میر شکیل الرحمان کی گرفتاری، صحافت پر حملہ کیوں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے دعویٰ کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو ایک خود مختار ادارہ ہے۔ اس کے کسی اقدام سے حکومت کا تعلق جوڑنا درست نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جنگ و جیو گروپ کے چیف ایڈیٹر و مالک میر شکیل الرحمان کی گرفتاری آزادی صحافت پر حملہ قرار نہیں دی جاسکتی۔ اور ایک سیٹھ کی گرفتاری کو صحافتی آزادی سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔
فردوس عاشق اعوان کی اس بات سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ مالی معاملات میں کسی بھی شخص کی گرفتاری کو آزادی صحافت سے نتھی کرنا درست نہیں ہے۔ اس ملک کے باقی سب شہریوں کی طرح میڈیا مالک ہوں، اینکر ہوں یا صحافی کے طور کسی دوسری پوزیشن پر کام کرنے والے لوگ ہوں ، انہیں اپنے اعمال کا حساب دینا چاہئے۔ اس اصول کو مان لینے کے بعد اگر وفاقی معاون خصوصی کے بیان، پریشانی اور تبصرے پر نظر ڈالی جائے تو یہ سوال سامنے آتا ہے کہ اگر میر شکیل الرحمان کو ان کے صحافتی پس منظر یا ایک بڑے میڈیا گروپ کے مالک کے طور پر گرفتار نہیں کیا گیا تو وزیر اعظم کی معاون خصوصی نے ان کے صاحبزادے میر ابراہیم کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کیوں کی؟ اس کا اعتراف فردوس عاشق اعوان نے خود اپنی پریس کانفرنس میں کیا ہے۔ کیا حکومتی اہل کار اور وزیر اعظم کے ساتھی ملک کے کسی بھی شہری کے خلاف نیب کی کارروائی کے بعد اس کے لواحقین سے رابطہ کرکے انہیں اپنی ’غیر جانبداری‘ کا یقین دلوانے کی کوشش کرتے ہیں؟ اگر یہ خصوصی رویہ میر ابراہیم کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے تو اس کی اصل وجہ بتانا بھی ضروری ہے۔
حکومت جانتی ہے کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کو ان کے ادارے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران حکومت اور مقتدر حلقوں کے ساتھ ان کے اختلافات کے تناظر میں ہی دیکھا جائے گا۔ درحقیقت ان کی گرفتاری کا تعلق 34 برس قبل املاک کے لین دین سے نہیں ہے بلکہ درج زیل دو نکات کی وجہ سے اس معاملہ کو سامنے لانے کی کوشش کی جارہی ہے:
1)میر شکیل الرحمان ایک ایسے میڈیا گروپ کے مالک ہیں جو متعدد کوششوں اور مالی دباؤ کے باوجود پوری طرح حکومت اور اسٹبلشمنٹ کی تابعداری پر تیار نہیں ہؤا۔ اسی لئے وزیر اعظم اور ان کے ساتھی تسلسل سے جنگ گروپ کو نواز شریف کا زرخرید قرار دے کر اسے سبق سکھانے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔
2) میر شکیل الرحمان پر جو مقدمہ قائم کیا گیا ہے ، اس میں دراصل نواز شریف کو مورد الزام ٹھہرانا مقصود ہے۔ کیوں کہ نواز شریف کے خلاف دیگر متعدد معاملات میں نیب یا حکومت کچھ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی ۔ اس لئے انہیں کچھ ایسا نیا مواد چاہئے جس کی وجہ سے نواز شریف کے خلاف ’بدعنوانی‘ کا سیاسی مقدمہ بدستور جاری رکھا جاسکے۔ یہ مقصد نیب اور پیمرا جیسے نام نہاد خود مختار اداروں کو استعمال کرکے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اطلاعات و نشریات کی معاون خصوصی نے ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا ہے کہ قومی احتساب بیورو ایک خود مختار ادارہ ہے جو اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔ اسے حکومت کی ہدایات موصول نہیں ہوتیں۔ بیان کے اس حصے پر بھی دو سوال سامنے آتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکومت کو کیوں بار بار نیب کی خود مختاری کا اعلان کرنا پڑتا ہے؟ اور نیب کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان سے کیوں ملاقات کی تھی؟ اور اس کے بعد کیوں یہ دونوں ایک دوسرے کی تعریف میں رطب اللساں رہے تھے؟ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیب صرف سیاسی اپوزیشن اور ان میڈیا گروپس کو ہی کیوں نشانہ بنا رہا ہے جنہیں وزیر اعظم عمران خان اپنا دشمن قرار دیتے ہیں۔
وزیر اعظم کی معاون خصوصی کا میر شکیل الرحمان کی گرفتاری پر بیان اس لحاظ سے بھی تشویش کا سبب ہونا چاہئے کہ نیب نے ملکی قانون کے تحت ایک شخص کو گرفتار کیا ہے اور عدالتیں اس معاملہ میں سچ یا جھوٹ سامنے لانے کا مجاز ادارہ ہیں۔ ایسے میں فردوس عاشق اعوان کس بنیاد پر یہ قرار دے سکتی ہیں کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری مالی بدعنوانی کی وجہ سے ہوئی ہے، اس کا صحافتی آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر عدالتی کارروائی کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ میر شکیل الرحمان کو کسی قانونی میرٹ کی بجائے جنگ گروپ کے دعوے کے مطابق صحافتی دیانت داری پر سزا دینے کے لئےگرفتار کیا گیا ہے، تو حکومت اور اس کے نمائیندے اپنی غلط بیانی پر کس سے معافی مانگیں گے؟ یا اپنے لئے کیا سزا تجویز کریں گے۔
میر شکیل الرحمان نے نیب کے اس مؤقف کو مسترد کیا ہے کہ انہیں1986 میں نواز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ وہ پلاٹ الاٹ کئے تھے جن کی ملکیت کے حوالے سے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے وکیل اعتزاز احسن نے آج احتساب عدالت کو بتایا کہ یہ پلاٹ دو شہریوں سے خریدے گئے تھے جس کی دستاویزات بھی نیب کو فراہم کردی گئی ہیں۔ تاہم نیب نے میر شکیل الرحمان کا مؤقف سنے بغیر انہیں غیر قانونی طور پر گرفتار کر لیا۔ یہ اسی طرح کا اقدام تھا جو گزشتہ برس سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کرتے ہوئے اختیار کیا گیا تھا اور آٹھ ماہ زیر حراست رکھنے کے باوجود نیب عدالت میں کچھ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہؤا۔ لہذا اسلام آباد ہائی کورٹ کو ان کی ضمانت لینا پڑی۔ اب میر شکیل کے معاملے میں نیب ایک بارپھر جائیداد کے اس معاملہ کا تعلق نواز شریف کے دور میں ہونے والی ’بدعنوانی‘ سے جوڑنا چاہتا ہے۔ اس قسم کے ہتھکنڈے غیر قانونی ہونے کے علاوہ غیر اخلاقی بھی ہیں۔ کیوں کہ ان میں کسی خاص شخص کو ملوث کرنے کے لئے تیسرے فریق کو ہراساں کیا جاتا ہے۔
سابقہ ادوار میں صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی طرف سے فلاحی اداروں یا میڈیا کو پلاٹ عطیہ کرنے کی روایات موجود رہی ہیں۔ اسی قسم کے عطیات عمران خان خود بھی شریف برادران سے وصول کرچکے ہیں۔ نواز شریف نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر 1990 میں لاہور کے شوکت خانم ہسپتال کے لئے پلاٹ دیا تھا۔ اسی طرح شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ 2013 میں نمل یونیورسٹی کے لئے ایک ہزار ایکڑ اراضی دی تھی۔ اسی پالیسی کے تحت صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز کو بھی مختلف ادوار میں پلاٹ یا نقد تحائف عطیہ کئے جاتے رہے ہیں۔ اگر یہ طریقہ غلط تھا اور اختیارات کا یہ استعمال اس وقت کے مروجہ قوانین کے مطابق درست نہیں تھا تو صرف جنگ گروپ اور میر شکیل الرحمان ہی کی تحقیقات کرنے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے بلکہ ان تمام پلاٹوں کا جائزہ لینا چاہئے جو کسی بھی حکمران نے کسی بھی مقصد سے کسی کو بھی الاٹ کئے تھے۔ انصاف پر مبنی یہ پالیسی اختیار کئے بغیر ایک میڈیا گروپ کے مالک اور ایڈیٹر کو نشانہ بنانے کو انتقامی کارروائی اور صحافت پر حملہ ہی کہا جائے گا۔
فردوس عاشق اعوان نے میر شکیل الرحمان کو سیٹھ قرار دے کر یہ پھبتی بھی کسی ہے کہ ’سیٹھ کی گرفتاری آزادی صحافت پر حملہ نہیں ہوسکتی‘۔ سوشل میڈیا پر اسی مؤقف کو جنگ و جیو گروپ کے مالک کے طور پر صحافیوں کے خلاف میر شکیل الرحمان کے ’جرائم‘ کی فہرست شائع کرکے پیش کیا جارہا ہے اور پوچھا جارہا ہے کہ درست رپورٹنگ پر صحافیوں کو نوکری سے نکالنے یا انتقام کا نشانہ بنانے والا کیسے صحافی ہوسکتا ہے۔ ایسے مباحث میں دو مختلف معاملات کو ایک دوسرے سے ملاکر مطلوبہ نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اصولی طور پر یہ بات درست ہے کہ میڈیا ہاؤس کا مالک ایڈیٹر نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کے مالی معاملات کا صحافت سے کوئی تعلق ہونا چاہئے۔ لیکن پاکستان کی معروضی صورت حال اس کے برعکس ہے۔ تمام میڈیا مالکان اپنی مطبوعات اور نشریات کے خود ہی ایڈیٹر ہیں۔ جب تک صحافی اور ان کی تنظیمیں اس غلط طریقہ کو ختم کرنے کی مہم نہیں چلاتیں اور اس میں کامیاب نہیں ہوتیں ، اس وقت تک کسی بھی شخص کو مالک کے طور پر ایڈیٹر بننے پر ’غیر صحافی‘ قرار دینا ممکن نہیں ہے۔
نیب جب ملک کے ایک بڑے میڈیا ہاؤس کے مالک کے خلاف کارروائی کرتا ہے اور پھر پریس ریلیز میں اس میڈیا ہاؤس کے چینلز پر نکتہ چینی کی جاتی ہے یا مکالمہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسری طرف پیمرا اچانک جیو ٹی وی کی نشریا ت کو متاثر کرنے کے لئے کیبل آپریٹرز پر دباؤ ڈالنا شروع کردیتاہے اور عسکری رہائشی کالونیوں میں جیو کی نشریات روکنے کا آغاز ہوجاتا ہے تو میر شکیل الرحمان کی حراست کو صرف ایک فرد کے خلاف نیب کی جائز کارروائی قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی یہ عمل مبنی بر انصاف ہو سکتا ہے۔ اس تصویر کو تمام پہلو ؤں سے دیکھا جائے تو حکومت ، نیب اور پیمرا مل کر میر شکیل الرحمان کو شہید صحافت بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
میڈیا مالک کے طور پر میر شکیل الرحمان کی غلطیوں اور ’مظالم‘ کا حساب ضرور ہونا چاہئے لیکن یہ احتساب کرنے کا استحقاق نیب کے پاس نہیں ہے۔ نیب کے ہاتھوں میر شکیل کی گرفتاری اور حکومت و دیگر ریاستی اداروں کی جنگ و جیو گروپ کے خلاف حکمت عملی، ملکی صحافت کو دباؤ میں لانے کی بھونڈی کوشش کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1461 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *