احتساب عدالت نے میر شکیل الرحمان کو 12 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا


احتساب عدالت نے جیو اور جنگ کے مالک میر شکیل الرحمان کو 12  روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے اور 24 مارچ کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سماعت کے دوران عدالت نے نیب پراسیکوٹر سے سوال کیا کہ میر شکیل الرحمان کو گرفتار کیوں کیا؟ پراسکیوٹر حافظ اسد اللہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2019 میں میر شکیل الرحمان کے خلاف تحقیقات شروع کی، میر شکیل نے 1986 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف سے ایک ایک کنال کے 54 پلاٹ حاصل کیے۔ ایل ڈی اے کے پلاٹ غیر قانونی طریقے سے اپنے نام کروائے گئے۔

اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے پاس میرشکیل الرحمان کو گرفتار کرنے کا اختیار نہیں۔ نیب کے چیئرمین نے وارنٹ گرفتاری پر دستخط کیے۔ ہمیں ابھی تک وارنٹ گرفتاری نہیں دیا گیا۔ 34 سال بعد میرشکیل الرحمان کو گرفتار کیا گیا جو بدنیتی ثابت کرتا ہے، میرشکیل الرحمان نے ایل ڈی اے سے زمین نہیں خریدی، زمین تیسرے بندے سے قانون کے مطابق خریدی گئی۔ میرے موکل کی زمین میں کسی بھی قسم کا قانونی سقم نہیں ہے۔

اعتزاز احسن کا کہناتھا کہ میرے موکل کا نام میر شکیل الرحمان ہے اس وجہ سےاسے گرفتار کیا گیا۔ کچھ لوگ میرے موکل سے پرخاش رکھتے ہیں۔ نیب نے میرشکیل الرحمان کو کوئی نوٹس نہیں دیا۔ بزنس مین کو طلب کرنے سے پہلے قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ خلاف قانون کارروائی نیب کی بدنیتی کو ظاہر کرتی ہے۔ نیب نے 28 فروری کو میر شکیل الرحمان کی طلبی کا نوٹس دیا۔ میر شکیل الرحمان نے کس طرح قانون کی خلاف ورزی کی؟ میر شکیل الرحمان نے پرائیوٹ افراد سے زمین خریدی، میر شکیل الرحمان کو تنقید کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ نیب نے جب میر شکیل الرحمان کو طلب کیا، وہ پیش ہوگئے۔ 12 مارچ کو دوبارہ میر شکیل الرحمان نیب کے سامنے پیش ہوئے۔ میر شکیل الرحمان نیب کے سوالوں کے جواب لیکر گئے تھے۔ اعتزاز احسن  کے مطابق نیب نے میر شکیل الرحمان سے کوئی بات نہیں پوچھی،  بس یہ کہا کہ چیئرمین نیب کے حکم پر آپ کوگرفتار کیا جاتا ہے۔ نیب نے میرشکیل الرحمان کا موقف نہیں سنا اور گرفتار کر لیا۔ شاہد خاقان عباسی کو بھی نیب نے اسی طرح گرفتار کیا تھا۔

نیب کی جانب سے پراسیکیوٹر حافظ اسد اعوان نے دلائل دیئے۔ سماعت کے آغاز پر اعتزاز احسن نے عدالت سے اپنے موکل میر شکیل الرحمان سے ملاقات کی اجازت مانگی اور کہا کہ ابھی وکالت نامے پر دستخط کیے ہیں۔ مجھے میرے موکل سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے اعتزاز احسن کی درخواست قبول کرتے ہوئے الگ ملاقات کی اجازت دے دی اور سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کی۔ سماعت دوبارہ شروع ہونے پر احتساب عدالت نے میر شکیل الرحمان کو 12 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔

Facebook Comments HS