کرونا وائرس اپنی موت مر جائے گا ، تب تک احتیاط کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس اب پوری دنیا کا ایک ہی موضوع بن چکا ہے. وہیں اس کے بارے میں ابھی پاکستان میں سوشل میڈیا اور عام گپ شپ میں دو رائے بن چکی ہیں. ایک تو وہ حضرات جو کرونا کے بارے میں پڑھ پڑھ کر ہلکان ہو چکے ہیں اور مسلسل احتیاطی تدابیر کر رہے ہیں اور دوسروں کو تلقین کر رہے ہیں. دوسرے وہ جو اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ موت سے نہیں ڈرتے اور جو رات قبر میں آنی ہے، وقت سے پہلے مرنے کی ضرورت نہیں کے ڈائیلاگ دُہرا رہے ہیں. کون ٹھیک اور کون غلط ہے سے پہلے میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ میں پہلے والوں میں شامل ہوں.

دنیا کہ بڑے بڑے Epidemiologists ایپیڈیمولوجسٹس کمپیوٹر ماڈلنگ کے بعد یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی ویکسین دریافت نہ ہوئی تو کرونا تقریباً  دنیا کی ساٹھ سے ستر فیصد آبادی کو متاثر کرے گا جس کے بعد یہ خود ہی ختم ہو جائے گا کیونکہ ہر شخص میں اس کے خلاف مدافعت پیدا ہو جائے گی اور باقی تیس سے چالیس فیصد افراد اس لئے بچ جائیں گے کہ ان کے ارد گرد ایسے افراد ہوں گے جو اس کے خلاف مدافعت رکھتے ہوں گے. کرونا کے مہلک ہونے کے بارے میں مختلف شماریات سامنے آ رہی ہیں اور یہ زیادہ عمر کے لوگوں کو زیادہ متاثر کر رہا ہے.

چین کے شہر ووہان میں یہ 3.4 فیصد مہلک تھا جبکہ باقی چین میں یہ ایک فیصد سے بھی کم تھا. جنوبی کوریا جس نے بہت زیادہ لوگوں کو ٹیسٹ کیا ہے، اس میں یہ 0.7 فیصد تھا لیکن اٹلی اور ایران میں یہ پانچ فیصد سے اوپر مہلک ثابت ہو رہا ہے.

اس کی وجہ یہ نہیں کہ اس علاقے کے لوگوں کا مدافعتی نظام کمزور ہے بلکہ اس علاقے میں اچانک مریضوں کی تعداد بڑھ جانے سے ہر مریض کا علاج نہیں کیا جا سکا. مرض کی شدت کے دوران مریض کو نظام تنفس بحال رکھنے والی مشین وینٹیلیٹر درکار ہوتی ہے لیکن ایک انار، سو بیمار کے مصداق ڈاکٹروں کو یہ فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے کہ کس کو مشین دی جائے اور کَس کو اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے کہ اگر تو بغیر مشین کے ٹھیک ہو سکتا ہے تو ہو جائے ورنہ اللہ کو پیارا ہو جائے، اس کے علاوہ دوسرے قسم کے انفیکشن بھی ہو جاتے ہیں اور اگر مریض کو ہسپتال بھر جانے کی صورت میں جگہ ہی نہ ملے اور گھر میں صحیح علاج نہ ہونے کی صورت میں وہ کرونا سے نہیں بلکہ کسی اور انفیکشن سے وفات پا جائے جو کہ قابل علاج تھا.

اب بات آتی ہے احتیاطی تدابیر کی اور جب ساٹھ سے ستر فیصد آبادی کو لگنا ہی ہے تو ڈر کر زندگی کیوں گذاری جائے، کیوں نہ آخر وقت تک کھل کر جیا جائے. لوگ سکول بند ہونے کے بعد سیر و تفریح پر نکل پڑے ہیں کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے. لیکن اس طرح کی وبا میں خاص طور پر وہ جو وائرس سے پھیلتی ہے، یہ ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ فعل ہے کیونکہ وائرس کو ایک میزبان چاہیے جس کی مدد سے وہ اپنی افزائش نسل کر سکے اور مزید لوگوں کو شکار کر سکے.

آپ شاید جوان ہیں اور آپ شاید بہت زیادہ بیمار بھی نہ ہوں تو ڈر کس بات کا؟ لیکن ڈر اس بات کا کہ آپ وائرس کو مزید پھیلانے میں مدد دے رہے ہیں اور کوئی بوڑھا یا بیمار آپ کے جسم میں بننے والے وائرس سے شکار بن جائے گا. آج نہیں تو روز قیامت تو سب کچھ آشکار ہو جائے گا کہ کون کس کی زیادتی کا شکار ہوا تھا.

چلیں یہاں تک بھی ٹھیک ہے لیکن اگر میں نے جلد یا بدیر بیمار ہونا ہی ہے اور اس بوڑھے نے مرنا ہی ہے تو پھر تو یہ قدرت کا فیصلہ ہے پھر احتیاط سے کیا حاصل؟

اس میں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ آگر یہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے تو ہسپتال علاج نہیں کر پائیں گے اور شرح اموات بہت بڑھ جائیں گی. جس نے عام حالات میں اس وائرس سے نہیں بھی مرنا تھا وہ مر جائے گا. تو یہ قدرت کے ساتھ آپکا بھی فیصلہ ہے کہ گھر میں رہ کر اپنے ساتھ معاشرے کو بھی بچایا جائے یا پھر وائرس کی دونوں طرح سے مدد کی جائے. یعنی کے پھیلنے اور مہلک ہونے میں. اگر انفیکشن آہستہ پھیلے گا تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ویکسین کی تیاری میں مزید وقت مل جائے گا اور کچھ لوگ جنہوں نے علاج کے باوجود مر جانا تھا، وہ بھی بچ سکیں گے.

اس لئے ایپیڈیمولوجسٹ حضرات سوشل ڈیسٹینسنگ یا معاشرتی فاصلہ پر زور دے رہے ہیں. اس سے آگے بھی نظام ناکام ہو رہے ہیں کہ کفن دفن بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے. ایران میں اجتماعی قبریں کھود کر چونے سے بھر کر لاشیں دفن کی جا رہی ہیں، اٹلی میں لاشیں گھروں میں گل سڑ رہی ہیں اور ووہان میں انفیکشن کی شدت میں خصوصی ٹیمیں اطلاع ملنے پر گھر سے پلاسٹک میں لاش لپیٹ کر لے گئے اور گھر والوں کو بعد میں کچھ پتہ نہ چلا کہ کیا بنا.

ایک اور بات بھی کہی جا رہی ہے کہ گرمیوں میں یہ وائرس مر جائے گا لہذا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں. اگر ایسا ہوا تو ہمیں کچھ وقت مل جائے گا لیکن بقول سائنسدانوں کے، اس بات کا تعین کرنا ابھی قبل از وقت ہے. ابھی تو اس وائرس کی پہلی گرمیاں آ رہی ہیں. اگر ہم نے معاشرتی فاصلہ رکھ کر اس کو آہستہ نہ کیا اور گرمی نے اس پر اثر نہ کیا تو پھر کیا کریں گے. آج تو پھر بھی ہاتھ دھونے اور فاصلہ رکھنے سے کچھ بچت ہو جائے گی لیکن آگ اگر مکمل طور پر پر بھڑک اٹھی تو بجھنے سے پہلے بہت کچھ جلا دے گی.

اب یہ بات دلائل سے واضح ہو چکی ہے کہ معاشرتی فاصلہ کی مدد سے اس پر قابو پانا ممکن ہے اور چین نے یہ کر دکھایا ہے. یقیناً اس چیز کی ایک بہت بڑی معاشی قیمت ہے جہاں بے شمار لوگ روزگار سے رہ جاتے ہیں اسلئے فی الحال حکومت یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی کہ وہ کون سا بہترین وقت ہے جب کم سے کم معاشی نقصان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے لیکن اس چیز کے انتظار میں نہ رہیں کہ ہم گھر تب بیٹھیں گے جب کرفیو لگے گا بلکہ خود سے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں. کرونا کو مجموعی طور پر شکست صرف معاشرتی فاصلہ قائم کر کے دی جا سکتی ہے لہذا احتیاط کریں، اپنے لئے، قوم کیلئے.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *