روز دال کھا کھا کر دل بھرگیا ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ کہتی ہے کہ جس معاشرے میں عورت کی ہمدردی میں بھی جو مثال دی جائے تو اس میں بھی اسے نیچ کمزور دکھایا جائے یہ ہمدردی نہیں ہے۔ عورت سے ہمدردانہ باتوں میں بھی کہیں نا کہیں اسے مستحق اور کمزور دکھایا گیا ہے۔ یونہی باتوں باتوں میں پھر اس نے مجھے کہا کہ دیکھو میاں، ابھی حال ہی میں ”عورت مارچ“ پر ایک مثال ہر زبان زد عام تھی کہ

”بکری نے چرواہے سے آزادی مانگی بھیڑیے نے سب سے پہلے ہمایت کی“

مجھے اس بات پر سے کبھی بھی اختلاف نہیں ہے کہ حق تلف کرنے والے اگر حقوق کے لئے نکلیں تو کہیں نا کہیں کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔ مجھے اس بات پر بھی اعتراض نہیں کہ ایسی نیت کو آپ بھیڑیے سے تشبیح دیتے ہیں۔ لیکن آپ پھر بھی عورت کو تو بھیڑ بکری ہی سے تشبیح دے رہے ہیں۔ مسئلہ یہی ہے۔ کیوں کہ اگر وہ بھیڑ بکری بھیڑیے سے بچ گئی تو مالک (چرواہا) اسے بیچ دے گا، یا تحفتا دے دے گا کسی کی خوش نودی حاصل کرنے کے لئے، یا پھر جب دل چاہا ذبح کردے گا۔

جب تک رکھے گا ساران دن ہانکتا پھرے گا شام کو ایک جگہ بند کردے گا۔ تو آپ نے اسے بھیڑ بکری بناکر، بھیڑیے سے بچا کر اس بھیڑ بکری سے کیا اچھائی کی چرواہا بھی تو اسے کچھ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا، ہاں تحفظ دیتا ہے، کھانا دیتا ہے اور بعد ازاں اپنی ضروریات پر قربان بھی کردیتا ہے۔ آپ کی ہماری سوچ کا یہی تو فرق ہے۔ نا ہی مرد چرواہا ہے نا ہی عورت بکری۔ عورت مرد برابر ہیں کوئی صنفی غیرمساواتی فقرہ بازی یا اقوال گفتار قابل قبول نہیں ہے۔

دیکھو عورت کو کسی بھیڑیے کا خوف نہیں عورت کو کسی چرواہے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ عورت آپ کو تخلیق کرتی ہے، تب آپ کی حفاظت کرتی ہے جب آپ انتہائی نازک عمر میں ہوتے ہیں۔ جب آپ کو زرہ سے سردی، گرمی، ہوا، دھوپ بھی ختم کر سکتی ہے۔ آپ کو اس وقت وہ تحفظ دیتی ہے اور آپ تھوڑے بڑے ہوکر اور اس کے محافظ ہونے کا دعوی کرتے ہیں آپ سوچیں اور اپنے رویے اور سوچ بدلیں۔ اس معاشی نظام میں آپ کسی بھی انسان کو آزادی نہیں دلوا سکتے۔ یہ طبقاتی مسئلہ ہے ایک طبقہ ہے جو انہی شہروں میں پھلتا پھولتا ہے لیکن اس کی عورت کو کوئی روک ٹوک نہیں سماجی جبر نہیں، رسموں کا کوئی پھندہ اسے کے گلے میں نہیں پڑتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک طبقے کا تاریخ استحصال کرتی آئی ہے اور کرتی رہے گی اس طبقے کا مرد بھی آپ کو حق مانگتا دکھائی دیگا۔

آپ کو پتا ہے کہ کتنے لڑکے ہیں جو معاشی بدحالی اور کلچر کی بھینٹ چڑھ کر خود کو جنسی استحصالی عناصروں کے حوالے کرتے ہیں۔ خواجہ سراؤں کا استحصال ہو رہا ہے جہاں معاشی استحصال ہو وہا آپ جنسی طور پر استحصال ہونے سے عورت کو آزادی دلوانے کے لئے کچھ بھی کریں کچھ نہیں ہوگا۔ آپ کیا کریں گے؟ بھوک تہذیب کو روند ڈالتی ہے۔ بھوک ضمیر کو تابوت میں بند کر کہ کیل ٹھوک دیتی ہے آپ نے دیکھا کہ گزشتہ دنوں ٹھٹہ میں بارہ سالا لڑکی پچاس سال کے جاگیردار سے مرضی کی شادی کر رہی تھی۔

والدین نے اسے بیچا جب پولیس نے چھاپہ مارا تو لڑکی نے کہا کہ میری مرضی سے شادی ہو رہی ہے آپ بیچ میں کیوں ٹانگ اڑا رہے ہیں۔ ظاہر ہے ان والدین کو اس زمیدار کی کھتی کرنی ہے بقایہ زندگی وہیں گزارنی ہے آپ کتنے دن ان کے ساتھ ہوں گے اور قانون کتنے دن اس زمیدار کو اندر رکھے گا؟ آخر وہ آزاد ہوکر آئے گا اور اس خاندان کو سبق سکھا دے گا اور آپ کا قانون ہاتھ ملتا تماشا دیکھتا کھڑا رہے گا کوئی فریادی نہیں ملے گا جو کیس داخل ہو!

اب اس بارہ سال کی لڑکی کو آپ نے دیا کیا ہے؟ دو وقت کھانہ ٹھیک سے نہیں مل سکا اسے گھر میں، اچھی تعلیم دلوانے، زندگی کی اوچ نیچ سے واقف ہوتی، میڈیکلی جانتی کہ کیا اچھا ہے میرے لیے اور کیا برا؟ اس بیچاری کو اتنا پتا ہے کہ شریعت میں پہلی ماہواری ماں باپ کے گھر دوسری شوہر کے گھر آنی چاہیے وہ تو بیچاری ڈرتی پھر رہی ہے کہ پتا نہیں خدا بھی ناراض ہو کر بیٹھا ہوگا مجھے تو کافی ماہواریاں ماں باپ کے گھر آگئی ہیں۔

خیر بات ہو رہی تھی رویوں کی۔ آپ آزادی نا دیں ڈھنگ سے بات تو کریں۔ پھر بھی عورت جی لے گی۔ لیکن کہاں۔ اب پتاہے میرا شوہر ہر رات چاہتا تھا کہ میں اسے کنواری لڑکی کی طرح ملوں۔ کافی عرصہ تک اس کی خوشی کے لئے سب کچھ سہا پھر وہ وقت آیا جب فیصلہ کیا کہ اب نہیں ہوتا یار۔ میں اب نہیں سہہ سکتی تھی۔ وہ مجھے ہر روز ایک طعنہ دیتا ہے کہ ”روز دال کھا کھا کر دل بھرگیا ہے“ پتا ہے میں بقول زمانہ عورت، صنف نازک، بھیڑ بکری، کمزور، خرگوش کی کھال، وغیرہ وغیرہ۔

اتنی بڑی توہین سن کر بھی برداشت کرتی آئی ہوں۔ جواب نہیں دیا۔ جانتی ہوں وہ مضبوط ہے مرد ہے بڑی برداشت ہے کتنا بھی بڑا مرد ہو اس کا جواب نہیں سن سکتا۔ سوچو میں بھی اسے کہہ دوں کہ میں بھی ”روز دال کھا کھا کر تھک گئی ہوں“ تو؟ روز وہی سبزی کھا کھا کر میرا دل بھی بھر گیا ہے تو؟ اس وقت اس کا زناٹے دار تھپڑ اور پھر اس کا غضب وہ قتل یا پھر کم سے کم سزا طلاق پر رکتا۔ وہ مجھے برداشت کرنا پڑتا کیوں کہ مرد مضبوط ہے بہادر ہے عورت کے ایک لفظ سے پہاڑ کی طرح پھٹ جاتا۔ سوچو کتنی عورتوں نے تمہاری بہادری مردانگی کا پردہ رکھا ہوا ہے۔

وہ مجھے رات کو رنڈی اور دن میں پارسا دیکھنا چاہتا ہے۔ میں اس کی ہر ناجائزی پر خاموش رہتی ہوں تو شریف اور عزت دار کہلاتی ہوں۔ میں جتنے دن ظلم ستم برداشت کر سکتی ہوں اتنے دن عزت دار رہوں گی جس دن انکار کیا اس دن میں وئشیا، رنڈی، رکھیل، بے حیاء کہلاونگی۔ سنا تو ہوگا اس ملک میں جو عورت بولتی تھی اس کو کیا کیا خطاب ملے۔ میں نام نہیں لونگی۔ اچھا چھوڑو آگے سنو! وہ چاہتا ہے کہ رات کو اس مخصوص ٹائم پر میں اسے کسی وئیشا کی طرح ملوں۔ ایسے وئیشا جو اپنے فحش انداز سے کسی مرد کو مطمئن کرسکے۔ اگر نا کر سکی تو آگے سے جواب ملتا ہے کہ ہم تو لاش کے ساتھ جیون بتا رہے ہیں۔

آج تو وقت گزرگیا ہے۔ اب تو کچھ اور ہی سننا پڑتا ہے۔ باسی گوشت، بھینس، وغیرہ وغیرہ

آج میرے بوسیدہ گال، جھریوں سے بھرے ہونٹ، سخت ہاتھ، ڈھلکے ہوئے پستا اس کے چومنے کے قابل ہی نہیں رہے۔ اس کی اذیتوں نے مجھے وقت سے پہلے بوڑہا کردیا۔ اس نے مجھ سے مشین کا کام لیا۔ میں اس کے سامنے رات کو رنڈی اور دن میں نوکرانی کی طرح رہی۔ اور اس بندہ پرور نے بھی کبھی انسان سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ کاش میرے اندر بھی جھانک کر دیکھتا۔ اب تو میرا بوسیدہ جسم اس کے قابل ہی نہیں رہا۔ اب تو کبھی کبار ہی اس کے طعنے سننے کو ملتے ہیں۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply