انسانیت کا خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کارل مارکس کے فلسفے کے نامکمل سے نفاذ نے روس کو چند دہائیوں میں ہی علم کی ترقی دی اور روس کو تلوار سے خلائی راکٹ کے دور تک پہنچا کر ایک سپر طاقت بنا دیا۔ آج بھی ہم مغرب کے جن ’سکینڈے نیوئین‘ ممالک کے فلاحی نظام کی مثالیں دیتے ہیں وہاں بھی سوشل ازم کے جزوی نفاز کی وجہ سے ہی یہ ممکن بنایا جا سکا۔ جبکہ اسلامی نظام آنحضور کی رحلت کے بعد صرف تیس سال تک ہی قائم رہ سکا، اور اس کے بعد بدترین ملوکیت کی شکل اختیار کر گیا جو اب تک عالم اسلام میں جاری ہے۔

دراصل اسلامی نظام شخصیات کا مرہونِ منت ہے۔ اگر تو کو ئی نیک شخصیت برسراقتدار آجائے تو کچھ بہتری دکھائی دینے لگتی ہے۔ ورنہ پوری اسلامی تاریخ میں نظام نے کبھی ریاست اور اس کے عوام کو عملی سہارا نہیں دیا۔ یہ نظام شخصی تشریح کا محتاج رہا۔ دوسرے اسلام میں حکمران کے انتخاب کے لئے کسی واضح قرآنی ہدایت کی عدم موجودگی میں حکمران کی طرف سے نامزدگی یا طاقت کے استعمال کی ہی مثالیں موجود ہیں۔ پچھلے بارہ سو سال میں اسلامی فلاحی نظام جو کہ خود کار قانون اور طریقے سے کام کرے، کی عالم اسلام میں ایک بھی مثال موجود نہیں۔ بلکہ ہمارے اہل علم ذہنی افلاس کے درجے پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ اسلامی نظام کے نفاز کے لئے حجاج بن یوسف جیسے کسی ظالم اور غاصب کی تلاش میں ہیں جو آ کر ڈنڈے اور جوتے کے استعمال سے سب کچھ درست کر دے۔

جہاں یہ ’ٹولز‘ ہدایت دینے کے آلات سمجھے جائیں وہاں کسی نظام کے نفاذ کی بات کرنا ایک مذاق ہے۔ دنیا کی تاریخ میں ہر قسم کے نظام حکومت کے تجربہ کر لئے گئے ہیں اور کہیں بھی مذہبی طرز حکومت کامیاب نہیں رہا، بلکہ معاشرے میں ظلم اور جاہلیت کا سبب بنتا رہا ہے۔ جنرل ضیا ء کے بارے میں واقعہ مشہور ہے کہ انہوں نے جماعت اسلامی کے اسلامی معاشی نظام کے عالم محترم پروفیسر خورشید صاحب کو سود سے پاک اسلامی اقتصادی نظام کی قابل عمل شکل تشکیل دینے کا کام دیا۔ پروفیسر صاحب چند ماہ تک لگے رہے، پھر خاموشی سے کنارا کر گئے۔ اب محترم پروفیسر صاحب سرمایہ دارانہ نظام کے دارالحکومت امریکہ میں رہائش پزیر ہیں۔

سوشل ازم انسانوں کے دنیاوی مسائل اور ان کے حل کاذمہ دار کسی غیر مرئی طاقت کو نہیں ٹھہراتا بلکہ حکومت پر یہ صریح ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ ان مسائل کے حل کی مکمل ذمہ داری لے اور اس کے لئے دستیاب وسائل اور معلومات کا درست اور ذمہ دارانہ استعمال کرے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں عملی انسانی مسائل کا حل تکنیکی (انجینئرنگ) اپروچ کی مدد سے حل کیا جائے اور ان کی ذمہ داری یا حل کسی غیبی یا غیر مرئی طاقت پر نہ ڈالی جائے۔

ہمارے ترقی نہ کرنے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم دنیاوی مسائل کو روحانی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور روحانی مسائل کو مادی طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یا تو ہم تمام ذمہ داری خدا پر ڈال کر انتظار کریں کہ وہ اپنے وعدے ایفا کرے کیونکہ غریب کو اسی نے غریب بنایا ہے اور بھوکے کو رزق دینا بھی اسی کی ذمہ داری ہے یا خود کو خدا کا نمائندہ یا خلیفہ سمجھتے ہوئے عملی طور پر اللہ کے مکمل مینڈیٹ کے ساتھ ان انسانی مسائل اور غیر انسانی ماحول کی بہتری کے لئے منظم کوشش کی جائے۔

یہی سوشل ازم ہے کہ چاہے اللہ کے نمائندے کی حیثیت سے ہی کریں یہ مسائل ہم نے ہی دستیاب علم اور تکنیکی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوے، خود ہی حل کرنے ہیں۔ نہیں تو انتظار فرماتے رہیں اور وضو کے ذریعے کرونا وائرس کا علاج فرماتے رہیں۔ جب تک اللہ اپنی رحمت سے ہمارے لئے جدید ترین سہولتوں کے حامل ہسپتال، رہنے کے لئے محفوظ مکانات اور بہترین سڑکیں نہ تعمیر کر دے اور کھیتوں میں گندم کے بجائے (کیونکہ اسے کاٹ لینے کے بعد کافی انسانی کوشش کے بعد کھانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے)، براہ راست آٹا بلکہ پکی ہوئی روٹیاں لگا کریں۔ انار جو قدرت کا تحفہ ہے غربا کو مفت خدائی تحفہ کے طور پر حاصل ہوا کرے۔ کیا کہا یہ خواب ہے؟ تو اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کر کے کس نے یہ بات شروع کی تھی؟ جب خواب ہی دیکھنے ہیں تو ذرا بہتر دیکھیں، روایتی خواب نہ دیکھیں۔

جی ہاں حکمران کے طریقہ انتخاب اور ادارہ غلامی، ہماری درخشاں اسلامی تاریخ کے ایسے تابناک پہلو ہیں جن کی آب و تاب سے آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ حضرت ابو ذر غفاری کے ساتھ روا رکھے جانے والا سلوک بھی اہل عقل اور مساوات کے علمبرداروں کے لئے چشم کشا ہے۔ باقی تاویلات سے ہر ناممکن کو ممکن ثابت کرنا تو بہت آسان ہے۔ لیکن تاویلات کے بل پر ایک بھوکے کو یہ یقین نہیں دلایا جا سکتا کہ اس کا پیٹ بھرا ہوا ہے۔ اگر تو ہماری اسلامی تاریخ دنیا میں خلفائے راشدین کے ادوار کے بعد ایک بھی عملی مثال قائم کر سکی ہوتی تو ہم بھی آج فخر سے دنیا کا سامنا کر سکتے۔

سوشل ازم اپنے وقت سے کافی پہلے سامنے آ گیا ہے۔ اس کے نفاذ کے لئے بنی نوع انسان ابھی تیار نہیں ہے۔ زنجیروں جو وطنیت، مذہب، تعصبات کی شکل میں نوع انسانی اور اس کے اذہان کو جکڑے ہوئے ہوں۔ ان زنجیروں کی موجودگی اور آس پاس پھیلی ہوئی نظریاتی تیرگی کے ماحول میں کسی مثبت حرکت یا کچھ درست تناظر میں دیکھ سکنے کی گنجائش نہیں ہے۔ ذرا اس دنیا کا تصور فرمائیں جو سرحدوں سے ماورا، تمام بنی نوع انسان کی فلاح (دنیاوی ) اور بہبود کی انسانی مساوات کی بنا پر حامل ہو۔

دنیا میں جتنی رقم ہتھیاروں کی تیاری، اور ان کو ذخیرہ کرنے کے لئے خرچ کی جاتی ہے اس کے ایک تہائی حصے سے ساری دنیا میں انسانیت کی تمام بنیادی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ لیکن اس مقصد کی راہ میں بنیادی رکاوٹ وہ عناصر ہیں جو دنیا کی دولت کے غالب حصے کو غصب کئیے بیٹھے ہیں اور اپنی اس بے رحمانہ اور عریاں استحصالی کاوشوں کو دنیا میں کہیں وطنیت، کہیں مذہب اور کہیں تعصب اور نفرت کی بنیاد پر انسانوں کو تقسیم اور من الحیث انسانیت کی ذمہ داریوں سے اغماز کے رویوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔

اب یا تو اس ظالمانہ اور استحصالی نظام کے خاتمے کے لئے ہزاروں سال کے ارتقا کے سست عمل کا انتظار کیا جائے یا آگے بڑھ کر بنی نوع انسانی کا شعور اور ضمیر ان استحصال کرنے والی طاقتوں، مملکتوں اور گروہوں کو للکارے اور اس پوری دنیا کو ہر قسم کی نفرت، تقسیم، تعصب سے پاک کر کے نسل انسانی کے لئے ایک قابل رہائش جگہ بنا دیا جائے۔ علامہ اقبال نے شاید اسی خیال کے پیشِ نظر وطنیت کو دور حاضر کے بتوں میں سے سب سے بڑا بت قرار دیا تھا اس بڑے بت کے آس پاس اور بھی بت پڑے ہیں جن کو ابراہیم کی طرح پاش پاش کئیے بغیر انسانیت فلاح نہیں پا سکتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply