاری مہم کے تناظر میں دیکھ کر ان معاملات پر پردہ پوشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم اس پہلو کو مکمل طور پر یا تو نظر اندازکردیتے ہیں یا اس کی اہمیت سے لاعلم ہیں اس مارپیٹ اور پرتشدد رجحانات سے ہم کس طرح کے بچوں اور بچیوں کو پیدا کررہے ہیں او ران پر اس تشدد کا کیا نفسیاتی اثر ہوتا ہے۔ بنیادی طو رپر بچوں کے خلاف مارپیٹ، تشدد یا سزا کو ہم اصلاح کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ مسئلہ اصلاح سے زیادہ او ربگاڑ کا شکار ہوجاتا ہے۔ بہت سے بچے او ربچیاں دینی مدارس یا اسکولز کا نام سن کر ہی خوف زدہ ہوجاتے ہیں او ران میں ڈر اور خوف اس انداز سے بیٹھ جاتا ہے کہ وہ کچھ بھی کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔

بعض بچے او ربچیاں تو اسی ڈر او رخوف کی بنیاد پر دینی یا رسمی تعلیم بھی حاصل کرنے سے گریز کرتے ہیں اور دوران تعلیم ہی ان اداروں سے خود کو علیحدہ کرلیتے ہیں۔ بعض بچے او ربچیاں تو مستقل بنیادوں پر نفسیاتی امراض کا شکار ہوجاتی ہیں او ران کے روزمرہ کے طرز عمل میں اس کی منفی جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

ایک وجہ یہ بھی کہ ہماری رسمی یا دینی تعلیم میں سے تربیت کا عمل بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ گھر، تعلیمی ادارے او ردینی اداروں میں سے ہمیں تعلیم تو مل رہی ہے مگر تربیت کا فقدان غالب نظر آتا ہے۔ یہ معاملہ محض بچوں او ربچیوں تک محدود نہیں بلکہ والدین سمیت استاد بھی بنیادی نوعیت کی تربیت سے محروم ہے۔ بچوں او ربچیوں کی تعلیم میں نفسیات کی کیا اہمیت ہوتی ہے او ربچیوں او ربچیوں کے معاملات کو نفسیاتی بنیادوں پر کیسے نمٹا جاتا ہے اس کی بھی کوئی تربیت نہیں۔ بیشتر رسمی یا دینی مدارس کے استاد اپنی نفسیاتی مسائل کو بنیاد بنا کر اسی منفی انداز سے بچوں او ربچیوں کو تعلیم دیتے ہیں جو کچھ ماضی یا حال میں ان کے ساتھ ہوا ہوتاہے یا ہورہا ہوتا ہے۔

اصولی طور پر دینی مدارس سے جڑی قیادت اورخاص طور پر مذہبی جماعتیں پہلے تو یہ تسلیم کریں کہ بچوں او ربچیوں پر بے جا تشدد او رجنسی طور پر زیادتی کے واقعات رونما ہوتے ہیں، تب ہی اس کا ادراک ممکن ہوسکے گا۔ ہمارے علمائے کرام اور مذہبی جماعتوں کو مدارس میں پڑھانے والے ایسے استادوں کی نشاندہی کرنی پڑے گی جو بچوں او ربچیوں کے ساتھ مارپیٹ سمیت زیادتی کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں او ر ان کو خود احتساب کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔

اسی طرح ان کو اپنے مدارس سے جڑے داخلی نظام کی کڑی نگرانی کرنی ہوگی کہ ایسے واقعات کون کرتے ہیں او رکیوں کرتے ہیں۔ استادوں او رطالب علموں کو نفسیاتی تربیت کے عمل سے گزانا ہوگا اور ان میں اخلاقی معیارات کو بنیاد بنا کر کام کرنا ہوگا۔ علمائے کرام اپنی مذہبی تعلیمات، درس قران و حدیث اور تقاریر سمیت جمعہ کے خصوصی واعظوں میں بچوں او ربچیوں کے ساتھ بہتر سلوک پر درس دیں کہ بچوں او ر بچیوں کے ساتھ بہتر سلوک اور تحفظ کو کیسے یقینی بنانا ہے۔

اسی طرح حکومت کو بھی دینی مدارس کی اصلاحات پر توجہ د ے کر بچوں او ر بچیوں کے خلاف ہونے والے ہر قسم کے تشدد کے خاتمہ کو بھی اہم نکات میں ڈالنا ہوگا او راس میں خود علمائے کرام سے مشاورت کرکے بڑھا جائے۔ حکومتی سطح پر ایک باقاعدہ ایسا پورٹل ہونا چاہیے جہاں بچے یا بچیاں یا والدین ایسے استادوں کی شکایت درج کرواسکیں جو تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔ اسی طرح پرنٹ، الیکٹرا نک اور شوشل میڈیا کی مدد سے ہمیں بچوں اور بچیوں کے بنیادی حقوق، تربیت سے جڑے سوالات کو اٹھاناہوگا او رہمارے ڈراموں، فلموں اور اشتہارات سمیت کرنٹ افیرز کے عمل میں ان امور پر توجہ دینی ہوگی۔

والدین کو بھی اپنے بچوں اور بچیوں کی نگرانی کرتے ہوئے دینی مدارس کے ماحول سے خود کو آگاہ رکھیں اور نگرانی کریں کہ ان کا بچہ یا بچی کس ماحول میں پڑھارہے ہیں۔ کیا یہ ضروری ہے کہ اگر کوئی بچہ یا بچی غلطی کرے تو اس کا واحد علاج جسمانی تشدد ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ہم بچو ں اور بچیوں کی اصلاح میں تشد د سے پاک حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے کسی بھی سطح پر تیار نہیں۔ بعض اوقات تو ایسے لگتا ہے کہ ہمیں بطور استاد خوداپنے اندر کے بہت سی محرومیوں کی وجہ سے بچوں پر بے جا تشدد کرتے ہیں اور ایسے میں ہمیں خودنفسیاتی تربیت کی ضرورت ہے۔

برحال مذہبی جماعتیں، قیادتیں اور مدارس سے جڑے استاد کم ازکم اپنے کردار میں بہتر پہلو پیدا کرکے خود اس مسئلہ کے حل میں ایک بڑا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وہ ثابت کرسکتے ہیں کہ اس سماجی مسئلہ جس کا تعلق براہ راست بچوں او بچیوں سے جڑا ہوا ہے ہم موجودہ ماحول کو چیلنج کرتے ہیں او رایسے ماحول کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے جو بچوں او ربچیوں کو بغیر کسی ڈر اور خوف کے سماجی تحفظ دے سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *