دو آسکر ایوارڈ جیتنے والی پاکستان کی بیٹی: شرمین عبید چنائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

26 فروری 2012 پاکستان کے لئے ایک تاریخی دن کی حیثیت رکھتا ہے کہ جس دن اکیڈمی ایوارڈ کی تاریخ میں ایوارڈ حاصل کرنے والوں کی فہرست میں پہلی بار ایک پاکستانی عورت کانام بھر پور تالیوں کی گونج میں پکارا گیا۔ ”بہترین شارٹ دستاویزی فلم“ سیونگ فیس ”کے لیے شرمین عبید چنائے“۔ روایتی پاکستانی لباس پہنے ریڈ کارپٹ پر محوِ خرام فخر سے اپنا ایوارڈوصول کرتے ہوئے شرمین نے اپنے والدین، دوستوں اور ساتھی کام کرنے والوں کا شکریہ اداکرنے کے بعد اپنے ایوارڈ کو ان تمام پاکستانی خواتین کے نام کیا کہ جو معاشرتی تبدیلی کے لیے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے ان سے مخاطب ہو تے ہوئے کہا کہ ”اپنے خوابوں سے کبھی مایوس نہ ہوں“۔ بلا شبہ یہ ایوارڈ شرمین کی گیارہ سالہ مسلسل جدوجہد اور لگن کا نتیجہ تھاجو انہوں نے مردوں کے سماج میں حقوق اور انصاف کی بالا دستی کے لیے کی۔ اور ثابت کیاکہ ”اگر لگن سچی ہو تو سب ممکن ہے“۔

شرمین کی جستجو اور لگن کا یہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ ان کی دوسری دستاویزی فلم ”اے گرل ان دی ریور: پرائس آف فورگیونس“ بھی 2016 میں اکیڈمی کی حقدار قرار پائی۔ اس طرح دو آسکرایوارڈز کا حاصل کرنا وہ بھی بطور عورت کوئی معمولی بات نہ تھی۔

شرمین کا تعلق کراچی، پاکستان کے ایک ردشن خیال پڑھے لکھے گھرانے سے ہے۔ 1978 میں بیگم اور جناب عبید چنائے کے گھر جنم لینے والی شرمین پانچ بہنوں میں سب سے بڑی ہیں (اسکے علاوہ ان کا ایک بھائی بھی ہے ) ۔ ان کے گھرانے میں والدین نے کبھی جنس کی بنیادپر رویے میں تفریق نہیں کی۔ کراچی گرامر اسکول سے تعلیم یافتہ شرمین کا کہنا ہے کہ میرے والدین نے ہمیشہ میرا سا تھ دیا۔ انہوں نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والدین کے سر باندھا، جنہوں نے انہیں اعلی تعلیم کے لیے اسمتھ کالج (مسسچیوسٹ، یو ایس اے ) بھیجا۔

جہاں سے انہوں نے اکنامکس اور پولیٹیکل سائنس میں بیچلرز کیا اور بھر اسٹنفرڈ یونیورسٹی سے انٹر نیشنل پالیسی اسٹیڈیز ( 2003 ) اور کمیونیکیشن ( 2004 ) میں ایم ایس کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران و ہ بحیثیت صحافی اخبار کے لیے مضامین لکھتی رہیں۔ تاہم ستمبر 2001 کے بعد انہیں لگا۔ ”میں (جو کہنا چاہتی ہوں ) پوری طرح بیان نہیں کرسکتی ہوں ’“ لہٰذا کہانیوں کو بصری شکل دینے کے لیے شرمین نے ضروری سمجھا کہ پرنٹ جرنلز م یا اخباری صحافت کے بجائے فلمسازی کاشعبہ اختیار کیا جائے۔ آج کی دنیا میں رسائی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ دستاویزی فلم ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اپنی تعلیم ختم ہونے کے بعد شرمین نے یہ سوچ کر وطن واپسی کا فیصلہ کیا کہ جس جگہ نے اتنا کچھ دیا ہے اسے لوٹانا فرض ہے اور یوں بھی پاکستان کو پڑھے لکھے لوگوں کی ضرورت ہے۔

فلمسازی کا شرمین کو ہرگز کوئی تجربہ نہ تھا۔ مگر انہوں نے انٹرنیٹ پر معلومات حاصل کرکے اس کی ابتدا کا بیڑا اٹھایا اور اس طرح شرمین نے 2002 میں نیویارک ٹائمز ٹیلی ویژن کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ اس وقت وہ اسٹنفر یونیورسٹی میں محض طالبہ تھیں۔ ان کی پہلی فلم ”ٹیرارائز چلڈرن“ تھی۔ جو پاکستان میں پناہ لینے والے افغان مہاجرین بچوں پر تھی۔ اس فلم انہیں کافی ایوارڈز ملے، جیسے اوور سیزپریس کلب ایوارڈ، ساؤتھ ایشین ایسوسی ایشنایوارڈ وغیرہ۔ اس فلم کی تکمیل کی لیے اسمتھ کالج اور نیویارک ٹائمز ٹیلی ویژن پروڈکشن ڈویژن نے نہ صرف گرانٹ دی بلکہ مشینیں اور فلمسازی کی تربیت بھی دی۔

شرمین کی ذہانت، بہادری اور جراتمندی کا اندازہ ان کے موضوعات کے انتخاب سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثلا سعودی عرب کے متعلق ”وومن آف دی ہولی کنگڈم، چلڈرن آف دی طالبان۔ دی لوسٹ جنریشن، پاکستان میں ہیجڑوں کی زبوں حالی، کینڈا کی نیٹیو امریکن عورتیں، سویڈن کے مسلمان وغیرہ جیسے بولڈ اور مشکل موضوعات۔ شرمین کی آسکر ایوارڈ یافتہ دوسری دستاویزی فلم جو ناموس کے نام پہ قتل جیسے موضوع پہ بنائی گئی اپنے تیئں ایک چیلنج تھا۔

ان پر امریکی ایجنٹ ہونے سے لے کر اپنے ملک کی عزت کو خاک ملانے والی فلم میکر کے طعنے ملے مگر انہوں نے ان سب کی پرواہ نہ کرتے ہوئے سماج میں تبدیلی کا خواب اوراپناتخلیقی سفر جاری رکھا۔ ان کی بیشتر فلموں کو اعلیٰ ایوارڈز کا حقدار قرار دیا گیا اور ان فلموں کوسی این این، چینل فور اور پی بی ایس جیسے مشہور ٹی وی چینلز نے پیش کیا۔

2010 میں شرمین کی دستاویزی فلم ”پاکستان کی طالبان نسلیں“ کو ایمی ایوارڈ ملا جوایک اہم کامیابی تھی۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ عین اسی دن اس پر مسرت خبر کو سننے سے پہلے ان کے والد کا انتقال ہوگیا جو اس یقین کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہوے کہ شرمین کو یہ ایوارڈ مل چکا ہے۔ حالانکہ اس وقت تک اس کا اعلان نہیں ہوا تھا۔

افغانستان سے متعلق ان کی دستاویزی فلموں کی دلچسپی کی وجہ بتاتے ہوے انہوں نے کہا تھا کہ ”تیس سال سے اس ملک کا جو حال ہے اس میں افغانستان کا اپنا جو بھی ہاتھ ہو لیکن دوسرے ملکوں کا بھی ہاتھ ہے۔“

ان کی آسکر ایوارڈ کی حقدار فلمیں موضوعات کے اعتبار سے ہمارے طاقت اور محکومی اور غیر منصف سماج پہ حملہ ہیں۔ جہاں مردوں کی بالا دستی اور عورتوں کے حقوق کی پامالی ہے۔ سیونگ فیس میں مردوں کے اس کریہہ عمل کو بے نقاب کیا گیا جس میں عورتوں کے چہرے پہ تیزاب پھینک کر اسے بے چہرہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کی دوسری دستاویزی فلم ”اے گرل ان دی ریور: پرائس آف فورگیونس“ میں ناموس کے نام پہ قتل کرنے والے بہیمانہ عمل کو چیلنج کیا گیا ہے۔

باوجود اس کے کہ یہ صورتحال تکلیف دہ اورمایوس کن ہے شرمین کی فلمیں رجائی پہلو کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔ سیونگ فیس میں گو دوعورتوں رخسانہ اور زکیہ پہ تیزاب پھینک کر انہیں زندہ درگور کرنے کی کوشش کی گئی مگر یہ یو۔ کے کے پاکستانی سرجن محمد جواد کی کاوشوں کی بھی کہانی ہے جنہوں نے تیزاب سے جھلسی عورتوں کی پلاسٹک سرجری کا بیڑہ اٹھایا۔ یہ کہانی ہے سیاستدانوں کے اسمبلی میں تیزاب پھینکنے والوں کے خلاف قانون کی منظوری کی۔ اپنے آسکر کے متعلق ان کا کہنا ہے ”آسکر کا ملنا اس بات کی گواہی ہے کہ پاکستانی کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ہمارے تمام مسائل کے باوجود ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو تبدیلی لانے کی کوشش کررہے ہیں“۔

شرمین کی کاوشوں کا سفر جاری ہے۔ آج کل وہ ایک ایمینیٹٹ animated فلم Sitara: let girls dream بنا رہی ہیں۔ جو ایک چودہ سالہ پری کے کہانی ہے جس کا خواب پائلٹ بننا ہے مگراس کے باپ نے اس کی شادی کم عمری میں ہی طے کردی ہے۔ اس طرح فلم بچپن میں دلہن بننے والی کم عمری کی شادی کو چیلنج کرتی ہے۔ یہ فلم ہی نہیں ایک تحریک ہے۔ یاد رہے کہ سالانہ بارہ ملین بچہ دلہنوں کے خواب سفر نہیں کر پاتے۔ یہ پاکستان کی پہلی اینیمیٹٹ فلم ہے جو عالمی سطح پہ پیش کی جائے گی۔

اس سے قبل ان کے ادارے ”وادی“ نے تھری بہادر ( 2015 ) کے نام سے بھی ایک اینیمیٹٹ فلم بنائی تھی۔ جبکہ عالمی سطح پہ ریلیز ہونے والی ستارہ کو ہم نیٹ فلیکس پہ 2020 میں دیکھ سکیں گے۔ اس فلم کو بھی ”وادی اینیمیشن اسٹوڈیوز“ میں دوبین الاقوامی اداروں کے تعاون سے تیار کیا جارہا ہے۔ ”وادی“ کو شرمین نے تین سال قبل کراچی پاکستان میں قائم کیا جس کی وہ سی ای او ہیں۔ شرمین کے ایوارڈز کی لمبی فہرست ہے (جس کو انٹر نیٹ پہ دیکھا جا سکتا ہے ) جن میں سات ایمی، دو آسکر کے علاوہ حکومت پاکستان کی جانب سے ”ہلال پاکستان“ ( 2012 ) شامل ہے۔ شرمین پاکستان کی تاریخ کا اہم نام ہیں جن کی زندگی کا فلسفہ ہے کہ ”ہار نہ مانو، اگر کوئی نہیں کہے تو اس کو ہاں میں تبدیل کرنا ہے۔ “

(شرمین کی شادی فواد کمال چنائے سے ہوئی ہے اور ان کے دو بچے ہیں۔ )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *