پی ٹی آئی حکومت کیسے ناکام ہوئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ٹی آئی کی سیاست احتساب اور بدعنوانی کے گرد گھومتی ہے مگر ابھی تک وہ ان دونوں پر اپنی گرفت مضبوط نہیں کر سکی وجہ اس کی یہی بتائی جاتی ہے کہ اس میں قابل احتساب افراد کی کثیر تعداد موجود ہے اور وہ حکومت کو ”قابو“ میں کیے ہوئے ہے اسے اقدامات متعلقہ کرنے نہیں دے رہی۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت بیانات پے بیانات کس لیے دے رہی ہے کہ کسی بدعنوان کو نہیں چھوڑا جائے گا؟

ایسا لگتا ہے کہ حکومت بے بس ہے اسے مافیاز نے ایک حد تک غیر فعال کر دیا ہے لہٰذا وہ نفسیاتی طور سے عوام کو اطمینان دلانے کی کوشش میں ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کر دکھائے گی بس انہیں حوصلہ رکھنا ہے گھبرانا نہیں جبکہ صورت حال روز بروز خرابی کی طرف بڑھ رہی ہے شاید اہل اقتدار و اختیار کو اس کا ادراک نہیں اور اگر ہے بھی تو اسے عوام کی کوئی فکر نہیں وہ جس حال میں بھی رہیں انہیں کیا؟

اگرچہ وزیراعظم عمران خان جب کہتے ہیں کہ وہ عوام کے روز مرہ کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دیں گے مگر اس کے اگلے ہی روز چیزوں کے دام بڑھ جاتے ہیں ثابت یہ ہوا کہ انتظامی ڈھانچہ کمزور ہے یا وہ دانستہ اپنے فرائض کی ادائی میں کوتاہی برت رہا۔

میں ایک خبر پڑھ رہا تھا کہ پٹواریوں کو پھر فعال کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اب اگر پٹواری دوبارہ مکمل طور سے با اختیار ہو جاتے ہیں۔ تو غریب لوگوں کی کھال نہیں ادھیڑ دیں گے اس وقت جب ان کے پاس اختیارات کی کمی ہے تب بھی وہ چھینا جھپٹی میں مصروف ہیں۔ پچھلی حکومت نے بڑی حد تک ان کے ظلم سے عوام کو نجات دلانے کے لیے ایک نیا انتظام متعارف کروایا مگر اب پھر بدعنوانی کا باقاعدہ راستہ کھولا جا رہا ہے؟

شروع میں عرض کر چکا ہوں کہ پی ٹی آئی کی سیاست احتساب اور بدعنوانی کے گرد گھومتی ہے مگر وہ دونوں میں ناکام ہے یعنی وہ احتساب کر سکی ہے نا بدعنوانی کو روک سکی ہے جن کا احتساب ہونا ہے وہ دندناتے پھرتے ہیں اور جو بدعنوان ہیں وہ پہلے سے زیادہ فعال ہیں انہیں کسی کا کوئی خوف نہیں۔ بیواؤں، کمزوروں اور یتیموں کی جائیدادوں مکانوں اور زمینوں پر قبضے ہوتے ہیں سرکاری دفاتر میں رشوت کا بازار سجا ہوا ہے۔ ملازمین اپنی من مرضی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ ہے نیا پاکستان مگر ہمارے ہر دلعزیز وزیراعظم وعدے پے وعدہ کیے جا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ کہتے چلے جا رہے ہیں اچھے دن آنے والے ہیں وہ آئیں گے جب آئیں گے اب لوگ کیا کریں ان کا جینا تو محال ہو چکا ہے کوئی داد فریاد نہیں محکمہ پولیس میں انصاف کی کوئی چیز نہیں کسی کی سفارش ہے یا وہ کسی اہلکار کی جیب گرم کر سکتا ہے تو وہ انصاف حاصل کر سکتا ہے وگرنہ وہ آہیں بھرتا ہے اور خود کو کوستا ہے۔ ایک عدم تحفظ کی لہر سی ابھر چکی ہے کہ کوئی معاشی اعتبار سے غیر محفوظ ہے اور کوئی جانی لحاظ سے۔

یہ سب کب ٹھیک ہو گا، ہو گا بھی یا نہیں شاید کسی کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ ہر طرف ایک سنسنی سی پھیل چکی ہے۔ مایوسی نے ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اپنی روایتی سیاست کا دور دورہ ہے جو ماضی میں تھا کہ عوام کو نظر انداز کرو وہ تو کمزور ہوتے ہیں انہیں جبراً اپنے مطابق بنایا جا سکتا ہے وہ احتجاج کریں تو ان کو پولیس کے ذریعے روک دیا جائے ان پر مقدمات قائم کر دیے جائیں اور جو مزدور و ملازم بھی واویلا کرے اسے نوکری سے برخواست کر دیا جائے۔

اب مگر صورت حال اور بھی گھمبیر ہے کہ آوازوں پر پابندی کا سوچا جا رہا ہے جبکہ یہی آوازیں تھیں جو کہہ رہی تھیں کہ ”تبدیلی کو آنے دو“ مگر اب وہ سماعتوں کو ناگوار گزرتی ہیں۔ بہرحال حکومت و فاقی بالخصوص پنجاب حکومت کے ترجمانوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ حکمران عوام کے مسائل سے بے خبر نہیں ہیں وہ انہیں سہولتیں دینے کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ نئے پراجیکٹس پر کام کا آغاز ہو چکا ہے جو چند ماہ بعد نتائج دینے لگیں گے چلئے وہ بھی دیکھ لیں گے ابھی تو ایسی کوئی امید نہیں نظر آ رہی جو سامنے ہے وہ یہ کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت نیچے آ چکی ہے اور اگر یہ سب آگے بڑھتا ہے تو اس سے بھی کم ہو جائیں گے مگر حیرت ہے حکومت نے اس تناسب سے یہاں قیمتوں کو کم نہیں کیا ہو سکتا ہے چند روز بعد وہ اس حوالے سے کچھ کرے پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب وہ قیمتیں کم کر رہی ہو تو اوبیک کے ارکان کوئی ایسا فیصلہ کر لیں جس سے دوبارہ تیل کی قیمت میں اضافہ ہو جائے کیونکہ روس کے صدر پیوٹن منڈی میں استحکام لانے کے لیے اوبیک سے تعاون کرنے کو تیار ہو گئے ہیں لہٰذا صورت حال مختلف ہو سکتی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ اگر عوام کو کوئی ریلیف دینے کا ارادہ رکھتی ہے تو اسے چاہیے کہ مصنوعی ابھار پر قابو پائے اگرچہ وہ ریلیف دینے کا پچھلے دو ماہ سے کہہ رہی ہے مگر ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ہاں البتہ جو اسے حزب اختلاف کی جانب سے ”سیاسی خطرات“ نظر آ رہے تھے انہیں کنٹرول کرنے میں ضرور کامیاب ہونے کے قریب ہے کہ اب بعض عوامی نمائندے جو حزب اختلاف سے تعلق رکھتے ہیں اس کے پہلو میں بیٹھنے لگے ہیں۔ انہیں عوام کی خدمت کے لیے فنڈز بھی فراہم کیے جائیں گے۔ مزید بھی رابطے بتائے جا رہے ہیں۔ اب جب فنڈز کی فراہمی شروع کرنے کا پروگرام بنایا جا چکا ہے تو یقینا اس کا نتیجہ مثبت برآمد ہو گا مگر کیا عوام کو کچھ ملے گا تعلیم، صحت، انصاف، مہنگائی سے چھٹکارا اور بیروزگاری سے نجات۔

فنڈز سے صرف گلیاں نالیاں اور سڑکیں تعمیر و مرمت کرنا کافی نہیں لوگوں کے سلگتے مسائل کو ختم کیاجائے۔ بہر کیف پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری حکومت پر تابڑ توڑ سیاسی حملے کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ”عوام کے جو حقوق مشرف اور ضیاء الحق نے نہیں چھینے تھے وہ اس حکومت نے چھین لیے ہیں۔ بلاول بھٹو نت اپنی سیاست کا ایک نیا انداز پیش کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ سنجیدہ سیاست کاری کی طرف بڑھ رہے ہیں اور پھر ہو سکتا ہے وہ موزوں قرار پا جائیں خیر یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا ابھی انہیں کچھ پگڈنڈیوں، راستوں اور شاہراہوں پر چلنا ہے۔

حرف آخر یہ کہ حکومت عوامی مشکلات پر اس وقت تک قابو نہیں پا سکتی جب تک وہ پوری یکسوئی کے ساتھ ان کے خاتمے کے لیے غور نہیں کرتی اور اپنے اندر کی بے چینی سے متعلق نہیں سوچتی سب سے اہم بات یہ کہ وہ یوٹرن سیاست کو خیر باد نہیں کہہ دیتی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *